بینیلی اور کیوے موٹر سائیکل کے پہلے شوروم کا قیام

عام طور پر پاکستان میں گاڑیوں کے شوروم ہی زیادہ دیکھے جاتے ہیں تاہم اس بار حیران کن طور پر بینیلی اور کیوے موٹر موبائیکس کا شوروم نظر آیا جو اب سے چند روز قبل ہی کھولا گیا ہے۔ اس طرز کے شوروم کے افتتاح نے مجھ سمیت کئی لوگوں کو حیران کردیا۔ اس سے قبل فیس بک پر کسی پروگرام سے متعلق چہ مگوئیاں سنی گئی تھیں تاہم مجھے توقع نہ تھی کہ جوہر ٹاؤن (لاہور) میں بینیلی اور کیوے موٹرسائیکلوں کا شوروم کھلنے جا رہا ہے۔ بہرحال، موقع ملتے ہی میں نے اس کا دورہ کرنے کا سوچا اور ایک روز وہاں جا پہنچا۔

بینیلی اور کیوے موٹر سائیکلوں کے شوروم پر موجود جب ایک نمائندہ سے جب میں نے سوال کیا کہ انہوں نے دھوم دھڑکے سے افتتاح کرنے کے بجائے چپ چاپ آغاز کرنے کا فیصلہ کیوں کیا تو ان کا جواب تھا کہ جون میں بینیلی اور کیوے موٹر سائیکلوں کی پاکستان میں باضابطہ پیش کش پر انہوں نے کافی سرمایا خرچ کیا تاہم اس بار ہم نے قدرے مختلف حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں بینیلی اور کیوے موٹرسائیکلیں متعارف کروا دی گئیں

فی الوقت یہ بینیلی اور کیوے موٹرسائیکلوں کا واحد شوروم ہے جو لاہور ہی میں بائیکس کی فروخت کر رہا ہے تاہم ادارے کی جانب سے ملک کے دیگر شہروں میں بھی شورومز کے قیام پر غور و خوص جاری ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ہمیں پہلے شوروم کے قیام کے بعد ہی سے بہت اچھا ردعمل ملا ہے کیوں کہ لوگ ہماری مصنوعات سے متعلق کافی مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آنے والے مہینوں میں اپنے دیگر شورومز سے متعلق بھی اعلانات کریں گے۔

اس وقت پاکستان میں دو طرز کی موٹر سائیکلیں پیش کی جارہی ہیں۔ ان میں سے ایک بینیلی TNT 25 ہے جس کا 1-سلینڈر 250cc انجن 6-اسپیڈ ٹرانسمیشن کے ساتھ 25 بریک ہارس پاور اور 21.5 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ جبکہ دوسری بائیک کیوے RKS150 اسپورٹ ہے جس کا 1-سلینڈر 150cc انجن 12 بریک ہارس پاور اور 11 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کیوے RKS150 اسپورٹ سے متعلق ادارے کا دعوی ہے کہ یہ موٹر بائیک 1 لیٹر میں 45-50 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔

ابتداء میں کیوے RKS150 اسپورٹ کے دو ماڈل اسپورٹ-GS اور اسپورٹ-CG پیش کیے گئے تھے تاہم جب مجھے علم ہوا کہ ادارہ CG ماڈل فروخت نہیں کر رہا تو میں نے اس سے متعلق سوال ادارے کے ڈائریکٹر کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے اس بارے میں بتایا کہ کیوے RKS150 اسپورٹ کا CG ماڈل ایشیائی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے جبکہ GS ماڈل خاص طو رپر یورپی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تاہم دونوں ماڈلز کو فروخت کرنے سے قبل ہم پاکستانی مارکیٹ کا رجحان دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا وہ کونسے انجن اور معیار کو ترجیح دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ CG ماڈل کی قیمت 10 ہزار روپے زیادہ ہے اسی لیے ہم فی الحال اسے فروخت نہیں کر رہے۔

اب بات کرتے ہیں شوروم میں موجود موٹر سائیکلوں کی۔ اگر مجھے سے پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ دونوں موٹر سائیکلیں بینیلی TNT25 اور کیوے RKS150 کافی خوبصورت ہیں اور انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ ظاہری انداز سے یہ موٹر سائیکلیں اتنی دلکش ہیں کہ بہت سی بائیکس میں اپنا منفرد مقام بناسکتی ہیں۔ بدقسمتی سے میں کسی موٹر سائیکل کو چلانے سے قاصر رہا اس لیے پیچیدہ تکنیکی معاملات پر اپنی رائے محفوظ رکھنا چاہوں گا۔

یہ بھی پڑھیں: یاماہا YBR 125 اور YBR 125G ماہانہ اقساط پر بھی دستیاب!

ان دونوں موٹر سائیکلوں کی قیمتیں 1 لاکھ روپے کی نفسیاتی حد سے زیادہ ہیں اور جب میں نے ادارے کے نمائندے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو انہوں نے جواباً کہا کہ وہ سِلک بینک اور الفلاح بینک کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں اور امید ہے کہ مستقبل قریب میں ہمارے صارفین دیگر طریقوں سے بھی موٹر سائیکلیں حاصل کرسکیں گے۔

آخر میں بینیلی اور کیوے موٹر سائیکل متعارف کروانے والے ادارے کے سربراہ سے میں حکومت کے رویے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ موجودہ آٹو-پالیسی سے نئے سرمایہ کاروں کے لیے بہت سے مواقع پیدا ہوچکے ہیں۔ انہوں نے CBUs پر عائد کی جانے والی ڈیوٹی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب نئے سرمایہ کار ٹیکس میں دی گئی رعایت کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے شعبے میں بہتری کی توقع ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے 90-100 یونٹس کی درآمد سے مارکیٹ رجحان کا اندازہ لگانے کی حکمت عملی بھی کافی سازگار ہے اور اس سے مستقبل قریب میں مزید اسپورٹس بائیک کی دستیابی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=70a6nXriwFc

Exit mobile version