یاماہا YBR 125 بمقابلہ روڈ پرنس ویگو 150 سی سی

ybrVSwego-featureimage

اگر کسی نے یاماہا YBR 125 اور یاماہا YBR 125G کا مقابلہ کرنے کی ہمت کی ہے تو وہ صرف روڈ پرنس ویگو 150 سی سی ہے۔ گو کہ روڈ پرنس کا نام ایسا نہیں جس پر لوگ آسانی سے 1 لاکھ 80 ہزار روپے خرچ کریں۔ اس کے لیے کسی منفرد اور خاص بات کا ہونا بہرحال ضروری ہے۔ پاکستان میں دستیاب دیگر موٹر سائیکل دیکھن کے بعد میں یہی کہوں گا کہ ویگو 150 سی سی کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر آپ اس موٹر سائیکل کو خریدنا نہیں بھی چاہتے تو ایک بار اسے ضرور چلا کر دیکھیں، اگر مزہ نہ آئے تو پیسے واپس!

مجھے روڈ پرنس ویگو 150 سی سی چلانے کا موقع ملا جس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اس کا موازنہ یاماہا YBR 125 سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ دونوں مارکیٹ میں نوآموز ہیں اور سوائے انجن مختلف ہونے کے علاوہ ان میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ لہٰذا اگر آپ نئی موٹر سائیکل خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ایک بار اس مضمون کو ضرور پڑھیں۔

انداز

مجموعی انداز کی بات کریں تو دونوں ہی خوبصورت ہیں اور ہونڈا سی جی 125 اور ہونڈا 125 ڈیلکس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ البتہ روڈ پرنس ویگو 150 سی سی کا انداز بالکل اسپورٹس بائیک جیسا ہے جبکہ YBR 125 کا انداز کچھ کچھ اسپورٹس بائیک سے ملتا ہے۔ اونچائی میں ویگو 150 سی سی اپنے مدمقابل کے سامنے چند انچ چھوٹی ہے لیکن اسپورٹس بائیک کے شوقین افراد کی نظر سے دیکھیں یہ زیادہ دلکش اور خوبصورت نظر آتی ہے۔

آواز

ابتداء میں YBR کے صارفین کو سائلینسر میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے YBR 125 سے متعلق بہت سی شکایات درج کروائی گئیں۔ یاماہا نے اس شکایت کو دور کرنے میں بہت محنت اور پھرتی دکھائی لیکن اس کے باوجود روڈپرنس 150 سی سی کی زبردست آواز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ویگو 150 سی سی کی آواز اور گھن گھرج YBR 125 کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور میں اس زمرے میں روڈ پرنس کو ہی فاتح قرار دوں گا۔

سہولت

ویگو 150 سی سی اپنے اسپورٹی انداز کی وجہ سے کچھ زیادہ آرامدہ نہیں ہے خاص طور پر اگر آپ موٹر سائیکل چلانے والے کے پیچھے بیٹھے ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ پیر رکھنے کی جگہ اور سیٹ کی غیر معمولی اونچائی ہے جس سے بیٹھنے والے کا آگے کی طرف جھکاؤ بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں YBR میں یہ مسائل نہیں اس لیے آپ اس پر باآسانی ڈبل سواری سفر کرسکتے ہیں۔

کارکردگی

جیسا کہ میں نے اپنے پچھلے مضمون میں ذکر کیا ، روڈ پرنس ویگو 150 سی سی کی کارکردگی میری توقعات سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔ میں نے 10 منٹ مسلسل بائیک چلائی اور مجھے ایسی سہولت، رفتار اور انجن پہلے کبھی نہیں ملا۔ صرف تیسرے گیئر میں بائیک نے 85 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو چھوا اور انجن میں کوئی لرزش محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس YBR کے صارفین نے تیز رفتاری کے دوران کافی مسائل کی نشاندہی کی ہیں۔

گیئر باکس

یاماہا YBR اور روڈ پرنس ویگو 150 دونوں میں 5 اسپیڈ گیئر لگائے ہیں جو ایک جیسے طریقے ہی سے کام کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار عام موٹر سائیکل کے مقابلے میں کچھ مختلف ہے وہ ایسے کہ پہلا گیئر آپ کو نیچے کی جانب لگانا ہوگا اور پھر باقی گیئر اوپر کی جانب لگیں گے۔ دونوں موٹر سائیکلوں میں گیئر کا معیار ایک سا ہی ہے البتہ YBR کے چند صارفین کا کہنا ہے چوتھے اور پانچویں گیئر کے درمیان انہیں موٹر سائیکل بند ہونے کی شکایات ہوچکی ہیں۔

معیار

ویگو 150 سی سی کی آمائشی سواری کے بعد جو سوال زیادہ پوچھا جاتا ہے وہ ہے موٹر سائیکل کے پرزوں اور ان کے معیار سے متعلق۔ اگر آپ اس حوالے سے دونوں موٹر سائیکل کا موازنہ کریں تو جیت YBR 125 ہی کی ہوگی۔ گو کہ مجھے YBR 125 کا معیار بھی مثالی نہیں لگتا لیکن ویگو 150 سی سی کے سامنے بہت بہتر معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لیے ویگو کو مزید کام کرنا ہوگا کیوں کہ لوگ صرف خوبصورتی اور انجن ہی پر نہیں جاتے بلکہ مضبوطی بھی دیکھتے ہیں۔

روڈ پرنس ویگو 150 سی سی کی تصویری جھلکیاں

یاماہا YBR 125 کی تصویری جھلکیاں

Shaf Younus

I'm an Auto Enthusiast, a Student of Computer Science and above all, Citizen of Pakistan.

  • Saleem Ullah Malik

    اسلام علیکم بھائی کیسے ہیں آپکا مضمون پڑھا حیرانگی ہوئی کہ آپا ایک انٹرنیشنل برانڈ جس کو امریکہ سے جاپان تک موٹر سائیکل ٹیکنا لوجی معیار پائیداری مضبوتی ہر طرح سے اعلی اور نمبر ون ھے یاماہا کے کسی بھی برانڈ کا لوکل بائیک اسمبلر سے مقابلہ کرنا روڈپرنس جیسی آٹو اسمبلر کو لوگوں تک پہنچانا ہے دنیا کے کتنے ممالک میں یاما ہا جاپان کے اپنے پلانٹ ہیں جہاں ایک نٹ سے لیکر تمام پرزہ جات تیار ہوتے ہیں اس لیے یاماہا کے ہر بائیک بہترین ہے ybr 125ایک انٹر نیشنل بائیک ہے جو کتنے ہی ممالک میں دہوم مچا رہی ہے اب اللہ پاک کے فضل سے پاکستان میں لانچ ہوا ہے اس بائیک کا روڈ پرنس کے ایک لوکل برانڈ سے موازنہ کرنا یاماہا کی توہین ہے روڈ پرنس کے پلانٹ میں کوئی پارٹ ان کا اپنا بنایا ہوا نہیں

  • Jahanzeb Baloch

    Saleem bhai I agree with u. But jis terha k claim Yamaha me nikal rahe hain us se ye sabit ho raha hai k ye internation name zaroor hai but brand nahi hai. Mere apne city me meri aankho k samne 2 yahama k engine seaz huy hain. Or mujhe ye dekh k bohat herangi hui k wo dono bikes abhi 1000km b nahi chali thi. Or speed ki agr baat ki jay to ye meri bike Ravi Piaggio 125 se b zeyada nahi bhaagti halan k Ravi Piaggio ka weight 120 kg hai. Aap kaise keh sakte hain k pakistani yamaha Japan se ban ke as rahi hai.? It’s totally wrong. Ye Karachi me ban rahi hai uthal k mokaam pe jaha pehle wali yahama daood group bnata tha. Or ye baat theek hai k road prince reliable nahi hai. But is model k liye ye kehna kabal az waqt hai.

  • Mian Sabahatullah

    SAleem milaa huwa ha…..

  • Yasir

    When will we get rid of carburator in bikes?

  • Ali

    Bhai engine assemble ker rhy haen , Pakistan maen nhe ban rha

  • Arfeen

    Suzuki 150 Gs is better than both bikes
    Price power style no compare.

Top