کراچی پورٹ پر 500 لاوارث گاڑیوں کی عام نیلامی

0 9 112

فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO) نے کراچی پورٹ پر 500 سے زیادہ نان-کلیئرڈ لاوارث گاڑیاں پائیں۔ FTO کی اپنی تحقیق کے مطابق یہ گاڑیاں وزارت تجارت کے قانونی احکامات (SROs) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امپورٹ کی گئی تھیں۔ FTO نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو حکم دیا کہ وہ جلد از جلد ان گاڑیوں کی عام نیلامی کر کے انہیں کلیئر کرے۔ FBR نے گزشتہ روز نیلامی کا آغاز کیا جو آج بھی جاری رہی جب تک کہ گاڑی فروخت ہو جائیں اور پورٹ سے نکل جائیں۔

کسٹمز ایکٹ کے تحت کوئی بھی امپورٹڈ چیز، اگر پورٹ پر آمد کے بعد 20 دن میں کلیئر نہیں ہوئی، تو وہ FBR کے پاس آ جاتی ہے۔ ایکٹ کہتا ہے کہ FBR ایسی چیزوں کو بروقت پورٹ سے ہٹانے اور انہیں ایکشن شیڈول میں درج کرنے کا ذمہ دار ہے۔

‏FTO نے اس حوالے سے کہا کہ FBR اس سسٹم کو کام میں لانے میں «ناکام» رہا۔ فیصلہ مزید کہتا ہے کہ یہ FBR کی جانب سے بے انتظامی کا معاملہ ہے۔ اس لیے فیڈرل ٹیکس محتسب مشتاق احمد سکھیرا نے FBR کو ہدایت کی کہ وہ ضروری اقدامات اٹھائیں اور اس کارروائی کو مکمل کریں۔

‏FTO کی جانب سے تحقیق

FTO نے خود قدم اٹھاتے ہوئے تحقیق کا آغاز کیا اور پایا کہ یہ گاڑیاں پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس یا گفٹ اسکیم کے تحت درآمد کی گئی تھیں۔ تحقیقات کے مطابق FTO نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بیشتر گاڑیاں ہر نیلامی میں زیادہ تر ایک ہی بولی لگانے والوں کو فروخت کی گئی ہیں۔

نیلامی کے سیلز ریکارڈ کے مطابق جولائی سے نومبر کے دوران 62 بولی لگانے والوں نے 167 گاڑیاں خریدیں، جبکہ 20 بولی لگانے والوں نے 117 گاڑیاں۔ یہ نام نہاد پروفیشنل بولی لگانے والے بہت سی گاڑیاں خرید رہے ہیں اور پھر انہیں اوپن مارکیٹ میں بڑے منافع کے ساتھ بیچ رہے ہیں۔

نتیجتاً FTO نے ان نیلامیوں کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور FBR کو اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا۔

‏FBR ان احکامات کے تحت ان نان کلیئرڈ گاڑیوں کی نیلامی کر رہا ہے۔ نیلامی عام ہے، جس کا مطلب ہے کوئی بھی حصہ لے سکتا ہے اور اپنی پسندیدہ گاڑی نیلامی سے حاصل کرنے کا موقع پا سکتا ہے۔ FTO کی جانب سے سرکاری حکم کے تحت FBR 167 گاڑیاں نیلام کر چکا ہے جبکہ 500 گاڑیاں اب بھی موجود ہیں۔

کسٹم آکشن کی حقیقت

کسٹمز ایکٹ 1969ء کے تحت FBR امپورٹڈ گاڑی کو ضبط کر لیتا ہے اور نیلامی کا نوٹس جاری کرتا ہے جب:

  • گاڑی FBR کی جانب سے مقرر کردہ عمر کی حد سے باہر ہو (کار کے لیے 3 سال؛ جیپوں وغیرہ کے لیے 5 سال)
  • گاڑی کا کوئی والی وارث نہ ہو، اور مالک کا پتہ نہ چلے
  • مالک کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنے میں ناکام ہو
  • مالک قانونی کاغذات نہ رکھتا ہے اور گاڑی نان-ٹیمپرڈ ہو

‏FBR دعویٰ کرتا ہے کہ یہ تمام امپورٹڈ گاڑیاں ملک کے لیے ریونیو کا ذریعہ بنی ہیں۔ ڈپارٹمنٹ سب سے زیادہ بولی لگانے والوں کو یہ گاڑیاں فروخت کرنے کے لیے قانونی نیلامی کی میزبانی کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ FBR کے ایجنٹس قوانین کے مطابق نہیں چلتے۔ وہ نیلامی کے عمل میں اپنے ہی کھیل کھیلتے ہیں؛ اس طرح یہ اچھی گاڑیاں خود ملیں یا انہیں اپنے پسندیدہ لوگوں کو دیں۔ وہ کرتے یہ ہیں کہ نیلامی کی تمام چیزوں کی تشہیر کرتے ہیں اور «خوبصورت» گاڑیوں کو خریدار کے لیے سب سے کم پرُکشش بنا کر پیش کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایسی گاڑیاں آتی ہیں اور چند نیلامیوں کے بعد بھی «غیر فروخت شدہ» شمار ہوتی ہیں۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے تو ان کی قیمت کافی گر جاتی ہے۔ آخر میں یہ خوبصورت گاڑیاں یہ کم سے کم قیمت پر اپنے جاننے والوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔

ایک اور حرکت یہ ہوتی ہے کہ وہ پروفیشنل بولیاں لگانے والوں کی مافیا کے ساتھ مل کر نئے خریداروں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ وہ نیلامی سے پہلے ان پروفیشنل لوگوں کے ساتھ گاڑیوں کی قیمت پر بات چیت کرتے ہیں۔ جب نیلامی کا وقت آتا ہے تو یہ لوگ غیر معمولی اور نامعقول بولیاں لگا کر نئے خریداروں کو پریشان کرتے ہیں اور یوں اُن کے لیے نیلامی پر موجود چیز کو مناسب قیمت پر حاصل کرنے کا موقع ضائع کر دیتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ FTO پہلے ہی FBR کے نیلامی معاملات سے نمٹ چکا ہے۔ نتیجتاً کسٹمز ڈپارٹمنٹ ایک ای-آکشن ماڈیول پر کام کر رہا ہے تاکہ لوگوں کے لیے امپورٹڈ گاڑیاں ڈجیٹل طور پر خریدنا ممکن ہو سکے۔

دیکھتے ہیں FBR اس نئے ای-آکشن ماڈیول کو بنانے اور لاگو کرنے میں کتنا وقت لگاتا ہے اور نیا سسٹم نیلامی اور کلیئر نہ ہونے والی لاوارث گاڑیوں کا فیصلہ کرنے میں کیا بہتری لاتا ہے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.