کروناوائرس کی وجہ سے پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے پیداوار روک دی

2 530

صوبائی حکومتوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے حالیہ فیصلوں اور کرونا وائرس کے ملک میں تیزی سے پھیلنے کے خدشات نے پاکستان کے آٹومینوفیکچررز کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی پیداوار بند کر دیں۔ یہ ایک اہم قدم لگتا ہے خاص طور پر اگر پاکستان کے آٹو سیکٹر کی موجودہ حالت کو دیکھا جائے کہ جو افراطِ زر، ٹیکس اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ 

تقریباً تمام ہی مقامی اداروں کی گاڑیوں کی فروخت میں بہت زوال دیکھا گیا ہے کیونکہ گاڑیوں کی طلب میں بڑی کمی آئی ہے۔ مندرجہ ذیل بڑے مقامی ادارے ہیں جو اپنے آپریشنز معطل کر چکے ہیں:

  • انڈس موٹر کمپنی (IMC) 
  • پاک سوزوکی موٹر کمپنی (PSMC) 
  • ہونڈا اٹلس کارز پاکستان
  • الحاج-فا موٹرز
  • JW فورلینڈ
  • ماسٹر موٹرز
  • ہیونڈائی نشاط موٹرز
  • کِیا موٹرز
  • ریگل آٹوموبائلز
  • یونائیٹڈ آٹو انڈسٹریز

انڈس موٹر کمپنی (IMC) نے گزشتہ روز ایک میمو جاری کیا کہ جس میں کہا گیا کہ مینوفیکچرنگ پلانٹ پر پیداوار تاحکمِ ثانی روک دی گئی ہے۔ یہ حکومت کی جانب سے COVID-19 کی وباء کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تائید میں کیا گیا ہے۔ IMC نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پیداوار کو روکنے سے بُک کروائی گئی گاڑیوں کی ڈلیوری میں کچھ مسائل اور تاخیر پیدا ہو سکتی ہے۔ کمپنی نے اس پر بھی زور دیا کہ اپنے ملازمین اور صارفین کا تحفظ اُس کی اولین ترجیح ہے۔ 

ہونڈا نے بھی موٹر سائیکلوں سمیت اپنی تمام گاڑیوں کی پیداوار روک دی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ شب لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی ہونڈا نے لاہور کے قریب واقع اپنا پلانٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاک سوزوکی نے حکومتِ سندھ کی جانب سے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی اپنی پیداوار روکنے کا فیصلہ کیا۔ کِیا موٹرز اور ہیونڈائی نشاط جیسے نئے اداروں نے بھی لاک ڈاؤن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے اپنے آپریشنز روک دیے۔ چینی ادارے جیسا کہ JW فورلینڈ، یونائیٹڈ، ریگل، ماسٹر اور چنگن نے بھی اس کی پیروی کی اور تاحکمِ ثانی اپنے مینوفیکچرنگ آپریشنز معطل کر دیے ہیں۔ 

پلانٹس بند کرنے کی بڑی وجوہات میں سے لاک ڈاؤن ہے کہ جس کی وجہ سے کارکن اور دیگر ملازمین مینوفیکچرنگ پلانٹ تک کا سفر نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ OEM پارٹس بنانے والوں اور دیگر متعلقہ صنعتوں جیسا کہ ٹائر بنانے والوں نے بھی اپنے آپریشنز کم از کم 6 اپریل تک معطل کر دیے ہیں۔ اپنے آپریشنز بند کرنے والے بڑے ٹائر ساز اداروں میں جنرل، پینتھر اور سروس ٹائرز شامل ہیں۔ 

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس وبائی مرض اور اس کی وجہ سے ہونے والا لاک ڈاؤن پاکستان کی مشکلات سے دوچار آٹو انڈسٹری کو کتنا متاثر کرے گا۔ کروناوائرس نے دیگر ملکوں میں بھی آٹو انڈسٹریز کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ جب یہ وائرس چین سے نکلا تھا تو ٹویوٹا اور ہونڈا جیسے کئی بڑے آٹو مینوفیکچررز نے اپنے پلانٹس بند کر دیے تھے اور اپنے کارکنوں کو چین سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت آٹومینوفیکچررز میکسیکو، برازیل، ارجنٹینا، فلپائن اور امریکا میں اپنے آپریشنز بند کر چکے ہیں۔

پاکستان میں آٹوموٹو سیکٹر کے حوالے سے مزید خبروں کے لیے آتے رہیے اور اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ 

Google App Store App Store
تبصرے