سنہری ریت کے بلند ٹیلے پر گزری ایک یادگار مسحورکن سنہری شام ۔۔۔۔ IMG_5316.jpg800x600 44.3 KB IMG_5320.jpg800x600 44.4 KB IMG_5321.jpg800x600 40.5 KB IMG_5322.jpg800x586 51.6 KB IMG_5323.jpg800x600 46.2 KB
ٹیلے پر کچھ اور تصویریں ۔۔۔۔ IMG_5334.jpg800x600 58.5 KB IMG_5335.jpg800x600 33.9 KB IMG_5337.jpg800x600 34.5 KB IMG_5338.jpg800x600 54.7 KB IMG_5339.jpg800x600 30.5 KB
بلند سنہری ٹیلےکو الوداع کہہ کر چلے تو سورج اس کی اوٹ سے نکل کر سامنے آگیا۔ اسلام کوٹ قریب آیا تو موبائل کے سگنل بھی آنا شروع ہوئے۔ راستے میں ایک جگہ ٹہر کر اپنے دوست کو فون کر کے اسلام کوٹ کے قریب پہنچنے کی خبر دی۔ وہ سہ پہر سے مسسلسل ہم سے رابطہ کر نے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ ہم سہ پہرسے مغرب تک صحرا کے حسن بلا خیز میں گم مختلف جگہوں کی خاک چھانتے پھر رہے تھے، موبائل کے سگنل ہی نہ تھے ، سگنل ہوتے بھی تو ہمیں موبائل کی طرف دیکھنے کا ہوش ہی کہاں تھا۔ اس بار انہوں نے اسلام کوٹ میں کسی دوسرے گیسٹ ہائوس کا پتہ بتایا کہ جہاں ہمیں پہنچنا تھا۔ ان سے بات کر کے موبائل کانوں سے ہٹایا ہی تھا کہ آنکھیں شاہراہ کے بائیں طرف ایک اچھوتے نظارے پر جم گئیں۔ مغرب کی طرف اترتا سورج ایک ٹیلے کے اوپر موجود جھاڑی کے درمیان قدرتی طور پر بنے خوبصورت دل نما دریچے سے ہمیں جھانکتا تھا۔ یہ خوبصورت منظر کیمرے میں محفوظ کیا اور آگے بڑھے۔ IMG_5340.jpg800x600 36.6 KB IMG_5341.jpg800x600 41.3 KB
اسلام کوٹ کے قریب تر پہنچے تو غروب آفتاب کا وقت بالکل قریب آگیا۔ سڑک کے بائیں طرف دور دکھائی دیتے صحرائے تھرکے ٹیلوں میں سونے کی طرح چمکتا سورج خوبصورت نارنجی اورگلابی روپ دھارتا تھا۔ آسمان اور ریگزاروں میں شام کے سائے گہرے ہوتے تھے۔ لمحہ بہ لمحہ حسین رنگوں میں ڈھلتے سورج کےغروب ہونے تک ہم سڑک کنارے کھڑے رہے۔ اسی دوران موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ ہمارے دوست پھر کچھ پریشان تھے کہ ہم اب تک اسلام کوٹ کیوں نہ پہنچ پائے۔ میں نے جواب دیا ۔ بھائی تاخیر میں ہمارا کوئی دوش نہیں، کیا کریں کہ تمہارے خوبصورت نگر کے رنگ جا بجا ہمیں اپنا اسیر بنالیتے ہیں۔ IMG_5343.jpg800x600 42.6 KB IMG_5344.jpg800x448 23.2 KB IMG_5345.jpg800x600 37.2 KB IMG_5346.jpg800x600 22.5 KB IMG_5347.jpg800x600 22.9 KB
اسلام کوٹ کے قریب صحرائے تھرپارکر میں غروب آفتاب کے کچھ اور حسین مناظر ۔۔۔ IMG_5349.jpg800x600 23.7 KB IMG_5350.jpg800x600 23.3 KB IMG_5351.jpg800x600 23.7 KB IMG_5352.jpg800x600 37.5 KB IMG_5353.jpg800x600 28.6 KB
کچھ ہی دیر میں ہم اسلام کوٹ پہنچ گئے۔ گیسٹ ہائوس کے سامنے وہ ہمارے منتظر تھے۔ گیسٹ ہائوس کا نام سٹی گیٹ تھا ،ہمیں اس نام سے فوراً گلگت یاد آگیا کہ2014 اور 2015 کے دونوں سفروں کے دوران ایک ایک شب ہم نے اس گیسٹ ہائوس کے ہم نام ہوٹل میں ہی قیام کیا تھا۔کل اسلام کوٹ پہنچے تھے تو ہمیں نگرپارکر پہنچنے کی جلدی تھی ،ہمارے دوست بھی مٹھی سے اسلام کوٹ پہنچے تھے، بہت مختصر ملاقات ہو پائی تھی۔ آج وہ ہمارے ساتھ کچھ دیر تک کمرے میں بیٹھے۔ گیسٹ ہائوس کے مالک سے بھی ملاقات ہوئی، پھر ہمارے دوست کے ایک عزیز ساتھی بھی ہم سے ملنے آئے۔ ہمارے دوست نے رات کو قصبے سے کچھ فاصلے پرموجود کسی ہوٹل میں ہمارے ساتھ ڈنر کا پروگرام طے کر رکھا تھا۔ رات 8 بجے تک ہمیں تیار رہنے کا کہہ کر وہ رخصت ہوئے۔اسلام کوٹ کے قریب ایک اونٹ سے ملاقات ۔۔۔ IMG_5354.jpg800x600 56.2 KB
آٹھ بجے کے بعد ہم ان کی گاڑی میں ڈنر کے لئے نکلے، راستے سے انہوں نے اپنے ایک عزیز دوست کو بھی ساتھ لیا۔ قصبے کی رونق سے نکل کر مٹھی کی طرف جاتی شاہراہ پر روانہ ہوئے۔ سڑک کے اطراف ریت کے ٹیلوں پر رات کی سیاہی اتر آئی تھی۔ سڑک پر چھائے گہرے سناٹےمیں صرف ہماری گاڑی دوڑتی تھی۔ تقریباً 5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ شاہراہ کے بائیں کنارے پر دور کچھ روشنیاں سی جگمگاتی نظر آئیں ۔ قریب پہنچے تو گویا ویرانے میں بہار آگئی۔ سڑک کے بالکل ساتھ بہت سے کنٹینرز سجے تھے جن کے ساتھ لگی لائٹیں اس مقام پر پھیلی گہری تاریکی کو چیرتی تھیں۔ IMG_5364.jpg800x600 43.9 KB IMG_5362.jpg800x600 38.5 KB
کنٹینرزکی سامنے والی لوہے کی چادروں میں بڑے بڑے شیشے فٹ کرکے کھڑکیا ں بنادی گئی تھیں ، ایک لمبے سے کنٹینر پر ڈیپارٹمنٹل اسٹور جبکہ ایک اور کنٹینر پر ریسٹورنٹ لکھا تھا۔دونوں کنٹینرز کے درمیان سے ایک راستہ ان کے عقب میں موجود بہت سے کنٹینرز کی طرف لے جاتا تھا۔روشنی کا تو بہترین انتظام تھا ہی ، ہر کنٹینر میں دو یا تین ائر کنڈیشنربھی لگے ہوئے تھے۔ہمارے دوست نے بتایا کہ یہ ایس ضیا الحق اینڈ سنز (ایس زیڈ ایس) نام کی کمپنی کی ملکیت کئی کنٹینرز پر مشتمل اچھے خاصے رقبے پر پھیلا بڑا ہوٹل ہے کہ جس میں تھر کول فیلڈ میں کام کرنے والے چینی انجینئرز ،کول فیلڈ کا دورہ کرنے والے سرکاری افسران اور مختلف وفود کے لئے کھانے پینے کا بہترین انتظام اور رہائش کیلئے پر آسائش کمرے تک موجود ہیں۔ IMG_5363.jpg800x600 41.4 KB IMG_5365.jpg800x600 47 KB IMG_5366.jpg800x600 57.4 KB IMG_5367.jpg800x600 51.9 KB IMG_5368.jpg800x600 41.9 KB
ایس زیڈ ایس فیسی لٹیشن سینٹر میں داخل ہوئے تو لگا کہ جنگل میں منگل کا سماں ہو، کھانے کے لئے انتہائی وسیع اور خوبصورت ڈائننگ ہال غالباً دو یا تین کنٹینرز کو ایک ساتھ جوڑ کر بنایا گیا تھا جو کہ اپنی سجاوٹ ،خوبصورتی اور فراہم کی گئی سہولتوں، آرام دہ میز کرسیوں اور معیار کے لحاظ سے پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کے فور اسٹار ہوٹل سے کم نہ تھا۔ قصبے کی آبادی سے دورلق ودق صحرا کے بیچ اتنا بہترین اورلاجواب ہوٹل بلاشبہ ایک حیرت کدہ تھا۔اسلام کوٹ کے قریب اس حیرت کدے میں ہمیں پیش کئے گئے ڈنر کی ہرڈش بھی انتہائی لذیذ ، خوش ذائقہ اور معیاری تھی۔ صحرائے تھر کے حسن کی نیرنگیوں میں اس ہوٹل کے دلکش رنگ دیکھ کر ہم دنگ ہوتے تھے۔ اس حیرت کدے میں اپنے میزبان دوست کی جانب سے انتہائی پر تکلف ڈنر پر ہم ان کے شکر گزار تو تھے ہی ، آ ج صحرائے تھرکی پورے دن کی تفریح کے بعد کنٹینرہوٹل کے اس حیرت کدے کی سیر کرا نے پر دل کی گہرائیوں سے ان کے احسان مند بھی تھے۔ IMG_5355.jpg800x600 87.2 KB IMG_5357.jpg800x600 95.6 KB IMG_5360.jpg800x600 76.2 KB
گیسٹ ہائوس واپس پہنچے تو ہم نے انہیں بتایا کہ صبح سویرے فجر کے بعد ہم یہاں سے روانہ ہو جائیں گے، لیکن وہ اپنے گھر میں ناشتہ کئے بغیر ہمیں اسلام کوٹ سے روانگی کی اجازت دینے پر تیار نہ ہوئے۔ مجھے گزشتہ سال کے سفر کے دوران لاہور میں اپنے دوست نعمان شیخ یاد آگئے کہ لاہور میں ایک شب ہم ان کے گھر مقیم تھے، انہوں نے بھی ہمیں بغیر ناشتہ کئے فجر کے فوراً بعد وادی سون سکیسر کے لئے نکلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ آج ایک بار پھر ہم اپنے ایک میزبان دوست کی محبتوں کے آگے مجبور تھے۔گیسٹ ہائوس خاصا بڑا تھا لیکن آج شب پورے گیسٹ ہائوس میں صرف ہم ہی مقیم تھے، گیسٹ ہائوس میں رات کے وقت ایک ہی ملازم تھا ،وہ بھی شاید ہماری واپسی کے انتظار میں یہاں رکا ہوا تھا۔ گیسٹ ہائوس کے مین دروازے کی چابی ہمارے حوالے کر کے وہ بھی یہ کہتا ہواچلا گیا کہ آپ صبح اپنے دوست کے گھر چابی دیتے ہوئے چلے جائیے گا ۔رات کو بستر پر لیٹا تو اچھی خاصی تکان کے باوجود نیند آنکھوں میں فوراً نہ در آئی ۔سردیوں کی اس خوشگوارشب دیر تک صحرائے تھر کے خوشنما رنگ خیالوں میں تصویر کشی کرتےرہے۔ سوچ اچانک ان ریگزاروں میں بدلتے موسموں کے رنگوں میں کھو گئی ۔ برسات کے دنوں میں کالی گھٹائوں کے برسنے کا تصور کیا تو اس زرخیز صحرا میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی اور سبزرنگ پھیل گئے۔ کارونجھر کے پہاڑوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے، گنگناتی ندیاں چٹانوں کی بلندیوں سے اترکر ریتیلے میدانوں کے بیچ بہتی ہوئی کہیں چھوٹے چھوٹے ڈیموں کو لبالب بھر تی تھیں تو کہیں ریت کے ٹیلوں کے درمیان بنے قدرتی تالابوں میں بارش کا پانی جمع ہوجاتا تھا، تھر باسیوں کے چہرے کھل اٹھتے تھے، ان کی کھیتیاں سیراب ہو کرلہلاتی تھیں، بھیڑ بکریاں ،گائیں ،اونٹ اور دیگر جانور غول در غول کسی ڈیم یا تالاب کنارے اکٹھے ہو کر اپنی پیاس بجھاتے اور ریت کے ٹیلوں اور میدانوں میں پھیلی گھاس چرتے پھرتے تھے، نگرپارکر کی سرخ چٹانیں نہا دھو کر اپنی سجاوٹ اور سرخی میں مزید نکھار لاتی تھیں۔ کہیں کسی ریگزار میں مورخوشی سے رقص کرتےتھے۔ ساون کے موسم کی چند بھرپور بارشیں تھر باسیوں کے لئے پورے سال تک خوشیاں بکھیر دیتی تھیں ۔دماغ میں اچانک ساون کے کچھ بانجھ موسموں کا خیال سرسرایا کہ جب کچھ برس قیامت بن کر آتے ہیں، ان ریگزاروں سے بادل بنا برسے گزر جاتے ہیں ، ذہن میں تپتے ہوئےصحرا کی جھلسا دینے والی ریت کے بگولے سے اٹھے، کہیں یہاں کے باشندوں کو پانی کے ایک ایک قطرے کی تلاش میں بھٹکتے دیکھا تو کہیں پیاسے جانوروں اور موروں کے پنجر ریت کے ٹیلوں پر بکھرے پڑے دیکھے۔ دیکھا کہ بیماریوں ،بھوک ، پیاس ، قحط اور غربت و افلاس کے عفریت نے اس عظیم صحرا کو جکڑ رکھا ہو۔ دل بہت کڑھا اور اداس ہوا۔ صحرا میں امڈتی کالی گھٹائوں اور ساون کی جل تھل سے تھر باسیوں کے چہروں پر چمکتی آسودگی اور ان کی بستیوں میں رنگ بکھیرتی خوشحالی اور پھر اچانک تیور بدلتے موسموں کی بے رخی ، تپتی ریت پر آگ برساتے سورج کی ہولناکی اور خونخوار پنجے گاڑتی خشک سالی کے روح فرسا تصور سے میری سوچ کی ڈور الجھتی تھی ، ذہن اسی خطے اور اسی صوبے کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا تھا، کبھی ان ریگزاروں کے بیچ جا بجا سوکھی جھاڑیوں کی باڑھ میں چھپی گول گول چھپروں والی چند جھونپڑیوں میں جا پہنچتا تو کبھی بڑے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کی ہزاروں ایکڑ پر تاحد نظر پھیلی زمینوں ، بڑی بڑی پر آسائش حویلیوں اور محلوں کا رخ کرتا۔ سوچتا تھا کہ کارونجھر کی وادیوں میں پائے جانے والے گرینائٹ کے سرخ قیمتی پتھر وہاں کے مفلوک الحال باسیوں کے حالات بدلنے کے بجائے نہ جانے کس کی نذر ہوگئے ، کارونجھر کے پہاڑوں کی کالی دھاریاں مجھے اسی غم اور سوگ میں باندھی گئی سیاہ پٹیوں کی صورت نظر آتی تھیں۔ذہن میں خدشہ سر ابھارتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ صحرائے تھر کے سینے میں مدفون سیاہ سونے کے ڈھیروں خزانے بھی اس عظیم صحرا میں ترقی و خوشحالی اورتھر باسیوں کی کٹھن زندگی میں بہتری نہ لا پائیں اور یہ بےچارے صرف تھر کول فیلڈ کیلئے تعمیر کردہ شاندار شاہراہ کو دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتے رہیں۔ میرے ذہن کے پردے پر اچانک آج شام کو سنہری ریت کے بلند ٹیلے کے پاس اس شاندار شاہراہ کی چڑھائی چڑھتی لکڑیوں سے لدی گدھا گاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے تھر کے باسی کا پسینے میں شرابور اور تھکن سے چور چہرہ ابھر آیا ، بے اختیار دل سے دعا نکلی کہ اے میرے رحیم و کریم رب تھر کے کوئلے کے یہ ذخائر اس صحرا کے باسیوں کیلئے ایسی بھرپورخوشحالی اور بے مثال ترقی کا باعث بنیں کہ میں کبھی آئندہ اس بلند ٹیلے کے پاس پہنچوں تو اسی گدھا گاڑی والے کو تیری بیش بہا نعمتوں سےلدی پھندی کسی بہترین پک اپ میں بلند ہوتی شاہراہ پر انتہائی شاداں و فرحاں اپنے گھر کی جانب رواں دواں دیکھوں کہ ۔۔۔طارق امید بس خدا سے ہے وہ خزاں کو بہار کرتا ہےصحرائے تھر کے ان دو دنوں کے سفر کے دوران کچھ خوشی اور سکون کا احساس ہوتا تھا تو مختلف جگہ لگے ہوئے آر او پلانٹس ، پانی کا ذخیرہ کرنے والے چھوٹے بڑے ڈیمز اور ریگزاروں کے بیچ سے گزرتی اس شاندار شاہراہ کو دیکھ کر، لیکن اس عظیم صحرا کے باسیوں کی فلاح و بہبود ، ان کے لئےضروریات زندگی کی بآسانی دستیابی کے ساتھ ساتھ اس پسماندہ خطے کی ترقی اورمستقبل کی معمار نئی نسل کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ دل دکھی ہوتا تھا کہ قدرتی آفات بے شک اپنی جگہ لیکن تھر کے باسیوں کو ہر دوسرے یا تیسرے سال پڑنے والے قحط کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے تاحال کوئی جامع منصوبہ بندی اور احسن حکمت عملی کیوں نہ مرتب کی جاسکی۔قدرت کے بیش بہا رنگوں سے مزین صحرائے تھر کے باسیوں کی ہمت ،حوصلہ اور بڑاپن ہے کہ وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی جینا جانتے ہیں ، یہاں اجناس کی فصلیں نہ بھی لہلہائیں ، تو بھائی چارے، ہم آہنگی ،خلوص ، یگانگت ، رواداری ،محبتوں اور چاہتوں کی فصلیں ہر موسم میں لہلاتی رہتی ہیں۔ IMG_5369.jpg800x600 66.7 KB IMG_5370.jpg800x600 60.1 KB
۔۔ 19 نومبر 2016صبح 7 بجے گیسٹ ہائوس سے نکلے اور اپنے دوست کے گھر پہنچ گئے۔ اسلام کوٹ میں آج کی صبح خاصی خنک تھی۔ ناشتے میں دیگر لوازمات کے ساتھ گھر کا تازہ مکھن ،باجرے کی روٹی،دیسی گھی اور خالص شہد بھی موجود تھا۔ ہمیں بالکل ایسا لگا کہ صحرائے تھر اور ہمارے دوست کی محبتوں اور چاہتوں کے ڈھیر سے رنگ دسترخوان پر سج گئے ہوں۔صبح سویرے اسلام کوٹ کا سنسان بازار ۔۔۔۔ IMG_5371.jpg800x600 68.8 KB IMG_5372.jpg800x600 65.2 KB IMG_5373.jpg800x600 81.8 KB دوست کے گھر کے سامنے ۔۔۔ IMG_5374.jpg800x600 28.4 KB IMG_5375.jpg800x600 44.3 KB IMG_5376 - Copy.jpg800x689 99.3 KB
اسلام کوٹ سے کراچی پہنچ کر شام کو دفتر بھی پہنچنا تھا اس لئےان کے گھر زیادہ وقت نہ گزار سکے۔ ہم ان کی مہمان نوازی کے بے شمار رنگوں اور محبتوں کا خزانہ سمیٹ کر روانہ ہونے لگے تو ایک خوبصورت شال ہماری نذر کرکے انہوں نےاس خزانے میں ایک اور دلکش و ناقابل فراموش رنگ اور چاہت کا اضافہ کر دیا۔ IMG_5380.jpg800x600 59.8 KB
ہم ریگزاروں کےدرمیان صبح کی خوشگوار ٹھنڈ میں شاہراہ کے دونوں اطراف بکھرے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زیادہ تیز رفتاری سے سفر نہیں کر رہے تھے کہ اسلام کوٹ اور مٹھی کے درمیان ہمارے دوست کی کار ہمیں پیچھے چھوڑتی ہوئی آگے نکل گئی۔ مٹھی بائی پاس کے چوک تک وہ ہم سے آگے ہی رہے، انہوں نے ہمارے لئے اپنی رفتار کچھ آہستہ کی تو ہم نے ان کی خاطر کچھ تیزکی۔ مٹھی شہر میں داخل ہونے سے قبل وہ ٹہر گئے، میں نے بھی گاڑی روکی ، اتر کر ان سے ایک بار پھر الوداعی مصافحہ کیا ۔صحرائے تھر کے اختتام سے کچھ قبل سڑک کنارے کھڑی ایک شرمیلی مورنی ہمیں الوداع کہتی دکھائی دی۔ گاڑی جوں ہی اس کے قریب پہنچی ، اس نے تیزی سے سڑک سے اتر کر قریب موجود جھاڑیوں کا رخ کیا۔ گاڑی روک کر کیمرہ ہاتھ میں لئے میں تیزی سے اتر کر ان جھاڑیوں تک گیا۔ اس کی ایک جھلک جھاڑیوں کے قریب نظر آئی ، گردن اٹھا کر اس نے بھی ایک نظر مجھے دیکھا، لیکن کیمرے کے کلک سے پہلے ہی اس نے تھری خواتین کی طرح اپنا چہرہ جھاڑیوں کے بڑے سے آنچل میں چھپا لیا ، جو تصویر کھنچی اس میں وہ نہ تھی۔میں ان جھاڑیوں کے قریب تک گیا، سڑک سے نیچے اتر کر مورنی کی محبت میں جھاڑیوں کا باقاعدہ طواف کیا۔ بسیار کوشش کے باوجود تھر کی مورنی نے پھر اپنا دیدار نہ کرایا تو واپس گاڑی میں بیٹھی اپنی مورنی کی طرف پلٹ آیا۔وہ جھاڑیاں کہ جن میں مورنی پردہ نشیں ہوگئی ۔۔۔ IMG_5381.jpg800x600 84.6 KB
دس بجے سے قبل ہی ونگو موڑ پر پہنچے، شادی لارج کے قصبے کے درمیان سے گزرتے ہوئے بدین بائی پاس سے نکلے، پھر گولارچی کے قصبے کے نسبتاً بڑے اور بارونق بازار کے بیچ سے گزرتی سڑک سے ہوتے ہوئے 12 بجے سے قبل ہی سجاول بائی پاس تک پہنچ گئے۔ IMG_5382.jpg800x600 43.3 KB IMG_5383.jpg800x600 58.8 KB شادی لارج کے قصبے سے گزرتے ہوئے ۔۔۔ IMG_5384.jpg800x600 73.7 KB
دریائے سندھ کا پل عبور کر کےسوا12 بجے کے قریب ایک ہوٹل پر چائے پینے کے لئے رک گئے۔ دوپہر ہوجانے کی وجہ سے دھوپ میں تپش کچھ بڑھ گئی تھی۔ ساڑھے 12 بجے کے بعد یہاں سے روانہ ہوئے۔ ٹھٹھہ بائی پاس سے مکلی کے قریب نیشنل ہائی وے پر پہنچنے تک سفر بہت تیزی سے بھی طے ہوا تھا اور ٹریفک بھی برائے نام ملا تھا۔ یہاں سے کراچی کا فاصلہ بہت زیادہ نہ تھا لیکن سڑک کی خراب حالت ، ٹریفک کے اژدہام ، بعد ازاں لانڈھی سے راشد منہاس روڈ تک شاہراہ فیصل اور اس پر موجود فلائی اوورز کے تعمیری کام اور جگہ جگہ ٹریفک جام کی وجہ سے گھر پہنچتے پہنچتے گھڑی سہ پہر کے 3 بجا چکی تھی۔ صبح اسلام کوٹ سے نکل کر صحرائے تھر کے سناٹوں میں سفر کرتے ہوئے دوپہر کو مکلی پہنچنے تک سفر انتہائی خوشگوار تھا، ہم بھی طویل سفر کے باوجود خود کو تازہ دم محسوس کرتے تھے، مکلی کے بعد اور پھر لانڈھی کے بعد شہر کی حدود میں داخل ہوتے ہی شہر کی جعلی رونقوں اور بدترین ٹریفک جام کی کٹھنائیوں نے صرف دو گھنٹوں کے سفر کے دوران ہمیں انتہائی کوفت میں مبتلا کرکے اعصاب کو ایسا مضمحل کیا کہ کراچی پہنچتے ہی دل پھر پکارتا تھا۔۔۔آئو کہ کہیں دور چلیں ۔۔۔شہر کی وحشتوں اور آلودگیوں سے دور ۔۔۔صحرائے تھر کے خوبصورت سناٹوں کی قربت میں ۔۔کارونجھر کے دامن میں بکھری شفاف چاہتوں کے حصار میں ۔۔۔۔۔ IMG_5385.jpg800x600 44 KB IMG_5386.jpg800x600 61.1 KB IMG_5387.jpg800x600 66.1 KB IMG_5389.jpg800x600 58.1 KB
شمالی علاقوں کے میرے 2014 کے سفرنامے کا پاک وہیلز پر لنکhttps://www.pakwheels.com/forums/road-trips-vacations-hiking-trekking/237539-23-days-gb-astor-skardu-hunza-khunjrab-babusar-naran-nathyagali-lahore-karachi
شمالی علاقوں کے 2014 کے سفرنامے کے بلاگ کا لنک www.awtkhan.blogspot.com
زبردست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Masha ALLAH aap ka blog bohot achha and tafsili hae.
سب احباب کی محبتوں پر بہت شکرگزار
Sir jee kamaal kar dia aap nay, bas eik shikwa hai apsay, woh 2 safarnamay bhi becharay kuch thanday par gayay hain. Thora mehraan ko gear lagain.