صنعتی معیارات مرتب کرنے کے لیے پاما کا عالمی ضابطوں کی پیروی کرنے پر زور

758

پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے ڈائریکٹر جنرل عبد الوحید نے کہا ہے کہ حکومت کو صنعت کے لیے نئے معیارات مرتب کرتے ہوئے عالمی ضابطوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر زور بھی دیا کہ وہ آٹوموٹو انسٹیٹیوٹس بنانے کے لیے بھارت اور ملائیشیا کے نقشِ قدم پر چلے۔ اس سے ملک میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) کو طاقتور بنانے میں مدد ملے گی ۔

انہوں نے حکومت کے کوالٹی کنٹرول ادارے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) پر بھی تنقید کی: 

«حکومت کو معیارات کو یقینی بنانے اور قومی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے PSQCA کی ٹیسٹنگ سہولیات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ PSQCA اب تک ناکام رہا ہے۔» 

PAMA کے ڈائریکٹر جنرل نے حکومت کی جانب سے استعمال شدہ کاروں کی غیر قانونی درآمد اور گفٹ اور بیگیج اسکیم کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ اس سے بالآخر آٹو سیکٹر کو زیادہ مؤثر بنانے اور قانون کی پاسداری یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ 

بیرونِ ملک سے گاڑیوں کی درآمد سے مقامی آٹو انڈسٹری متاثر ہو رہی تھی۔ مقامی طور پر تیار ہونے والے اسپیئر پارٹس کی فروخت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ وہ PSQCA اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کے ڈیلرز کو شامل کرنے کے خیال کے بھی خلاف ہیں کیونکہ وہ گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری کا حصہ نہیں ہیں۔ 

مقامی آٹو انڈسٹری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 30 لاکھ بلاواسطہ اور بالواسطہ افراد اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ یہ بات اسے پاکستان کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک بناتی ہے۔ ان کے مطابق مقامی کار مینوفیکچررز ہر ماڈل کی تبدیلی کے ساتھ اپنے آپریشنز کو لوکلائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

«لوکلائزیشن نے ملک میں مقامی انجینئرنگ بنیادیں کھڑی کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، SMEs کو مضبوط کرنے اور برآمدات کے دروازے کھولنے میں مدد دی ہے۔ اب تک آٹو انڈسٹری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے 100 تکنیکی معاہدے ممکن بنا چکی ہے۔» 

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت ایک standard majority regime میں ضم کرنا چاہتی ہے۔ معیارات تمام بڑی مینوفیکچرنگ صنعتیں مرتب کریں گی جن میں آٹو اور الیکٹرک شعبے شامل ہوں گے۔ PAMA کے ڈائریکٹر جنرل چاہتے ہیں کہ حکومت معیار کے لیے یورپی اسٹینڈرڈز کی طرف جائے کیونکہ ان سے مقامی آٹو سیکٹر کو «پاکستانی اسٹینڈرڈز» کے مقابلے میں زیادہ مدد ملے گی۔ یورپی معیارات سے مطابقت سے مقامی آٹو سیکٹر کی برآمدات بھی بڑھیں گی۔

ایسی ہی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے اور اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے