چینی کمپنی پاکستان کے آٹو سیکٹر میں 600 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی

1 681

چینی ٹیکنالوجی سروسز کمپنی Timesaco نے پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹیشن سسٹم کو تنظیمِ نو کے لیے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا ہدف چینی ٹرانسپورٹیشن ماڈل کو پاکستان میں نافذ کرنا ہے۔ Timesaco پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تقریباً 600 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ 

پچھلے سال کمپنی نے پاکستان میں ٹاٹو موبلٹی (Tatu Mobility) لانچ کی تھی۔ یہ وینچر عوام، حکومت اور نجی اداروں کو نقل و حرکت کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان میں ٹیکسی، بس بکنگ، گاڑی کی رینٹل اور پِک اینڈ ڈراپ جیسی سروسز شامل ہیں۔ اس وقت یہ سروس صرف اسلام آباد اور راولپنڈی میں کام کر رہی ہے؛ البتہ مستقبلِ قریب میں کراچی میں بھی کام شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ 

Timesaco پبلک ٹرانسپورٹیشن سسٹم کو ڈجیٹل بنائے گی تاکہ روزانہ سفر کرنے والے افراد کے لیے شیڈول بنانا، سیٹیں بک کروانا اور سفر کرنا بہت آسان ہو جائے۔ ڈجیٹل ہونے کی وجہ سے حکام کے لیے ان گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا بھی ممکن ہوگا اور یوں ان کی پابندئ اوقات کو یقینی بنایا جائے گا۔ 

پاکستان کا پبلک ٹرانسپورٹیشن سسٹم بری حالت میں ہے، اور ایسی ہی کئی وجوہات ہیں کہ جن کی بناء پر عوام کریم، اوبر، SWVL اور ایئر لفٹ جیسی رائیڈ ہیلنگ سروسز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ممکن بنا رہی ہیں کہ بڑے شہروں میں عوام کم خرچ پر سفر کریں، وہ بھی آسانی اور آرام کے ساتھ۔ اگر Timesaco کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹیشن کے معاملات ٹھیک کر دیے گئے تو اس سے ٹریفک کی حالت بھی بہتر ہو جائے گی  کیونکہ اس سے سڑکوں پر آنے والی موٹر سائیکلوں اور کاروں کی تعداد میں کمی آئے گی۔ 

Timesaco کے نمائندے فروری کے مہینے میں حکومتِ سندھ کے عہدیداران سے ملاقات کریں گے۔ اس میں سروسز کی صلاحیتوں اور حکومت کو حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں گفتگو کی جائے گی کہ ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں سرمایہ کاری سے اسے کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد Timesaco کراچی میں SWVL کے بعد سب سے بڑا ٹرانسپورٹیشن ادارہ بن جائے گا۔ Timesaco نہ صرف ٹرانسپورٹیشن شعبے میں خود سرمایہ کاری کرے گا بلکہ دیگر سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ اس شعبے میں اپنا سرمایہ لگائیں۔ کمپنی ملک میں IoT (انٹرنیٹ آف تھنگز) پر مبنی ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔ 

Timesaco پاکستان میں روایتی یلو کیب بحال کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جو رائیڈ ہیلنگ سروسز شروع ہونے کے بعد بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کمپنی ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس میں بینکوں اور حکومت کی مدد سے یلو کیب اور روایتی ٹیکسیاں دی جائیں گی۔ یلو کیب سروس کو ڈجیٹائز کیا جائے گا اور آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کی سطح پر لایا جائے گا۔ Timesaco یلو کیب سروس کے لیے چین سے گاڑیاں درآمد کرنے کا ہدف بھی رکھتا ہے۔ اس سے چینی آٹوموبائل کمپنیوں کو پاکستان کے آٹو سیکٹر میں آنے کے فائدے سمیٹنے کا موقع ملے گا۔ یوں پبلک ٹرانسپورٹ شعبے کوبہتر بنانے سے حاصل ہونے والے فوائد سے مقامی آٹو سیکٹر بھی مستفید ہو سکے گا۔ 

مزید ایسی ہی خبروں اور معلوماتی مواد کے لیے آتے رہیے۔ اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے