کیا ہونڈا پاکستان ایس یو وی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے؟

0 5 193

کیا ہونڈا اٹلس پاکستان نے اِس سیگمنٹ اور مارکیٹ رحجان کو اہمیت نہیں دی؟ کیا بہت دیر ہو گئی ہے؟ میرے خیال میں اب بھی میدان میں باقی رہنے کے لیے قدم اٹھانے کا وقت باقی ہے۔

دنیا بھر میں SUV کا شوق:

کراس اوور یوٹیلٹی وہیکلز/CUV اور اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکلز/SUV کا شوق ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر دوسرا مینوفیکچرر SUV یا کراس اوورز کا اپنا ورژن لا رہا ہے کیونکہ ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ روایتی سیڈان گاڑیوں کی فروخت دنیا بھر میں منفی جا رہی ہے، اور خریدار ذرا اونچی گاڑیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ٹویوٹا اور ہونڈا جیسے برانڈز پہلے ہی CUV/SUV رینج میں کئی گاڑیاں پیش کر چکے ہیں۔

ہونڈا اٹلس، کِیا، ہیونڈائی اور پاکستان:

پاکستان میں آنے والے نئے اداروں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور اسپورٹیج متعارف کروانے سے ہماری مارکیٹ میں بھی یہی رحجان ظاہر ہوا۔ ٹوسان اس رائے کو اور مضبوط کرے گی کہ پاکستان میں صارفین بھی اب اس نئے سیگمنٹ کی طرف جا رہے ہیں جو پہلے معلوم نہیں تھا۔ کرولا اور سوِک کی فروخت میں کمی تصدیق کر رہی ہے کہ خریدار اس وقت مارکیٹ میں موجود کراس اوورز کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

ہماری مارکیٹ میں اسپورٹیج اور ٹوسان ہی دو مشہور اور پرکشش آپشنز ہیں، لیکن عالمی سطح پر بڑے اداروں کا راج ہے۔ ہونڈا CR-V اور ٹویوٹا RAV-4، جن کے دنیا بھر میں 7,00,000 یونٹس فروخت ہوئے اور بیسٹ-سیلرز ہیں، فروخت میں کہیں آگے ہیں۔ اور کسی کو بھی ان کی کامیابی، نفاست اور قبولیت کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ مختصراً یہ کہ ٹوسان اور اسپورٹیج خراب گاڑیاں نہیں ہیں لیکن عالمی سطح پر، دوسری مارکیٹوں میں جب آپشنز کی بات آتی ہے تو CR-V اور RAV-4 خریداروں کی ترجیح ہیں۔

ہونڈا اٹلس کیا کر سکتا ہے؟

پاکستان میں اسپورٹیج اور ٹوسان کی آمد 2018ء کے آغاز پر بالکل جانی پہچانی اور واضح تھی جب ہیونڈائی اور کِیا اپنے اسمبلی پلانٹس کی تعمیر شروع کر رہے تھے۔ ہمیں جارحانہ انداز پر کِیا لکی موٹرز کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ حکومتِ پاکستان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد صرف 18 مہینوں میں انہوں نے نیا پلانٹ بھی بنا لیا اور مقامی طور پر اسمبل کی گئی گاڑیاں بھی تیار کرلیں۔

ہونڈا اور ٹویوٹا جیسے پہلے سے موجود ادارے، جو ملک میں دہائیوں سے موجودگی رکھتے ہیں، بھی ہیونڈائی اور کِیا سے درپیش مقابلے سے آگاہ تھے۔ کیا انہوں نے نئے اداروں کو بہت ہلکا لیا یا لاتعلق رہے؟ یا وہی پرانی ذءنیت اور روایتی گھٹ جوڑ والے کاموں کی وجہ سے انہوں نے ایک مختلف سمت میں جانے کی اہمیت ہی نہیں سمجھی؟

10 سال سے بننے والی ہونڈا سٹی اس کو واضح کرتی ہے۔ گو کہ ٹویوٹا اور ہونڈا دونوں کی بات یہاں ہونی چاہیے، لیکن میں ذرا کہوں گا کہ 2018ء میں ملک کے اندر مارکیٹ رحجان بدلنے اور نئے اداروں کے آنے کے بعد سے اب تک اٹلس کیا کچھ کر سکتا تھا۔

ہونڈا اٹلس اور CR-V:

‏CR-V کومپیکٹ کراس اوور سیگمنٹ میں ایک مشہور اور ایوارڈ یافتہ گاڑی ہے۔ اگر یہ امریکا میں سالانہ 3,50,000 سے زیادہ یونٹس فروخت کر سکتی ہے اور 2019ء میں دنیا بھر میں 7,50,000 سے زیادہ، تو ہمیں ماننا ہوگا کہ اس پروڈکٹ میں کچھ جان ہے۔ اس وقت یہ اپنی پانچویں جنریشن میں ہے اور کئی ملکوں میں بنائی جا رہی ہے اور 150 ملکوں میں فروخت ہو رہی ہے۔

پانچویں جنریشن اکتوبر 2016ء میں امریکا میں پیش کی گئی اور 2017ء میں یہ مختلف مارکیٹوں میں آنا شروع ہو گئی۔ CR-V غیر ملکی مارکیٹوں میں تقریباً اسپورٹیج یا ٹوسان کی قیمت میں ہی آتی ہے اور اس شعبے میں یہ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی ہیں۔

ہونڈا اور CR-V (سی بی یو):

ہونڈا اٹلس نے مئی 2018ء میں پاکستان میں 95 لاکھ روپے میں CBU کی حیثیت سے اسے متعارف کروایا تھا، جو اب 1 کروڑ 20 لاکھ روپے کی پڑتی ہے۔ کمپنی ایک 2.0L نیچرلی ایسپائریٹڈ فرنٹ-ویل-ڈرائیو ماڈل امپورٹ کر رہی ہے جو 151HP اور CVT ٹرانسمیشن رکھتا ہے۔

بلاشبہ اس قیمت پر تو اسے کوئی نہیں خریدے گا جبکہ اسپورٹیج اور ٹوسان کے آپشن آدھی قیمت پر مل رہے ہیں، چاہے CR-V کتنی ہی اچھی بنی ہوئی کیوں نہ ہو، منافع بخش اور بہتر سامان سے لیس ہو۔

«اگر چاہے تو» ہونڈا اس پر کام کر سکتا ہے اور اسے مانگا منڈی، لاہور میں CKD کی حیثیت سے تیار کر سکتا ہے۔ موجودہ پانچویں جنریشن کی CR-V دسویں جنریشن کی ہونڈا سوِک جیسا پلیٹ فارم، انجن آپشنز، ٹرانسمیشن اور دیگر چیزیں رکھتی ہے جو ہونڈا اٹلس پہلے ہی مقامی سطح پر تیار کر رہا ہے۔ CR-V زمین سے ذرا اونچی ہے؛ لیکن ڈرائیونگ ڈائنامکس کے لحاظ سے یہ سوِک جیسی ہی ہے، سڑک پر اچھی طرح جمی ہوئی۔

CR-V کے لیے مقامی سہولیات:

‏CR-V دنیا بھر میں مختلف انجن آپشنز کے ساتھ دستیاب ہے، اور 1.5L ٹربو انجن ان میں سے ایک ہے، جس کا مطلب ہے وہی ہونڈا سوِک والا۔ CR-V میں یہ انجن تقریباً 190HP پیدا کرتا ہے اور سوِک جیسی ہی CVT ٹرانسمیشن رکھتا ہے۔ 1.5T بھی AWD اور FWD دونوں آپشنز میں دستیاب ہے۔

اس کے علاوہ CR-V ‏2.4L پٹرول، 2.0L پٹرول ہائبرڈ اور 1.6L ٹربو ڈیزل میں بھی دستیاب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ CR-V انڈونیشیا جیسی محدود مارکیٹوں میں تیسری قطار کے آپشنز کے ساتھ بھی دستیاب ہے۔ تھوڑی سی مزید معلومات، ہونڈا اٹلس لوکل پاکستانی پروڈکٹس بنانے کے لیے ہونڈا انڈونیشیا کو فالو کرتا ہے۔ ہونڈا اٹلس 2.0L CR-V کے ساتھ ساتھ 1.5T CR-V بھی بنا سکتا ہے۔

تو، CBU ایک کامیاب فارمولا نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگا، اٹلس کو CR-V کو PKDM کے طور پر بنانے پر کام کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ سوِک جیسے کمپوننٹس رکھتی ہے اور پلیٹ فارم بھی۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کچھ لحاظ سے لوکل سوِک کی صورت میں کام پہلے سے ہی موجود ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک CKD CR-V کی ڈیولپمنٹ پر آنے والی لاگت نسبتاً کم ہوگی۔ موجودہ CR-V عالمی سطح پر اگلے دو سال تک پروڈکشن میں رہے گی۔

کیا ہونڈا اٹلس پیچھے رہ گیا ہے؟

اگر ہونڈا اٹلس 2018/2019 میں چاہتا اور معاملات کو سنجیدہ لیتا تو وہ مقامی طور پر CR-V تیار کرکے خریداروں کو ایک اور آپشن دے سکتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنا ہوم ورک بالکل ٹھیک انداز میں کریں تو CR-V اسپورٹیج کا سخت مقابلہ کر سکتی ہے اور ٹوسان یا دوسری آنے والی گاڑیوں کا بھی۔ ایک 3-قطاروں والا ورژن بھی اسے بہت پرکشش بنائے گا۔

گلوبل CR-V اور ہونڈا سوِک کی قیمتیں بھی لگ بھگ ایک جتنی ہی ہیں البتہ اس کا انحصار مارکیٹ اور ویرینٹ پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سیڈانز پر کراس اوورز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اور سیڈان کی کم ہوتی ہوئی فروخت کی بھی یہی وجہ ہے۔ میرے خیال میں اٹلس کی جانب سے اچھی مارکیٹ ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ورک کا نتیجہ PKDM CR-V کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

واحد بڑا مسئلہ جو مجھے نظر آ رہا ہے وہ «ارادے» کا ہے، جو اٹلس کے پاس نہیں ہے۔ وہ اب بھی سمجھ رہے ہیں کہ مارکیٹ وہی ہے، اور کنزیومرز کے پاس آپشنز نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ اگر وہ ایک کمپنی اور برانڈ کی حیثیت سے برقرار رہنا چاہتے ہیں تو انہیں کام کرنا ہوگا اور سنجیدگی سے اپنی مصنوعات کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

میں اس معاملے میں ٹویوٹا RAV-4 کو نہیں درمیان میں لایا کیونکہ وہ ایک بالکل الگ موضوع ہے اور اس کے لیے TNGA کے لیے گراؤنڈ ورک کی ضرورت ہے، جو 12 ویں جنریشن کی کرولا کی بنیاد بھی ہے۔ ان کے لیے CBU کی حیثیت سے کرولا کراس بھی شاید کام نہ کرے۔ اس معاملے پر پھر بحث کریں گے۔

کیا آپ کے پاس آپشن موجود ہو تو آپ CR-V پر غور کریں گے؟

*ایک تحریر لکھنے کی والی کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور ضروری نہیں کہ ادارہ اس سے اتفاق کرے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.