جنوری 2020ء میں کاروں کی فروخت میں 47.8 فیصد اور موٹر سائیکلوں میں 3.5 فیصد کمی واقع ہوئی

4 336

پاکستان کا آٹوموبائل سیکٹر بدستور مشکلات سے دوچار ہے اور نئے سال کی آمد بھی اس کی قسمت کو بدل نہیں پائی۔  پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے اعداد و شمار کے مطابق سال بہ سال کے لحاظ سے گاڑیوں کی فروخت میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔

جنوری 2020ء میں پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں کاروں کی فروخت میں 47.8 فیصد کا زوال آیا، جبکہ اسی عرصے میں موٹرسائیکلوں کی فروخت میں صرف 3.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف ، گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ بدستور جاری ہے جس کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ 

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر بھی پچھلے کچھ مہینوں میں مستحکم ہوئی ہے ، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ریگولیٹری ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ پاک سوزوکی ، ٹویوٹا انڈس اور ہونڈا اٹلس سمیت ملک کے تمام بڑے گاڑیاں بنانے والے اداروں کو فروخت میں زبردست کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اس کے باوجود ان میں سے کوئی بھی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کو تیار نہیں ہے۔

گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار کو انجن کی گنجائش اور آٹو مینوفیکچررز کے لحاظ سے مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس بلاگ میں پیش کیے گئے تمام اعداد و شمار PAMA کی ویب سائٹ سے لیے گغے ہیں۔ 

1300cc اور اس سے زیادہ کی مسافر کاریں:

اونچے درجے کے گاڑیوں کے زمرے میں ملک کے تین بڑے جاپانی اداروں کے پاس چار کاریں ہیں۔ پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ان میں سے کوئی بھی گاڑی اپنی فروخت کو مثبت نہیں بنا سکا۔ شاید ٹویوٹا کرولا واحد گاڑی تھی کہ جس نے کچھ نمو ظاہر کی اور سال کے پہلے مہینے میں اپنے زوال کے گراف کو کچھ کم کیا۔ 

ٹویوٹا انڈس نے جنوری 2020ء میں کرولا کے3445 یونٹس فروخت کیے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 5353 یونٹوں کے مقابلے میں 35.6 فیصد کم تھے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں کرولا کی مجموعی طور پر فروخت میں البتہ 54 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی۔ 

دوسری طرف ، ہونڈا سوِک اور سٹی جنوری 2020ء میں بھی نمایاں فروخت میں ناکام رہا۔ ہونڈا اٹلس نے جنوری 2019ء میں 4026 یونٹوں کے مقابلے میں اس مرتبہ دونوں کاروں کے مشترکہ طور پر 1878 یونٹ فروخت کیے یعنی اس کی فروخت میں 53.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ موجودہ مالی سال ‏2019-20ء‎ ان کی مجموعی طور پر فروخت میں تقریباً 66 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی طرح ، پاک سوزوکی جنوری 2020ء میں اپنے سوئفٹ ماڈل کے صرف 144 یونٹ فروخت کر پائی ہے جو جنوری 2019ء میں 371 یونٹوں کی فروخت کے مقابلے میں 61 فیصد کی کمی تھی۔ جنوری 2020ء میں اس زمرے کی کُل فروخت میں تقریباً 44 فیصد کمی واقع ہوئی۔ نیچے دیے گئے ٹیبل پر ایک نظر ڈالیں:

1000cc مسافر کاریں:

1000cc ہیچ بیک بیک کے زمرے میں سوزوکی کلٹس نے اپنی گرتی ہوئی فروخت کو کافی حد تک بحال کر لیا ہے۔ پاک سوزوکی نے جنوری 2020ء میں کلٹس کے 1701 یونٹس فروخت کیے جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں 2185 یونٹ فروخت ہوئے تھے۔ فروخت میں 22.1 فیصد کی کمی دیکھی گئی جو پچھلے مہینوں کے زوال کے مقابلے میں کم ہے۔

تاہم ، مالی سال 2019-20 کے ابتدائی 7 مہینوں میں مجموعی طور پر فروخت میں 35.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف ، کمپنی کی امیدوں کے محور یعنی ویگن آر کو رواں مالی سال کے آغاز سے ہی بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس عرصے میں سوزوکی ویگن آر کی فروخت میں 73 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ جنوری 2020ء میں کمپنی نے جنوری 2019ء میں 3100 یونٹوں کی فروخت کے مقابلے میں صرف 567 یونٹس فروخت کیے ، یعنی 81 فیصد سے زیادہ کی کمی۔ 

2020ء کے پہلے مہینے میں 1000cc کے زمرے میں کُل فروخت میں 57سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔

1000cc سے کم کی مسافر کاریں:

گاڑیوں کے اس زمرے پر ایک مرتبہ پھر سوزوکی آلٹو کا غلبہ رہا۔ تاہم ، جنوری 2020ء میں اس کی فروخت اتنی زیادہ نہیں رہی، جتنی شروعات میں تھی۔ پاک سوزوکی نے آلٹو کے 1794 یونٹس فروخت کیے جو رواں مالی سال میں 660cc کی اس انٹری لیول ہیچ بیک کی آمد کے بعد ماہانہ سب سے کم تعداد ہے۔ 

مجموعی طور پر ، کمپنی نے مالی سال ‏2019-20ء‎ کے ابتدائی سات مہینوں میں اس ہیچ بیک کے 25452 یونٹ فروخت کیے ہیں۔ جنوری 2020ء میں سوزوکی بولان کی فروخت میں بھی تقریباً 65 فیصد کی کمی واقع ہوئی ، کیونکہ اس عرصے میں اس کے صرف 564 یونٹس فروخت ہوئے۔

مسافر گاڑیوں کی کُل فروخت:

جنوری 2020ء میں مسافر گاڑیوں کی کُل فروخت میں 47.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس عرصے میں صرف 10095 کاریں فروخت ہوئیں جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ تعداد 19353 یونٹس تھی۔ رواں مالی سال میں مسافر کاروں کی کُل فروخت میں سال بہ سال کے حساب سے 43.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پاک سوزوکی کاروں کی فروخت:

2020ء کے پہلے مہینے میں ، پاک سوزوکی کی فروخت بہت متاثر ہوئی ہے۔ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کمپنی کی کُل فروخت میں 52.7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سوزوکی مہران کی مارکیٹ اب تقریباً ختم ہو چکی ہے کیونکہ انوینٹوریز میں موجود باقی ماندہ یونٹس بھی ان مہینوں میں فروخت ہو گئے ہیں۔ جنوری 2020ء میں سوزوکی آلٹو اچانک اپنی کشش کھو بیٹھی کیونکہ کمپنی صرف 1794 یونٹس ہی فروخت کر پائی، جو فروخت کے حوالے سے پچھلے مہینوں میں سب سے کم ہے۔

سوزوکی ویگن آر پہلے ہی گزشتہ چھ مہینوں سے مشکلات سے دوچار ہے اور اس نے ایک بار پھر 81 فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھی ہے ، جو کئی سالوں سے ہاتھوں ہاتھ فروخت ہونے والی اس گاڑی کے لیے ناقابلِ یقین ہے۔ اس کی قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے اب صارفین کا بڑا حصہ انٹری لیول آلٹو خریدنے کو ترجیح دیتا ہے۔ گزشتہ مہینے راوی اور بولان کی فروخت میں بالترتیب 56 فیصد اور 65 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

سوزوکی کلٹس اس عرصے میں سب سے کم متاثر ہونے والا ماڈل تھا ، جس کی فروخت میں صرف 22 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ جولائی سے جنوری کے دوران پاک سوزوکی کی مجموعی فروخت میں 40.2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ٹویوٹا انڈس گاڑیوں کی فروخت:

ٹویوٹا انڈس پاکستان میں گاڑی بنانے والی صف اوّل کی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ ٹویوٹا انڈس میں سب سے نمایاں اس کا مقبول ماڈل کرولا ہے۔ کمپنی نے جنوری 2020ء میں کرولا کے 3445 یونٹس فروخت کیے ، جس سے یہ مقامی آٹو سیکٹر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کار بن گئی ہے۔ تاہم ، جنوری 2019ء میں اس ادارے نے 5353 یونٹ فروخت کیے تھے، یعنی اب اس کی فروخت میں 35 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کمپنی کرولا کے 1.3L ویرینٹس بھی بند کر رہی ہے اور اپنے صارفین کو متعدد پروموشنز بھی دے رہی ہے کہ غالباً اسی نے کرولا کی فروخت میں اضافہ کیا ہے۔

ٹویوٹا ہائی لکس نے بھی 2019ء کے آخری مہینے کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ IMC نے گزشتہ سال کے اسی مہینے میں فروخت ہونے والے 638 یونٹوں کے مقابلے میں اس مرتبہ ہائی لکس کے 427 یونٹ فروخت کیے، جو پچھلے سال سے 33 فیصد کم ہیں۔ کمپنی کی لائن اپ میں سب سے زیادہ کمی فورچیونر کی فروخت میں رہی جو تقریباً 42 فیصد ہے۔ جنوری 2020ء میں فارچیونر کے صرف 150 یونٹس فروخت ہوئے۔ مجموعی طور پر کمپنی کی فروخت پچھلے مہینے میں 35.6 فیصد کم رہی۔ رواں مالی سال میں اس کی فروخت میں صرف 53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ہونڈا اٹلس کاروں کی فروخت:

اٹلس سوِک اور سٹی کی فروخت میں کمی کی وجہ سے ہونڈا مارکیٹ شیئر خسارے سے ابھی تک باہر نہیں آ پایا ہے۔ پچھلے سال جنوری میں 4026 یونٹوں کے مقابلے جنوری 2020ء میں HACPL دونوں کاروں کے صرف مشترکہ طور پر 1878 یونٹس ہی فروخت کر پایا۔ 

کمپنی نے سوِک اور سٹی کی فروخت میں 53 فیصد سے زیادہ کمی کی اطلاع دی ہے۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے گزشتہ سات مہینوں میں ان کاروں کی فروخت میں تقریباً 66 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ دوسری طرف ، ہونڈا BR-V کو گزشتہ ماہ اپنی فروخت میں 32.5 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا ، جس میں 332 یونٹس ہی فروخت ہوئے۔

صرف جنوری 2020ء میں ہی ہونڈا اٹلس کی مجموعی فروخت میں 51 فیصد کمی آئی۔ علاوہ ازیں، رواں مالی سال میں اس کی فروخت میں 64 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔

ٹرکوں اور بسوں کی فروخت:

جنوری 2020ء میں ٹرکوں کے 386 یونٹس فروخت ہوئے ، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں فروخت ہونے والے 537 یونٹوں کے مقابلے میں 28 فیصد کم تھے۔ اسی طرح اس عرصے کے دوران بسوں کے صرف 51 یونٹس فروخت ہوئے ، یوں ان کی فروخت میں 21 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ جنوری 2020ء میں ٹرکوں اور بسوں کی کُل فروخت میں 27.4 فیصد کمی آئی۔ جولائی سے جنوری کے عرصے میں ان کی فروخت میں سال بہ سال تقریباً 43 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

LCVs، وین اور جیپوں کی فروخت:

اس زمرے میں پچھلے مہینے کے دوران فورچیونر اور BR-V دونوں کی فروخت میں زبردست کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنوری 2020ء کے دوران اس زمرے میں مجموعی طور پر 482 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ پچھلے سال کے اسی مہینے میں یہ تعداد 750 یونٹس تھے۔ پچھلے مہینے اس زمرے میں کُل فروخت میں 35 فیصد سے زیادہ اور رواں مالی سال میں تقریباً 50 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

پک اَپ فروخت:

پک اَپ فروخت میں مقامی آٹو سیکٹر کی چار مختلف گاڑیاں شامل ہیں۔ فیصد کمی کے لحاظ سے سوزوکی راوی پک اَپ کی فروخت سب سے زیادہ متاثر ہوئی کہ جس کی جنوری 2020ء کی فروخت پچھلے سال کے مقابلے میں 56 فیصد کم رہی۔ ٹویوٹا ہائی لکس کے پچھلے سال کے 638 یونٹس کے مقابلے میں اس مرتبہ 427 یونٹس فروخت ہوئے۔ 

JAC نے پچھلے مہینے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی کیونکہ اس کی فروخت گزشتہ ماہ تقریباً 300 فیصد اضافے کے ساتھ 25 یونٹوں سے 74 یونٹس تک جا پہنچی۔ اسوزو ڈی-میکس نے اس عرصے میں 40 یونٹوں کے ساتھ اپنی فروخت بہتر کی ہے۔ مجموعی طور پر جنوری 2020ء میں مقامی مارکیٹ میں پک اَپ کی فروخت میں 45.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

ٹریکٹروں کی فروخت:

ٹریکٹروں کی فروخت دوسری گاڑیوں سے ہرگز مختلف نہیں رہی۔ میسی فرگوسن ایک بار پھر 1309 یونٹس کی فروخت کے ساتھ ٹریکٹروں کی فروخت میں آگے آگے رہا۔ اس کے بعد فیئٹ نے 882 یونٹس اور اورینٹ IMT نے 22 یونٹس فروخت کیے۔ تاہم ، مذکورہ بالا تمام برانڈز کی فروخت 32 فیصد سے 50 فیصد تک گھٹ گئی ہے۔ پچھلے مہینے کے دوران اس زمرے میں 2213 یونٹوں کی فروخت کے ساتھ مجموعی فروخت میں 36.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

موٹر سائیکلوں کی فروخت:

دوسری طرف ، پاکستان کے آٹو سیکٹر میں موٹرسائیکلوں کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو غالباً عوام کے لیے سفر کا واحد ایسا ذریعہ بچا ہے جو ان کی جیب پر بھاری نہیں پڑتا۔ پچھلے مہینے ہونڈا، یاماہا اور سوزوکی سمیت ملک کے بڑے موٹر سائیکل برانڈز کی فروخت میں بہتری آئی ہے۔

اٹلس ہونڈا نے جنوری 2019ء کے مقابلے میں پچھلے مہینے میں 7 مزید یونٹس فروخت کیں۔ اس کی فروخت میں 95016 یونٹس کے ساتھ 0.01 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ موجودہ مالی سال میں اٹلس ہونڈا کی فروخت میں مجموعی طور پر آنے والی کمی بھی گھٹتے گھٹتے تقریباً 4.5 فیصد رہ گئی ہے۔

اسی طرح سوزوکی پاکستان نے بھی جنوری 2020ء کے دوران 1876 یونٹس فروخت کیے۔ یوں پچھلے سال کے اسی مہینے میں 1874 یونٹوں کے مقابلے میں 0.1 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یاماہا نے گزشتہ ماہ اپنی فروخت میں مزید بہتری کی ہے کیونکہ اس کی فروخت 2009 یونٹس تک جا پہنچی ہے ، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1675 یونٹوں کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد کا اضافہ ہے۔

یاماہا پاکستان ملک میں موٹرسائیکلیں تیار کرنے والا واحد ادارہ بھی ہے کہ جس کی فروخت میں رواں مالی سال ‏2019-20ءکے دوران 2 فیصد کا اضافہ ہوا۔

روڈ پرنس اور یونائیٹڈ موٹر سائیکلیں ملک میں زیادہ فروخت ہونے والے دیگر برانڈز میں شامل ہیں۔ دونوں نے پچھلے مہینے کے دوران بالترتیب 10405 اور 25331 یونٹس فروخت کیے۔ اس کے باوجود ان کی فروخت میں بالترتیب تقریباً 10 اور 14 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ پچھلے مہینے موٹرسائیکلوں کی کُل فروخت میں صرف 3.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ جولائی تا جنوری کے دوران فروخت میں کمی کا تناسب اس وقت 9.5 فیصد ہے۔

مالی سال ‏2019-20ء‎ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیاں: 

سوزوکی آلٹو رواں مالی سال ‏2019-20ء‎ کے دوران 25452 یونٹس کی فروخت کے ساتھ واضح مارجن کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد ٹویوٹا کرولا 15187 یونٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس عرصے میں ہونڈا سوِک اور سٹی کی مشترکہ فروخت 8797 یونٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ نیچے دیے گئے ٹیبل میں ٹاپ 10 فروخت ہونے والی کاریں دیکھیں: 


ہماری طرف سے اتنا ہی۔ پاکستان میں گاڑیوں کے متعلق ایسی ہی مزید معلومات کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔ اپنے خیالات کا اظہار نیچےتبصروں میں کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے