ایندھن کھپت بڑھانے والے 10 عوامل – ان پر نظر رکھیں!

15 518

اگر آپ کا بجٹ محدود ہے تو ایندھن کی کھپت آپ کے لیے لازماً پریشانی کا باعث ہوگی۔ لیکن اگر آپ پروا نہیں کرتے تو ایندھن کا خرچہ آپ کی جیب پر بہت بھاری پڑے گا۔ چند اہم پہلوؤں پر نظر رکھ کر آپ کو اپنی گاڑی کی ایندھن کھپت کافی حد تک بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کئی پہلوؤں کی وجہ سے ایک ہی قسم کی گاڑی کی ایندھن کھپت مختلف ہو سکتی ہے کہ ہم یہاں اس تحریر میں انہی پہلوؤں پر بات کریں گے۔ اگر آپ کی گاڑی توقعات کے مطابق ایندھن کھپت نہیں دے رہی تو مندرجہ ذیل پہلوؤں پر غور کریں۔ 

ناقص معیار کا انجن آئل 

کار کے لیے انجن آئل خریدنے سے پہلے اُس کا viscosity grade ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ اپنی گاڑی کے لیے غلط موٹر آئل استعمال کرنے سے ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پسٹن اور انجن کے دوسرے پرزے آزادانہ طور پر نہیں چل پاتے۔ اس سے انجن پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے اور نتیجہ ضرورت سےزیادہ ایندھن خرچ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اپنی گاڑی کا مینوئل دیکھیں یا قریبی ڈیلرشپ پر جائیں اور انجن آئل کے مطلوبہ معیار کے بارےمیں معلومات حاصل کریں۔ اس کے علاوہ مطلوبہ مائلیج کے بعد اپنی گاڑی کا انجن آئل تبدیل کروائیں کیونکہ یہ بھی ایندھن کی کھپت پر بہت فرق ڈال سکتا ہے۔ 

ٹائروں کی خراب حالت

پرانے ٹائر سڑک پر اپنی گرفت کھو دیتے ہیں اور مطلوبہ رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ گھوم جاتے ہیں۔ اس سے ضرورت سے زیادہ ایندھن خرچ ہو جاتا ہے۔ ٹائروں کا کم پریشر بھی زیادہ ایندھن کھپت کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹائروں میں مینوفیکچرر کی تجویز کے عین مطابق ہوا بھریں۔ کار سے بہترین فیول اکانمی حاصل کرنے کے لیے ویل الائنمنٹ بھی لازمی ہے۔ اچھی کنڈیشن کے ٹائر آپ کی گاڑی کی ہینڈلنگ بھی بہتر بناتے ہیں۔ 

ناقص دیکھ بھال

گاڑی کی تاخیر سے کروائی جانے والی اور ناقص سروسنگ بھی ایندھن کی زیادہ کھپت کا باعث بن سکتی ہے۔ اس امر کو یقینی بنائیں کہ مکینک ماہر ہو یا پھر گاڑی بنانے والے کی جانب سے سرٹیفائیڈ ڈیلرشپ کے پاس اپنی کار لے جائیں۔ کار ڈیلرشپس کے بعد عموماً اچھے ٹولز اور مشینری ہوتی ہے تاکہ آپ کی گاڑی کی اچھی دیکھ بھال کی جائے۔ البتہ وہ عام مکینک سے زیادہ پیسے لیتے ہیں۔ اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں سروسنگ کی تاریخ کا شیڈول چارٹ رکھیں۔ اس سے آپ کو گاڑی کی سروس بروقت کروانے میں مدد ملے گی۔ 

مختصر فاصلے

گاڑیاں وارم اَپ نہ ہونے کی وجہ سے سفر کے آغاز پر اور مختصر سفر میں زیادہ ایندھن کھاتی ہیں۔ یقینی بنائیں کہ جب بھی باہر نکلیں تو زیادہ سے زیادہ کام نمٹائیں۔ پانچ کلومیٹرز سے چھوٹے سفر میں ایندھن بچت کم ہوتی ہے۔ مختلف چھوٹے سفر ملا کر ایک بڑا سفر کر لیا جائے تو گاڑی کی ایندھن بچت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور آپ کا کافی وقت بھی بچے گا۔ 

ناقص انجن

اگر آپ کی کار کا انجن مناسب طریقے سے ٹیون نہیں کیا گیا اور اس کی بروقت سروس نہیں کی گئی تو بالآخر یہ ضرورت سے زیادہ ایندھن استعمال کرے گا۔ ایک ناقص انجن کا سبب اسپارک پلگ، فیول فلٹرز، ایئر فلٹرز، آکسیجن سینسرز اور تھروٹل والوز کی خرابی ہو سکتی ہے۔ پرانے اور گندے فیول انجیکٹر ایندھن کی فوری کھپت کا سبب بن سکتے ہیں۔ انجن کے ناقص پرزے جلد از جلد نکلوائیں تاکہ بڑے نقصان سے بھی بچ سکیں۔ 

ناقص معیار کا ایندھن

ہمیشہ کسی معروف پٹرول پمپ سے ہی ایندھن ڈلوائیں۔ روز مرہ فیولنگ کے دوران اُن پٹرول پمپوں کو نشان زد کرتے جائیں جو اچھے معیار کا ایندھن بیچتے ہیں۔ خراب معیار کا ایندھن انجن کی زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کر لیتا ہے۔ اس سے ایندھن جلنے کے بعد اِن ٹیک والوز اور انجیکٹر نوزل میں کچرا بھی زیادہ داخل ہوتا ہے۔ اچھے پٹرول پمپ ہمیشہ کیمیکل additives رکھتے ہیں جو اِن ٹیک والوز اور انجیکٹر نوزلز جیسے انجن کے حصوں کو صاف کرتے ہیں۔ اچھے معیار کا ایندھن آپ کی گاڑی کے انجن کی عمر بڑھانے کے لیے ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ 

غلط گیئر میں ڈرائیونگ

ہر گیئر میں رفتار کی ایک حد ہوتی ہے ، اور اسے غور سے دیکھنا چاہیے۔ اگر آپ نچلے گیئرز میں تیز رفتار سے گاڑی چلا رہے ہیں تو RPM زیادہ ہوگا اور انجن زیادہ ایندھن استعمال کرے گا۔ پھر گیئرز کو تبدیل کرنے یا گاڑی کو کھڑی حالت سے چلانے کے لیے زیادہ رفتار نہ دیں۔ ساتھ ساتھ موڑوں پر یا پہاڑی علاقوں میں بڑے گیئر میں گاڑی چلانے سے بھی ایندھن ضائع ہوتا ہے۔ 

کلچ کی خراب حالت 

جب آپ کی کار کا کلچ خراب حالت میں ہے تو وہ پھسلنے لگتا ہے اور جس سے پریشر پلیٹ اور کلچ کے درمیان رابطہ محدود ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ انجن کی پیدا کی جانے والی طاقت کے ضیاع کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ وہ پہیوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس سے ایندھن کہیں زیادہ استعمال ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو ایسی صورت حال کا سامنا ہے تو اپنے کلچ کو جلد از جلد ٹھیک کروائیں۔ 

گاڑی کو وارم اَپ نہ کرنا 

سردیوں کے موسم یا ٹھنڈوں علاقوں میں یہ بات بالکل درست ثابت ہوتی ہے۔ جب آپ صبح اپنی گاڑی کو اسٹارٹ کرتے ہیں تو ڈرائیو کرنے سے پہلے انجن کو تھوڑی دیر ایسے ہی چلنے دیں۔ سفر کے دوران جب آپ کو کافی دیر کے لیے رکنا پڑے تو انجن بند کر دیں کیونکہ اس سے کافی ایندھن بچتا ہے۔ اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے رُکے ہیں تو انجن کوچلتا رہنے دیں کیونکہ انجن کو دوبارہ اسٹارٹ کرنےمیں کافی ایندھن لگتا ہے۔ 

اوور اسپیڈنگ، اوور لوڈنگ اور ایئر کنڈیشنگ

حد سے زیادہ رفتار پر گاڑی چلانے سے ہمیشہ انجن پر دباؤ پڑتا ہے کیونکہ اسے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا نتیجہ ہمیشہ زیادہ ایندھن خرچ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ عموماً عام کاروں میں 120 کلومیٹرز فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار کا نتیجہ ایندھن کے ضیاع کی صورت میں نکلتا ہے۔ اضافی وزن کو ڈھونے کے لیے انجن کو لازماً زیادہ طاقت پیدا کرنا ہوگی، اس لیے وہ زیادہ ایندھن استعمال کرے گا۔ 

اگر آپ ایئر کنڈیشنر چلا کر ڈرائیونگ کر رہے ہیں تو انجن لازماً زیادہ ایندھن استعمال کرے گا۔ لیکن اگر آپ ایئر کنڈیشنر چلا کر زیادہ رفتار پر ڈرائیونگ کر رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کھڑکی کھولنے کے مقابلے میں زیادہ بہتر فیول اکانمی ملے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کھڑکیاں کھولنے سے ایروڈائنامک drag پیدا ہوتا ہے جس سے ایندھن مؤثریت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ کی گاڑی دھوپ میں کھڑی ہو اور انٹیریئر باہر کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو جائے تو سن رُوف اور کھڑکیاں کھول دیں تاکہ انٹیریئر قدرتی طور پر ٹھنڈا ہو۔ اس سے ایئر کنڈیشنر کھولنے پر انجن پر پڑنے والا دباؤ کم ہو جائے گا۔ 

مزید معلوماتی مواد کے لیے آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے