پاکستان میں 5 لاکھ روپے سے کم کی 10 بہترین استعمال شدہ کاریں

15 870

ملک میں معاشی سُست روی کے کی وجہ سے گزشتہ سال ڈیڑھ کے عرصے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بہت اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کاروں کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں کمی آنے اور حکومت کی طرف سے متعدد ٹیکس اور ڈیوٹیز کے نفاذ کی وجہ سے ہوا۔ اب نئی کاریں خریدنے کے رحجان میں واضح کمی نظر آتی ہے اور ان کی فروخت میں بہت زوال آ گیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں استعمال شدہ گاڑیوں کی طلب میں کافی اضافے دیکھنے میں آیا ہے۔ 

نئی کاروں کے شعبے میں اب 10 لاکھ روپے سے کم قیمت پر بہت کم آپشنز باقی بچے ہیں۔ ایک بہت بڑا طبقہ اِس بجٹ کے اندر ہی گاڑی خریدنا چاہتا ہے۔ لیکن اس بجٹ میں بہترین آپشن کا انتخاب کرنا بھی کافی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ یہاں دستیاب گاڑیاں نسبتاً پرانی ہیں۔ اس لیے ہم اس تحریر میں آپ کو بتائیں گے کہ کون سی گاڑیاں 5 لاکھ روپے تک میں خریدی جا سکتی ہیں، جو استعمال شدہ گاڑی خریدنے کے لیے مارکیٹ میں کم سے کم بجٹ سمجھا جاتا ہے۔ 

 سوزوکی ایف ایکس 

سوزوکی FX وہ پہلی کار ہے جو پاک سوزوکی نے 1982ء میں ملک میں متعارف کروائی تھی۔ یہ مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ 800cc F8B انجن سے لیس تھی۔ ابتدائی ماڈلز میں یہ ہیچ بیک سیاہ رنگ کے انٹیریئر میں آئی تھی۔ بعد میں کمپنی نے گاڑی کو بہتر بنایا اور انٹیریئر خاکی رنگ میں پیش کیا گیا۔ 

اس کار کی پیداوار 1988ء تک جاری رہی جس کے بعد 1989ء میں سوزوکی FX کی جگہ مہران نے لے لی۔ سوزوکی FX آج بھی انٹری-لیول بجٹ پر ملک میں ایک مقبول گاڑی ہے اور جڑواں شہروں اسلام آباد و راولپنڈی میں اسے بڑے پیمانے پر بطور ٹیکسی استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی پیداوار کے چند سال بعد سوزوکی FX ایئر کنڈیشنر کے ساتھ آئی، جو اب بھی اسے مقامی مارکیٹ میں ایک موزوں انتخاب بناتا ہے۔ 

یہ گاڑی استعمال شدہ کاروں کی مارکیٹ میں 2 سے 3 لاکھ روپے میں مل جاتی ہے اور اب بھی شہر کے اندر چلانے کے لیے ایندھن بچت کرنے والی اور دیکھ بھال پر کم خرچ کھانے والی گاڑی سمجھا جاتا ہے۔ آج 32 سال بعد بھی اس کے پرزے مارکیٹ میں باآسانی مل جاتے ہیں، یوں یہ اب بھی کئی گاڑیوں پر برتری رکھتی ہے۔

 سوزوکی مہران

سوزوکی مہران کی پیداوار کا آغاز 1989ء میں ہوا اور 30 سال بعد بالآخر 2019ء میں اس کی پیدوار ختم کر دی گئی۔ بلاشبہ سوزوکی مہران کسی تعارف کی محتاج نہیں اور مقامی مارکیٹ میں تو اسے ‘باس’ کہا جاتا ہے۔ مشہور 800cc مہران کی شکل و صورت تین دہائیوں تک تقریباً وہی رہی۔ البتہ کمپنی نے اِس انٹری لیول ہیچ بیک میں کچھ ظاہری تبدیلیاں ضرور کیں۔ 

اس گاڑی نے پاکستان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی، جس کی بنیادی وجہ ان تمام سالوں میں کسی مضبوط حریف کی عدم موجودگی تھی۔ ایندھن مؤثریت کے حوالے سے یہ سوزوکی FX جتنی ہی اچھی رہی اور اُن دونوں کے دیگر ماڈلز کے مقابلے میں اس کی دیکھ بھال کی لاگت بھی کم ہے۔ مقامی مارکیٹ میں اس گاڑی کی قیمت ماڈل کی بنیاد پر مختلف ہے اور یہ 2 لاکھ روپے سے شروع ہوکر آخری سال کے ماڈل کے لیے 9 لاکھ روپے تک میں مل جاتی ہے۔ 

تاہم، بیشتر پرانے ماڈلز 5 لاکھ روپے کی قیمت کے اندر باآسانی مل جاتے ہیں۔

 سوزوکی آلٹو

موجودہ 660cc سوزوکی آلٹو، جسے جون 2019 میں لانچ کیا گیا تھا ، کے علاوہ یہ ہیچ بیک 2000ء میں بھی مقامی طور پر تیار کی گئی تھی۔ اس وقت سوزوکی آلٹو 1000cc انجن سے لیس تھی کہ جس میں صرف مینوئل ٹرانسمیشن آتی تھی۔ یہ اُن دنوں انجن گنجائش کے لحاظ سے اس زمرے میں سوزوکی کلٹس کے ساتھ ساتھ ایک مقبول انتخاب تھا۔ 

2012ء میں آلٹو کی پیداوار روک دی گئی تھی، لیکن اب بھی اسے بجٹ کار کے طور پر سڑکوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ دیکھ بھال پر آنے والی کم لاگت اور مہران یا FX کے مقابلے میں نسبتاً طاقتور انجن کے ساتھ یہ گاڑی استعمال شدہ کاروں کی مارکیٹ میں 4 سے 5 لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ البتہ بعد میں آنے والے 2012ء تک کے ماڈلز تقریباً 7 لاکھ روپے کے ہیں۔

 ڈائی ہاٹسو کورے 

ڈائی ہاٹسو کورے کم بجٹ کی کاروں میں ایک اور انتخاب ہے۔ اس چھوٹی ہیچ بیک کی پیداوار 2012ء تک جاری رہی، اور ان سالوں میں اسے مقامی مارکیٹ میں بڑی مقبولیت حاصل رہی۔ ڈائی ہاٹسو چھوٹی Kei ماڈلز بنانےکے لیے مشہور ہےاور کمپنی 2016ء سے مکمل طور پر ٹویوٹا کی ملکیت ہے۔ ڈائی ہاٹسو کورے 800cc انجن سے لیس تھی جس میں مینوئل اور آٹومیٹک دونوں ٹرانسمیشنز آتی تھیں۔ 

یہ گاڑی کئی سال تک سوزوکی مہران کی واحد مقابل رہی۔ قیمت کے معاملےمیں 2008ء یا اس سے پہلے کا ڈائی ہاٹسو کورے ماڈل باآسانی 5 لاکھ روپے میں مل جاتا ہے۔ یہ چھوٹی ڈِگی گنجائش رکھتی ہے اور کیبن کے اندر بھی گنجائش کے لحاظ سے کافی کومپیکٹ کار ہے۔

 سوزوکی خیبر

1988ء سے 2000ء کے درمیان بننے والی سوزوکی خیبر پاکستان میں ایک مقبول ہیچ بیک کار تھی۔ یہ ملک میں سوزوکی سوئفٹ کا مقامی ورژن تھی اور مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ 1000cc G10 کاربوریٹر پر مبنی انجن سے لیس تھی۔ 

5 دروازوں کی اس ہیچ بیک نے کئی سال تک 1000cc کے شعبے میں اپنی اجارہ داری قائم رکھی کہ جب انٹری-لیول ہیچ بیک میں سوزوکی مہران کا غلبہ تھا۔ قیمت کے معاملے میں یہ استعمال شدہ گاڑیوں کی مقامی مارکیٹ میں 2 سے 4 لاکھ روپے میں مل جاتی ہے۔

 سوزوکی کلٹس

سوزوکی کلٹس کو 2000ء میں خیبر کی جگہ متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ گاڑی شروع میں 3-سلنڈر G10 1000cc انجن کے ساتھ پیش کی گئی تھی، جسے بعد ازاں 2008ء میں 4-سلنڈر 1000cc G10B EFI انجن میں اپ گریڈ کیا گیا لیکن صرف مینوئل ٹرانسمیشن میں پیش کیا گیا۔ 

اس کے علاوہ 2003ء سے 2010ء کے دوران بنائے گئے ماڈل کمپنی کی لگائی گئی CNG کٹ کے ساتھ آتے تھے۔ سوزوکی کلٹس کے اس خاص ماڈل کی پیداوار 17 سال تک جاری رہی، یہاں تک کہ کمپنی نے اس کی جگہ نئی جنریشن کی کلٹس کو دے دی۔ 

سوزوکی مہران کی طرح یہ گاڑی بھی اندرونی حصوں میں کچھ ظاہری تبدیلیوں اور ایکسٹیریئر میں معمولی اپ گریڈیشن کے علاوہ یکساں ہی رہی۔ 2006ء تک کے سوزوکی کلٹس ماڈلز 5 لاکھ روپے کے بجٹ میں خریدے جا سکتے ہیں۔ اس کے ابتدائی ماڈلز ایندھن کے لیے اتنے مؤثر نہیں تھے جیسا کہ 2008ء میں آنے والے EFi انجن تھے۔ 

البتہ اس کی دیکھ بھال پر آنے والی لاگت بدستور کم ہے، اور اس گاڑی کے پرزے بھی مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں۔

سوزوکی مارگلہ

پاک سوزوکی کی جانب سے پاکستان کے لوکل آٹو سیکٹر میں متعارف کروائی گئی پہلی سیڈان سوزوکی مارگلہ تھی۔ یہ 3-سلنڈر 1300cc انجن کی حامل تھی جس میں مینوئل ٹرانسمیشن نصب تھی۔ اسے صارفین کی طرف سے بہت اچھا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ 

کمپنی نے مارگلہ کی پیداوار 1992ء میں شروع کی اور 1998ء میں سوزوکی بلینو کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس کی پیداوار ختم کر دی گئی۔ یہ پاکستان میں GL، GLX اور مارگلہ پلس ویرینٹس میں پیش کی گئی تھی۔ پاک سوزوکی کی پہلی مقامی سیڈان کار ہونے کی وجہ سے اس نے ملک میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ یہ 5 لاکھ روپے سے کم کی بجٹ کاروں میں خریداری کے لیے اچھا آپشن ہے کیونکہ یہ باآسانی 4 سے 5 لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ 

فاضل پرزوں کی مناسب قیمت پر دستیابی کی وجہ سے سوزوکی کی پرانی کاریں اب بھی اپنی مارکیٹ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

سوزوکی بلینو 

سوزوکی بلینو 1998ء میں مارگلہ کی جگہ پاکستان کے آٹو سیکٹر میں داخل ہوئی۔ یہ 2006ء تک پیداوار میں رہی جب اس کی جگہ لیاناکو دی گئی۔ سوزوکی بلینو مارگلہ کے مقابلے میں کئی بہتریوں کے ساتھ پیش کی گئی تھی۔ اس میں 4-اسپوک پاور اسٹیئرنگ، EFI ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ 16-والو انجن پیش کیا گیا تھا۔ 

اسے پاک سوزوکی کی جانب سے متعدد ویرینٹس میں متعارف کروایا گیا۔ یہ ایک باقاعدہ فیملی کار ہے جو ڈِگی میں بھی کافی گنجائش رکھتی ہے اور آج بھی ایک اچھا انتخاب ثابت ہوتی ہے۔ سوزوکی بلینو 5 لاکھ روپے کے بجٹ میں خریدی جا سکتی ہے جو اسی قیمت پر موجود ہیچ بیکس کے مقابلےمیں اضافی سہولت فراہم کرتی ہے۔

ہیونڈائی سینٹرو 

پاکستان میں ہیونڈائی سینٹرو پہلی بار 2000ء میں متعارف کروائی گئی تھی۔ یہ 1000cc انجن گاڑی مینوئل ٹرانسمیشن سے لیس تھی۔ ہیونڈائی سینٹرو کا دوسری جنریشن کا ماڈل پاکستان میں الیکٹرانک فیول انجیکٹڈ (EFI) انجن رکھنے والی پہلی ہیچ بیک بھی تھا۔ 

اپنی زندگی میں اس گاڑی نے فیس لفٹ بھی پایا جسے عوام میں بہت پسند کیا گیا۔ یہ مختلف ویرینٹس میں آئی جیسا کہ پرائم، کلب اور Exec۔ ہیونڈائی سینٹرو بلاشبہ کم بجٹ میں ایک عمدہ انتخاب ہے۔ 2005ء یا اس سے پہلے کا کوئی بھی سینٹرو ماڈل 5 لاکھ روپے سے کم میں خریدا جا سکتا ہے۔

ہونڈا سٹی EXi 

ہونڈا سٹی کی تیسری جنریشن 1996ء سے 2002ء تک پیداوار میں رہی۔ ہونڈا اٹلس نے اسے 1.3-لیٹر اور 1.5-لیٹر انجن آپشن میں مینوئل اور آٹومیٹک ٹرانسمیشن میں پیش کیا۔ سٹی کی یہ مخصوص جنریشن اُس زمانے میں بہت مقبول ہوئی کیونکہ یہ ایس او ایچ سی 16-والو ڈی-سیریز انجن سے لیس تھی۔ 

جو محدود بجٹ میں سیڈان خریدنا چاہتے ہیں وہ ہونڈا سٹی کے 1998ء یا اس سے پہلے کے ماڈلز کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس گاڑی میں ایک طاقتور انجن ہے اور یہ بہترین ڈرائیو پیش کرتی ہے۔

ہماری طرف سے اتنا ہی۔ اس بجٹ میں آپ کی پسندیدہ گاڑی کون سی ہے؟ اپنی رائے نیچے تبصروں میں دیجیے اور مزید خبروں کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیے۔

Google App Store App Store
تبصرے