نان-کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیاں خریدنا آپ کے لیے مناسب ہے یا نہیں؟

0 37 475

T

یہ پاکستان میں نان کسٹم پیڈ ‏NCP) ) گاڑیاں خریدنے کے حوالے سے ایک معلوماتی پوسٹ ہے۔ اسے حوالے سے لوگوں کے بہت سے سوالات ہیں اور وہ ‏NCP گاڑیوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔

ہم نے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کسٹمز محمد زاہد کھوکھر سے انٹرویو میں آپ کے ان تمام سوالات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کے عوام کے لیے ‏NCP بڑا پُرکشش لفظ ہے اور وہ ایسی گاڑیاں خریدنے پر غور بھی کرتے ہیں۔ اس لیے اس بارے میں آپ کی رہنمائی کے لیے یہ انٹرویو کرنا ضروری تھا۔

سنیل سرفراز منج: کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی ایسا پروسس یا آپریشن موجود ہے جو امپورٹڈ گاڑیوں کے کاغذات کو ویریفائی کرے کہ اس کی ڈیوٹی مکمل طور پر ادا کی گئی ہے یا نہیں؟

محمد زاہد: ہر کسٹم ہاؤس میں، خاص طور پر جہاں سے امپورٹڈ گاڑی کو کلیئرنس ملتی ہے وہاں، ایک ‏AC کار سیکشن ہوتا ہے۔ یہ سیکشن آپ کے لیے امپورٹڈ کار کو ویریفائی کر سکتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ایک باضابطہ سسٹم کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہر کسٹمز ہاؤس میں ایک ‏facilitation سینٹر ہوگا۔ اگر ایسا ہو جائے تو عوام کو کراچی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ اپنے قریبی کسٹمز ہاؤس سے ویریفکیشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔ اس سرٹیفکیٹ پر گاڑی ویریفائی کرنے والے افسر کا نام اور ویریفکیشن کی تاریخ موجود ہوگی۔ یہ سسٹم مستقبل میں لانچ ہونے کے لیے تیار ہے۔

سنیل سرفراز منج: اگر کوئی شخص ‏NCP گاڑی چلا رہا ہے، تو قانون کے مطابق اسے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

محمد زاہد: پہلے تو میں آپ کو یہ بتاؤں کہ ہم کوئی مشتبہ گاڑی کو کیسے پکڑتے ہیں۔ ہمارے پاس تمام گاڑیوں کا رجسٹریشن ڈیٹا ہوتا ہے اور جب ہمیں شک ہوتا ہے کہ گاڑی کی رجسٹریشن میں کوئی مسئلہ ہے، جیسا کہ گاڑی 2016 ماڈل کی ہے اور نمبر 2010 کا ہے، تو ہم اپنے سسٹم میں رجسٹریشن نمبر چیک کرتے ہیں۔ ایسے کیس بھی آ سکتے ہیں کہ رجسٹریشن نمبر موٹر سائیکل کا ہو لیکن اسے لینڈ کروزر پر استعمال کیا جا رہا ہو۔

کبھی کبھی رجسٹریشن نمبر تو جعلی ہوتا ہے لیکن اس گاڑی پر کسٹم ادا ہوتا ہے۔ پھر ہم گاڑی کا چیسی نمبر چیک کرتے ہیں۔ کسٹمز اہلکاروں کے پاس لیپ ٹاپس ہوتے ہیں اور ڈیٹا آن لائن موجود ہوتا ہے۔ وہ آسانی سے اسی جگہ پر چیک کر سکتے ہیں۔ اگر ڈیٹا موجود ہے، پھر اہلکار مالک سے رجسٹریشن ٹھیک کروانے کا کہے گا اور اسے جانے دے گا۔ اگر ڈیٹا موجود نہیں تو دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کار نیلامی میں فروخت شدہ گاڑی ہو سکتی ہے، اور نیلامی کی گاڑیوں کی تمام معلومات بھی آن لائن موجود ہے۔ ‏WEBOC وہ آن لائن ‏repository ہے جو کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے maintain رکھی جاتی ہے۔ اگر ڈیٹا موجود ہو تو گاڑی کو فوری طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ گاڑی کو 2013 میں دی گئی ایمنسٹی اسکیم کے تحت کلیئرنس ملی ہو۔ ایمنسٹی اسکیم کا ڈیٹا بھی آن لائن موجود ہے اور کسٹمز اہلکار گاڑی کا چیسی نمبر بھی چیک کرے گا۔ اگر ڈیٹا موجود ہے تو گاڑی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر گاڑی کی تفصیلات ان تینوں صورتوں میں ظاہر نہیں ہوتی، تو زیادہ تر کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ان کی کسٹمز ڈیوٹی ادا شدہ نہیں ہوتی۔

سنیل سرفراز منج: کیا کسٹمز ڈپارٹمنٹ ‏NCP گاڑی کے مالک کے خلاف ‏FIR درج کرتا ہے؟

محمد زاہد: جی ہاں، سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہمیں ‏NCP گاڑی کے مالک کے خلاف ‏FIR درج کرنا ہوگی۔ اس لیے تاکہ ‏NCP گاڑیاں خریدنے کا ارادہ رکھنے والے دوسرے افراد باز آ جائیں۔ ایک NCP یا اسمگل شدہ گاڑی تمام ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرکے بھی نہیں چھڑائی جا سکتی۔ کسٹمز ڈپارٹمنٹ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک مرتبہ پکڑے جانے کے بعد ‏NCP گاڑی کسی صورت واپس نہیں کی جا سکتی۔ اس گاڑی میں جو بھی پیسہ لگایا جائے گا، وہ ضائع ہی ہوگا۔

سنیل سرفراز منج: آپ نے ایک NCP گاڑی ضبط کر لی کیونکہ مالک نے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا نہ کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ جب آپ اس گاڑی کی نیلامی کرتے ہیں تو، مثال کے طور پر وہ ایک کروڑ کی فروخت ہوتی ہے اور اس گاڑی پر ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی 30 لاکھ روپے ہے، کیا کسٹمز ڈپارٹمنٹ کو باقی 70 لاکھ مالک کو واپس نہیں کرنے چاہئیں؟

محمد زاہد: پہلی چیز ہے اس گاڑی کا فیصلہ کرنا۔ اس گاڑی کے حوالے سے دو کیسز ایک ساتھ چلتے ہیں – ایک اسپیشل جج کسٹمز کے پاس اور دوسرا کلیکٹوریٹ کے adjudicator کے پاس۔ قانون ہمیں مالک کو کسی بھی قسم کی رقم واپس کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ کسٹمز ڈپارٹمنٹ ایک مرتبہ گاڑی حاصل کر لے تو وہ ریاست کی ملکیت بن جاتی ہے۔ اُس گاڑی کی فروخت سے ملنے والے تمام فنڈز سرکاری خزانے میں جائیں گے۔ جس حوالے سے آپ نے اپنے سوال میں بات کی ہے وہ ان کے لیے تو ٹھیک ہے جو اپنی کسٹمز ڈیوٹیز نہیں دے سکتے اور ان کی گاڑیاں پورٹ پر کھڑی ہیں۔ اس صورت میں گاڑیوں کی نیلامی کی جائے گی اور ٹیکسز اور کسٹمز ڈیوٹیز کے بعد بچ جانے والی رقم مالک کو واپس کردی جائے گی۔ لیکن یہ سہولت NCP گاڑیوں کے لیے نہیں ہے، کیونکہ انہیں چلانا غیر قانونی ہے اور جرم ہے۔

NCP گاڑیاں خریدنا بچت یاحماقت؟ نان کسٹم پیڈ – وڈیو (پہلا حصہ)

NCP گاڑیاں خریدنا بچت یاحماقت؟ نان کسٹم پیڈ – وڈیو (دوسرا حصہ)

سنیل سرفراز منج: ایک شہری کی حیثیت سے وہ کون سی ذمہ داریاں ہیں جو فراڈ سے بچنے کے لیے شہریوں کو کوئی بھی گاڑی خریدنے سے پہلے ذہن میں رکھنی چاہئیں؟

محمد زاہد: ہر گاڑی کے ساتھ اس کی دستاویزات ہوتی ہیں کہ جن کی آپ تصدیق کر سکتے ہیں۔ مقامی طور پر بننے والی گاڑی ہو تو ان کے ساتھ سیلز ٹیکس کی رسیدیں اور دستاویزات ہوتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ گاڑی کس شوروم سے خریدی گئی ہے۔ اگر ایسا ہو تو تصدیق کا عمل مینوفیکچرر کی جانب سے کروایا جا سکتا ہے۔ البتہ امپورٹڈ گاڑیوں کی صورت میں کسٹمز ڈپارٹمنٹ کو اپنے معاملات کچھ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال کوئی ون وِنڈو آپریشن نہیں ہے؛ لیکن اگر کوئی شخص اس گاڑی کی تصدیق کے لیے لیٹر لکھے تو ہم جواب کے ذمہ دار ہیں اور ہم جواب دیں گے بھی۔ پھر ہم اس شخص کو بتائیں گے کہ ہمارے پاس اس گاڑی کی اصل GD ہے اور اسے ایک کوَر لیٹر کے ساتھ تصدیق نامہ بھیجیں گے۔ تاہم، جو رائے آپ نے دی ہے وہ بہتر متبادل ہے۔ ہم اگلے سال قومی سطح پر ایک ون وِنڈو آپریشن شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس آپریشن میں چیزوں کی درآمد و برآمد سے متعلق تقریباً 38 سرکاری ادارے شامل ہوں گے۔ یہ تمام محکمے آخرکار کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی اس ویب سائٹ پر آئیں گے۔ جو بھی تصدیق کروانا یا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اسے باآسانی ویب سائٹ سے حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ویب سائٹ متعلقہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کام کی تکمیل کے لیے درکار دنوں کی بھی وضاحت کرے گی۔ اگر کام اس دوران نہیں ہوتا تو حکامِ بالا اس مسئلے کو حل کریں گے۔ ایک مہینے کے بعد یہ معاملہ وزیر اعظم کے پاس چلا جائے گا اور محکمے کے سربراہ جوابدہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ تمام موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کا بھی WEBOC سسٹم سے منسلک ہونا ضروری ہے۔

سنیل سرفراز منج: مختلف شہروں میں رجسٹریشن کی ڈپلی کیشن سے ڈپارٹمنٹ کیسے نمٹتا ہے؟

محمد زاہد: اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم پاکستان کی تمام موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کو منسلک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ چیسی نمبر اور ڈیوٹی پیڈ گاڑیوں کے ڈاکیومنٹس ایک ہی چیسی نمبر پر کئی گاڑیاں رجسٹر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جو سسٹم ہم تجویز کر رہے ہیں وہ ایک چیسی نمبر کئی بار رجسٹرڈ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ کبھی کبھار جب گاڑی رجسٹریشن کے لیے جاتی ہے تو مالک کو پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلے ہی کسی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ محکمہ پولیس یہ پتہ چلانے میں مدد دیتا ہے کہ گاڑی کے چیسی نمبر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے یا نہیں۔

سنیل سرفراز منج: کسٹمز ڈپارٹمنٹ کا کون سا افسر ہے جو گاڑی روک سکتا ہے؟ کیا کوئی ایسی whistleblower ایپلی کیشن ہے جہاں عام شہری کسی کسٹمز آفیسر کی دھونس دھمکی کے خلاف شکایت درج کروا سکے؟

محمد زاہد: ہم عموماً ایک انسپکٹر اور چار سے پانچ اہلکاروں پر مبنی اسکواڈ رکھتے ہیں۔ ان انسپکٹرز کو لیپ ٹاپس دیے جاتے ہیں اور وہ معلومات تک 24/7 رسائی رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ گاڑی کی رجسٹریشن اور چیسی نمبر چیک کرتے ہیں۔ اگر وہ ٹھیک ہوں تو پھر انجن نمبر چیک کیا جاتا ہے کہ وہ ریکارڈز کے مطابق درست ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اگر انجن تبدیل ہوا ہو، تو مسئلہ ہو سکتا ہے، اور ہمیں گاڑی کو لیبارٹری بھیجنا پڑے گا۔ کسی دھونس دھمکی کی صورت میں نمٹنے کے لیے ہمیں ایک شکایتی مرکز بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم شہریوں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے اپنے افسران کو ہر وقت مہذب رویہ رکھنے کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔

سنیل سرفراز منج: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایسی دھونس دھمکی سے نمٹنے کے لیے کسٹمز اہلکاروں کے لیے ڈیش کیمز اور باڈی کیمرے ضروری ہیں؟

محمد زاہد: فی الحال تو ان کا وجود نہیں ہے، لیکن مستقبل کے لیے یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ اس سے دھونس دھمکی کے دعووں سے نمٹنے اور انہیں کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

سنیل سرفراز منج: عموماً ایک NCP گاڑی پاکستان میں سرحدوں سے داخل ہوتی ہے اور وہاں موجود کسٹمز حکام ایسی سرگرمیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پورا الزام صارفین پر ڈالنا انصاف ہے جبکہ کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی نااہلی اور ناقابلیت کو چھپایا جا رہا ہے؟

محمد زاہد: افغانستان کے ساتھ ہماری 2600 کلومیٹرز طویل سرحد ہے۔ کسٹمز حکام تمام مجاز راستوں پر تعینات ہیں۔ NCP گاڑیاں ان راستوں سے نہیں آتیں۔ البتہ خاردار تاریں لگائی جا رہی ہیں؛ ایسے کئی غیر قانونی راستے ہیں کہ جہاں سے گاڑیاں باآسانی اسمگل کی جا سکتی ہیں۔

سنیل سرفراز منج: کیا آپ ایسی گاڑی کی خریداری کے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ جو کسی سفارت خانے کی ملکیت رہی ہو اور ماضی میں اسے سفارت خانے نے درآمد کیا ہو؟

محمد زاہد: ایک مخصوص وقت جیسا کہ 5 سال کے بعد ان گاڑیوں کی ڈیوٹی ختم ہو جاتی ہے۔ سفارت خانوں کو پاکستان میں اپنی گاڑی فروخت کرنے سے پہلے وزارت امورِ خارجہ اور FBR سے ایک NOC حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ یقینی بنائیں کہ سفارت خانے کی گاڑی اپنے نام پر منتقل کروائیں کیونکہ سفارت خانے کی گاڑیاں چلانے کا مجاز صرف ان کا عملہ ہوتا ہے۔ اگر اس گاڑی پر کوئی بھی ڈیوٹی یا ٹیکس ہے، تو اسے رجسٹر کروانے سے پہلے اسے ادا کرنا ضروری ہوگا۔ آپ کو اسلام آباد کلیکٹوریٹ سے بھی ویریفکیشن مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈیوٹی ادا نہیں ہو سکتی کیونکہ ٹائم پیریڈ پورا نہیں ہوا۔

سنیل سرفراز منج: اگر کوئی شخص نیلام ہونے والی گاڑی خریدتا ہے، تو کیا وہ کہیں سے بھی گاڑی کی تصدیق کر سکتا ہے یا اسے جہاں سے اس نے خریدی ہے وہاں سے کروانا ہوگی؟

محمد زاہد: فی الحال آپ کو اُسی جگہ سے گاڑی ویریفائی کروانا ہوگی جہاں سے آپ نے خریدی ہے۔ ممکنہ طور پر اگلے سال سے آپ اسے پاکستان بھر میں کہیں سے بھی ویریفائی کر سکیں گے۔

سنیل سرفراز منج: 2013ء میں ایک ایمنسٹی اسکیم آئی تھی، اور اگر کوئی شخص ایسی گاڑی خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اسے کون سی ضروری احتیاط کرنی چاہیے؟

محمد زاہد: ایمنسٹی اسکیم کے تحت کلیئرنس حاصل کرنے والی 90 فیصد سے زیادہ گاڑیوں کو کسی مسئلے کا سامنا نہیں۔ مسئلہ تب بنا جب ایمنسٹی اسکیم کے تحت گاڑیاں پاکستان نہیں پہنچیں۔ چند گاڑیاں تو ایسی تھیں جو ایمنسٹی اسکیم کے خاتمے کے بعد ملک میں آئیں۔ ہم اسے جاپان اور کہیں سے بھی آکشن ڈیٹا کے ساتھ کراس چیک کرتے ہیں۔ ایمنسٹی اسکیم 2013ء میں اُن گاڑیوں کے لیے آئی تھی جو پاکستان میں پہلے سے موجود تھیں۔

سنیل سرفراز منج: کیا کوئی ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے عام شہری ان افراد کے حوالے سے شکایت درج کروا سکیں کہ جو NCP گاڑیوں کی تجارت کرتے ہیں اور انہیں کسی ایسے شخص کے بارے میں پتہ چلے جو دوسروں کے ساتھ فراڈ کر رہا ہو؟

محمد زاہد: جی ہاں، کوئی بھی کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے متعلقہ آفس آ کر رپورٹ کر سکتا ہے۔ لوگ ایسا کرتے بھی رہتے ہیں اور ہم اس معلومات کی بنیاد پر چھاپے مارتے اور ان گاڑیوں کا تعاقب کرتے ہیں۔

سنیل سرفراز منج: کیا ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کو بااثر شخصیات کی گاڑیاں لاک کرنے کی کوشش پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

محمد زاہد: پاکستان میں میڈیا بڑے پیمانے پر موجود ہے، جس کی وجہ سے جتنی مشہور شخصیت ہوگی، ان کی جانب سے اتنا زیادہ تعاون کیا جاتا ہے تاکہ وہ میڈیا میں خراب شہرت سے بچ سکیں۔

ہماری طرف سے اتنا ہی، اپنے خیالات نیچے کمنٹس سیکشن میں دیجیے۔ مزید اپڈیٹس اور خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.