کرونا وائرس، آٹومیکرز پارٹس بنانے والے متبادل اداروں کی تلاش میں

1 906

کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے بالخصوص چین میں جس کی وجہ سے دنیا بھر کے آٹومیکرز کو اپنی سپلائی چَین میں قلت کا خدشہ ہے۔ اس صورتِ حال میں کئی بڑے ادارے پہلے ہی اپنی سپلائی چَین کو برقرار رکھنے اور اپنے آپریشنز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے خاتمے کے لیے متبادل پارٹس بنانے والے اداروں کی تلاش شروع کر چکے ہیں۔ پارٹس کی سپلائی آٹوموٹو انڈسٹری کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک ہے کیونکہ اس میں کسی بھی قسم کی تاخیر سے پیداوار کے دوران کروڑوں بلکہ اربوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ COVID-19 کی وباء پر کڑی نظر رکھنے کے لیے کئی آٹو سپلائرز اپنی ٹاسک فورس اور وار رُومز تک بنا چکے ہیں۔ کرونا وائرس نے آٹوموٹو اسٹاکس کو اچانک بُری طرح متاثر کیا ہے۔ فورڈ موٹرز اور GM جیسے بڑے آٹو ادارے اس سال اب تک اپنے شیئرز میں دوہرے ہندسے کی کمی تک ظاہر کر چکے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں میں ٹیسلا کے شیئرز میں 25.9 فیصد کی کمی آئی ہے، جو اس سال 59.7 فیصد کی زبردست شرح سے بڑھ رہے تھے۔ 

کرونا وائرس کی وباء: 

پچھلے مہینے کے دوران عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے COVID-19 کو صحت کے حوالے سے عالمی ایمرجنسی قرار دیا۔ اب تک ووہان، چین سے نکلنے والا یہ وائرس دنیا بھر کے35 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ چین سے باہر اس کا پھیلاؤ بہت تیز ہے اور اب تک 80,000 سے زیادہ مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تقریباً 3,000 افراد پہلے ہی کرونا وائرس سے مر چکے ہیں کہ جو اب تک ایک لاعلاج مرض ہے۔ یہ ایران کے ذریعے پاکستان کی سرحدوں میں بھی داخل ہو چکا ہے اور اب تک ملک میں اس کے 4 مریض سامنے آ چکے ہیں۔ 

صورت حال آٹومیکرز کے لیے بہت خراب ہو جائے گی: 

اگر اس بحران نے مزید طول پکڑا تو عالمی آٹو انڈسٹری پر کرونا وائرس کے بدترین اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت آٹومیکرز کے لیے واحد آپشن متبادل حل تلاش کرنا اور ان کے حوالے سے اپنی لاگت کا دوبارہ اندازہ لگانا ہے۔ بلاشبہ تمام آٹو مینوفیکچررز اور آٹو سپلائرز کرونا کے بعد مجموعی صورت حال کا قریبی جائزہ لے رہے ہیں اور اسی حساب سے فوری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ چین سے باہر پہلے پیداواری پلانٹس کہ جنہیں پارٹس کی قلت کی وجہ سے منفی اثرات کا سامنا ہے، جاپان اور جنوبی کوریا میں ہیں۔ اس کا نتیجہ ہیونڈائی موٹرز، کِیا موٹرز، GM اور نسان موٹرز کی تنصیبات بند ہونے کی صورت میں نکلا ہے۔ کرونا وائرس کے منظر عام پر آنے سے ہی یورپی مارکیٹ میں بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور مستقبل میں اس سے شمالی امریکا کی مارکیٹوں کو بھی خطرہ ہے۔ اطالوی-امریکی آٹومیکر فیئٹ کریسلر کو چین سے پارٹس نہ ملنے کی وجہ سے سربیا میں اپنے کارخانے میں کام بند کرنا پڑا ہے۔ البتہ کچھ اداروں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بنا لی ہیں۔ مثال کے طور پر امریکا میں ٹویوٹا کے حکام شمالی امریکا میں صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ہفتے میں تین مرتبہ ملاقات کر رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی یہ وباء ہر کسی کو پریشان کیے ہوئے ہیں اور لگتا ہے کہ دنیا بھر میں گاڑیاں بنانے والے اداروں کا یکساں مسئلہ بن گئی ہے۔ 

کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کیسے متاثر ہو رہی ہے اس بارے میں سنیل منج کی گفتگو یہاں سنیں (2:17 سے) 


ہماری طرف سے اتنا ہی۔ بین الاقوامی اور مقامی آٹوموٹو انڈسٹری کے بارے میں مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔

Google App Store App Store
تبصرے