ٹویوٹا کرولا (‏2002-2008) – بجٹ کار ریویو

13 850

ٹویوٹا کرولا ایک مناسب قیمت رکھنے والی اور مضبوط فیملی سیڈان ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ٹویوٹا کرولا نے پاکستان میں اپنے سفر کا آغاز 1990ء کے آغاز میں کیا تھا۔ جب 2002ء میں نیا ماڈل متعارف کروایا گیا، تو عوام میں اس کا بہت انتظار ہو رہا تھا۔ لوگ ایک نئی شکل کی کار چاہتے تھے اور ٹویوٹا نے پاکستان میں نویں جنریشن کی ٹویوٹا لانچ بھی کی جو ملک میں 2008ء تک فروخت ہوتی رہی۔ کرولاکی نویں جنریشن کا بہت شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا، اس لیے پہلی بار بھاری پریمیم کی مارکیٹ بھی بن گئی۔ لانچ کے بعد یہ پریمیم 2,00,000 روپے تک گیا۔ 

2002ء میں اپنی لانچ کے وقت اِس کے تین ویرینٹس پیش کیے گئے: XLi، GLi اور SE سیلون۔ XLi اور GLi ‏1300cc کے اور SE سیلون 1600cc کا تھا۔ XLi اور GLi کی مقبولیت SE سیلون سے کہیں زیادہ تھی۔ XLi اور GLi ویرینٹس کی ری سَیل مارکیٹ بھی بہت زیادہ ہے۔ آٹومیٹک ٹرانسمیشن والے ویرینٹس 2004ء کے آخر اور 2005ء کے شروع میں آئے۔ اُس وقت ڈیزل سستا ہونے اور ڈیزل کا مائلیج زیادہ ہونے کی وجہ سے 2.0D ویرینٹ بھی بہت مشہور ہوا۔ 

ایکسٹیریئر 

XLi، GLi اور 2.0D ویرینٹس کی شکل ایک ہی جیسی تھی اور SEL سیلون، 2.0D سیلون اور 1.8L آلٹس کی شکل ملتی جلتی تھی۔ XLi، GLi اور 2.0D میں کالے شیشے تھے، سائیڈ اسکرٹس اور فوگ لیمپس نہیں تھے، الائے رمز کے بجائے وِیل کیپس لگے ہوئے تھے۔ SE سیلون، 2.0D سیلون اور 1.8L آلٹس میں سائیڈ اسکرٹس، الائے رِمز، باڈی کے رنگ کے ہی سائیڈ مررز، سائیڈ ڈور moldings اور فوگ لیمپس موجود تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرولا کی گراؤنڈ کلیئرنس بھی کافی تھی یعنی یہ ہر قسم کے راستے پر آسانی سے چل سکتی تھی۔ اس جنریشن کو اپنے گول ہیڈلیمپس اور گول ریئر لائٹس کی وجہ سے پہچانا جا سکتا ہے۔ 

انٹیریئر 

پاکستانی آٹو سیکٹر میں دو رنگوں والا beige انٹیریئر بھی متعارف کروایا گیا تھا۔ اس سے کرولا کے انٹیریئر کو ایک پریمیم لُک اور احساس ملا۔ یہ پچھلی جنریشن کے سرمئی رنگ کے انٹیریئر کے مقابلے میں ایک قدم آگے کی چیز تھا۔ نئی کرولا کا انٹیریئر 2002ء میں اپنی لانچ کے وقت ذرا futuristic اور revolutionary لگتا تھا۔ 

SE سیلون، SE سیلون، 2.0D سیلون اور 1.8L آلٹس پاور وِنڈوز، پاور سائیڈ مررز، ایک ایئر بیگ، ABS بریکس، انٹیریئر میں لکڑی کے کام، پاور اسٹیئرنگ، Pioneer کیسٹ اور سی ڈی پلیئر اور روشن Optitron میٹر کے ساتھ آئی تھی۔ XLi اور سادہ 2.0D ویرینٹس میں مینوئل وِنڈوز اور سائیڈ مررز تھے؛ البتہ یہ GLi ویرینٹ میں موجود تھے۔ 

پرفارمنس اور کمفرٹ 

پوری کرولا لائن اَپ میں جتنا کمفرٹ دیا گیا وہ اس سیگمنٹ کی گاڑیوں میں زبردست تھا۔ اس جنریشن کی کرولا اب بھی پاکستان کے شہری سے لے کر دیہاتی علاقوں تک، ہر جگہ مل جاتی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر موجودگی کی وجہ اس میں بہترین کمفرٹ لیول کا ہونا ہے۔ SE سیلون، 1.8 آلٹس اور 2.0D سیلون کی پرفارمنس بھی بہت عمدہ تھی، خاص طور پر اس کا مقابلہ ہونڈا سوِک سے کریں تو۔ 

اسپیئر پارٹس کی دستیابی اور مینٹی نینس 

ٹویوٹا کا برانڈ پائیدار اور مضبوط گاڑیاں بنانے کے لیے مشہور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسپیئر پارٹس کے ہر جگہ مل جانے نے بھی نویں جنریشن کی کرولا کی maintenance کو آسان بنایا۔ مقابلے پر موجود دوسری گاڑیوں کے مقابلے میں اس کے اسپیئر پارٹس سستے بھی ہیں۔ کرولا کے سارے ویرینٹس کا ڈھانچہ ایک جیسا ہی ہےو؛ اس لیے ان کے اسپیئر پارٹس بھی ایک جیسے ہی ہیں۔ اسپیئر پارٹس کے باآسانی مل جانے کی وجہ سے مارکیٹ میں ان کی قیمت بھی کم ہو جاتی ہے۔ 

مائلیج

XLi اور GLi ویرینٹس کی کامیابی میں جن کئی factors نے حصہ ڈالا اُن میں سے ایک اس کا اچھا mileage ہونا بھی ہے۔ ایک اچھی طرح maintain رکھی گئی XLi اور GLi تقریباً 13 سے 14 کلومیٹرز فی لیٹرز دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کار کو maintain کرکے رکھا جائے تو SE سیلون اور 2.0D ویرینٹس 10 سے 12 کلومیٹرز فی لیٹر دے سکتے ہیں۔

فیصلہ 

اس جنریشن کی کار پاکستان میں 11,00,000 روپے سے لے کر 13,00,000 روپے میں مل جاتی ہے، جو پاکستان میں کاروں کی موجودہ قیمتیں دیکھیں تو کافی افورڈیبل لگتی ہے۔ آپ کو نئی سوزوکی آلٹو کی قیمت پر بڑی ڈِگی والی فیملی سیڈان مل رہی ہے۔ بھروسہ مندی، پائیداری، آرام اور فیچرز وہ سارے فیکٹرز ہیں جو نویں جنریشن کی کرولا کو آج بھی ایک اچھی پسند بناتے ہیں۔ اس جنریشن کی کرولا کی بلٹ کوالٹی زبردست تھی۔

Recommended for you: Honda Civic X 2017 Owner’s Review

Google App Store App Store
تبصرے