ای-چالان سے بچنے کے لیے لاہور میں نمبر پلیٹ ٹمپرنگ میں اضافہ

2 967

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں نمبر پلیٹوں کی ٹمپرنگ اور اُن پر lamination کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ جس کی وجہ سےگاڑیوں کے مالکان ای-چالان سے بچنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق حال ہی میں tampered اور laminated نمبر پلیٹوں کے استعمال کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یوں گاڑیوں کے مالکان پاکستان سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے لاہور میں لگائے گئے کیمروں کی زد میں آنے سے بچ جاتے ہیں۔ PSCA کی جانب سے شہر میں سینکڑوں کیمرے لگائے گئے ہیں کہ جن کی مدد سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ای-چالان جاری کیے جاتے ہیں۔

ای-چالان سسٹم نے صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک قوانین کی پابندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور عوام کو بھی پتہ ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریفک سگنل کی پابندی اور ٹریفک وارڈن کی عدم موجودگی میں حدِ رفتار سے زیادہ پر گاڑی چلانے کے واقعات میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔ لیکن اب دیکھا جا رہا ہے کہ لوگوں نے اپنی نمبر پلیٹوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے ای-چالان سے بچنے کا ایک طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ کچھ لوگ اپنی نمبر پلیٹوں پر lamination کروا رہے ہیں، جس کی وجہ سے PSCA کے کیمرے ان نمبر پلیٹوں کو نہیں پڑھ پاتے۔ 

یہ صورتِ حال سٹی ٹریفک پولیس لاہور، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کی غفلت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ کے علاوہ کسی بھی نمبر پلیٹ کے استعمال پر مکمل پابندی ہے۔

اس کے علاوہ اِن نمبر پلیٹوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ خلافِ قانون ہے۔ ایسی حرکت کرکے نہ صرف ڈرائیور ای-چالان سے بچے گا بلکہ یہ شہر میں سکیورٹی کی صورت حال کے حوالے سے خدشات کو بھی بڑھا رہی ہے۔ یہ laminated نمبر پلیٹیں شہر میں عام فروخت نہیں ہو رہیں کیونکہ یہ غیر قانونی عمل ہے۔ لیکن لوگ کسی نہ کسی طرح بلیک مارکیٹ سے صرف 200 روپے میں یہ lamination شیٹ حاصل کر رہے ہیں۔

PSCA کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ CTP اور E&A ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قرارِ واقعی سزا دے اور یہ کام نگرانی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ 

دوسری جانب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی کام پر نظر رکھنا اُس کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔ ادارے کی ذمہ داری عوام کو کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹیں جاری کرنا ہے۔ اس ضمن میں سٹی ٹریفک پولیس کہتی ہے کہ وہ tampered اور laminated نمبر پلیٹیں استعمال کرنے والے افراد کو سزا دے رہی ہے۔ 

سٹی ٹریفک پولیس کے مطابق وہ گاڑیوں پر غلط نمبر پلیٹس لگانے پر اب تک 75,000 سے زیادہ گاڑیوں کو جرمانے کر چکی ہے۔ 

موجودہ صورت حال میں ٹریفک پولیس کو نہ صرف خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کرنے چاہئیں بلکہ اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی ہونی چاہیے تاکہ دوسرے لوگ اس غلط حرکت کا انجام دیکھ لیں۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہمیں ایسے قانون کی تو ہر گز خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے کہ جس کے نتیجے میں ہماری اپنی حفاظت اور سلامتی خطرے میں پڑ جائے۔ اس رویّے کی حوصلہ افزائی نہ صرف سڑکوں پر حادثات میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھا رہی ہے۔ 

قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے سے بچنے کے لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ ٹریفک قوانین کی پیروی کی جائے۔ ہماری طرف سے اتنا ہی۔ مزید ایسی ہی خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے