ایل این جی کی نجی درآمد کے بعد سی این جی کی قیمتیں کم ہو جائیں گی

1 079

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن (APCNGA) سینٹرل چیئرمین غیاث عبد اللہ پراچہ نے کہا ہے کہ ایک بار نجی شعبہ لکوئیفائیڈ نیچرل گیس (LNG) کی درآمد شروع کر دے تو سی این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی آئے گی۔ ایسوسی ایشن کو اگلے چند ہفتوں میں نجی اداروں کی شمولیت کی توقع ہے۔ حکومت توانائی کے شعبے میں اپنا کردار محدود کرنا چاہتی ہے، جو اس شعبے میں مسابقت کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ مقابلے کی فضاء قیمتوں کو کم کرنے اور بڑے پیمانے پر دستیابی ممکن بنانے میں مدد دے گی۔ مستقبل میں قیمتیں اور سپلائی دونوں مستحکم ہوں گی۔  

اندازوں کے مطابق سی این جی کی قیمتوں میں 10 سے 12 روپے فی کلو کمی آئے گی۔ سی این جی اسٹیشن بھی مکمل طور پر کام کریں گے اور رسد و طلب کے درمیان آنے والا فرق بھی ایل این جی کی درآمد کرنے والے نجی اداروں کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔ پاکستان میں سی این جی کی سپلائی بہتر ہو جانے سے پٹرول اور دیگر ایندھنوں پر موجود دباؤ بھی کم ہوگا۔ اس سے ان کی دستیابی بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ چیئرمین APCNGA نے کہا کہ: 

«ایسوسی ایشن پچھلے دو سالوں سے ایل این جی کی درآمد میں نجی شعبے کی آمد کا مطالبہ کر  رہی ہے، اب جلد ہی ایسا ہونے جا رہا ہے۔ اس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے یکساں بہتر صورت حال کی ضمانت ملے گی۔» 

APCNGA کے چیئرمین کے مطابق ایسا میکانزم موجود ہے جس کے تحت نجی شعبہ اپنی ضرورت کے مطابق ایل این جی درآمد کر سکتا ہے۔ چیئرمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سی این جی کبھی پٹرول اور ڈیزل جیسے دوسرے ایندھنوں سے کافی سستی تھی۔ اگر نجی شعبہ کامیابی کے ساتھ ایل این جی درآمد میں شامل ہوتا ہے تو بلاشبہ سی این جی کو مستقبل میں ایک نئی زندگی ملے گی۔ سی این جی کی سپلائی حالیہ کچھ عرصے میں اوپر نیچے ہوتی رہی ہے، اور کراچی میں سی این جی اسٹیشنوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں۔ پنجاب میں 1,000 سے زیادہ سی این جی اسٹیشن ہیں جبکہ ان کی تعداد سندھ میں تقریباً 500 اور خیبر پختونخوا میں 600 ہے۔ 

مزید خبروں اور معلوماتی مواد کے لیے آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ 

Google App Store App Store
تبصرے