کیا چھوٹی کاریں واقعی فیول بچاتی ہیں؟

0 12 079

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں صارفین یہی سمجھتے ہیں کہ چھوٹی گاڑیاں فیول پر زیادہ بچت دیتی ہیں۔ دراصل عوام اچھا ایوریج رکھنے والی کاریں ہی پسند کرتے ہیں۔ آبادیاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ شہر اور فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں، اس لیے ہم سے زیادہ تر لوگ ایسی گاڑیاں چاہتے ہیں جو بہترین mileage رکھتی ہوں۔

ہم نے سڑکوں پر زیادہ تر چھوٹی گاڑیوں کو ہی چلتے دیکھا ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا انجن چھوٹا ہوتا ہے اور ان پر لاگت کم آتی ہے۔ لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انجن ہی واحد آپشن ہے، یا چھوٹی کاریں واقعی فیول پر بچت دیتی ہیں؟

چھوٹی کاروں کے حوالے سے تاثر:

چھوٹی گاڑیوں، ان کے پارٹس، displacements اور انجنوں وغیرہ کے حوالے سے ایک تاثر بن چکا ہے۔ لیکن کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اس لیے ہمیں یہ تاثر ٹھیک کرنا ہوگا۔

اصل میں لوگ سمجھتے ہیں کہ 1300cc یا اُس سے زیادہ کی گاڑیاں 1000cc سے کم انجن رکھنے والی گاڑیوں سے زیادہ فیول استعمال کرتی ہوں گی۔ حالانکہ یہ تاثر مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ انجن کی displacement سے ہٹ کر دیکھیں تو فیول کی کھپت اور efficiency کا زیادہ تر انحصار گاڑی کی پاور اور وزن کے تناسب پر ہوتا ہے۔

چھوٹی گاڑیاں اور انجن کی displacement:

انجن کی displacement کی پیمائش مکعب سینٹی میٹرز میں کرنی چاہیے اور یہ ہوا کا وہ حجم ہوتا ہے جو انجن کے سلنڈرز میں pistons کی حرکت سے ادھر ادھر ہوتا ہے۔ جبکہ ہارس پاور یا ٹارک انجن کے output کی پیمائش کا یونٹ ہے۔

ہارس پاور ظاہر کرتا ہے اس مسلسل کام کو جو ایک کار کا انجن گاڑی کو کھینچتے ہوئے کرتا ہے۔ آسان انداز میں سمجھائیں تو ایک بوتل کی displacement کو تصوّر میں لائیں؛ جتنی بڑی بوتل ہوگی، اتنا زیادہ پانی ہوگا۔ یعنی آپ زیادہ پانی پی سکتے ہیں اور انجن کے output کی مثال اس بوتل کی کیلوریز (توانائی) جیسی ہوگی۔

یہ مثال آپ کو ہارس پاور/ٹارک اور انجن displacement کے تعلق کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی۔

کیا چھوٹی کاریں فیول بچاتی ہیں؟

لوگوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے انجن زیادہ فیول بچت دیتے ہیں، یہ بات ایک لحاظ سے درست ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم چھوٹے انجنوں کا مقابلہ بڑے انجن سے کریں تو یہ بات مکمل طور پر سچ نہیں ہے۔

ایک چھوٹی کار کی مثال لیں، جیسا کہ 660cc انجن رکھنے والی، اسے اندر بیٹھے پانچ مسافروں کو چلانے کے لیے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوگی کیونکہ گاڑی مکمل طور پر لوڈڈ ہے۔ اس کے علاوہ اسے زیادہ رفتار پر چلنے کے لیے یا پہاڑی پر چڑھنے کے لیے زیادہ طاقت یعنی زیادہ فیول درکار ہوگا۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم 1300cc کار کو دیکھیں اسے 660cc سے کہیں کم پاور کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ چھوٹی کاروں میں حد سے زیادہ طاقت اور رفتار بھی بڑی گاڑیوں کے مقابلے میں ان میں وقت سے پہلے خرابی کا سبب بنتی ہے۔

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق:

اس مقصد کے لیے برطانیہ میں پچھلے سال ایک تحقیق کی گئی تھی؛ ڈرائیوروں کا ماننا تھا کہ چھوٹے انجن زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ البتہ Emission Analysts نے پایا کہ معاملہ درحقیقت اُلٹا ہے۔ اصل میں صارفین زیادہ فیول اس لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ انہیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، اور گاڑیوں کو بھی زیادہ زور لگانا پڑتا ہے؛ اس لیے زیادہ طاقت استعمال ہوتی ہے۔

اس کے لیے سائنس دانوں نے برطانیہ کی سڑکوں پر تین گھنٹوں کے لیے 500 گاڑیوں کے ٹیسٹ کیے، آدھی ڈیزل تھیں اور باقی پٹرول پر تھیں۔ نتائج نے ظاہر کیا کہ کاروں نے مینوفیکچر کے بتائے ہوئے اندازوں سے 18 فیصد کم سفر کیا۔

ٹیکنالوجی اور فیول کی کھپت:

یہ بات آجکل تو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ ٹیکنالوجی اب زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے اور جدید انجنز فیول کی کھپت کے معاملے میں کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ پاور اور وزن کے تناسب کو ذہن میں رکھیں تو مینوفیکچررز نے کاروں میں خاص انجن لگائے ہیں۔ اب بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ 1300cc ایندھن کے حوالے سے اتنا مؤثر نہیں اور بہتر کھپت کے لیے 1000cc زیادہ بہتر ہے۔

لیکن یہ تصور غلط ہے۔ ذرا سوزوکی سوئفٹ کی مثال ہی لے لیں؛ یہ 1 لیٹر کے مقابلے میں 1.3 لیٹر انجن پیش کرتی ہے کیونکہ یہ اپنا وزن اٹھا سکتی ہے اور اپنے کام مؤثر انداز میں کر سکتی ہے۔ البتہ پھر بھی ہم اس نتیجے تک نہیں پہنچتے کہ زیادہ بڑے انجن فیول کے حوالے سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1.6 لیٹر گنجائش کا انجن سوئفٹ میں لگا دیا جائے تو اسے زیادہ فیول کی ضرورت ہوگی کیونکہ وہ عام سائز سے زیادہ طاقت پیدا کرے گی۔

یہی معاملہ ٹویوٹا بیلٹا کا ہے، یہ 1000cc انجن میں آتی ہے، جو سست لگتا ہے یہاں تک کہ مارکیٹ میں موجود 1300cc انجن ورژن کے مقابلے میں بھی، جو پاور اور وزن کے تناسب کے لحاظ سے نسبتاً بہتر ہے۔

اس گفتگو کے بعد ایک مخصوص سوال آپ کے ذہن میں ضرور ابھرا ہوگا کہ اگر پاور اور وزن کا تناسب ضروری ہے تو پھر کاریں بنانے والے ہمیں بہترین انجن کیوں نہیں دیتے۔ اگر ہم اپنی مارکیٹ میں ٹویوٹا کرولا کی بات کریں تو یہ تین قسم کے انجنز فراہم کرتی ہے جو 1.3 لیٹرز، 1.6 لیٹرز اور 1.8 لیٹرز ہیں۔

اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ انجن کے علاوہ کاریں بنانے والے کئی دوسرے عوامل بھی پیش کرتے ہیں جو ہمیں مختلف configurations اور trims دیتے ہیں۔ یہ اس لیے تاکہ ایک ہی کار مختلف قسم کے کسٹمرز کا احاطہ کرے، ان میں سے ہر کسی کی مختلف پسند ہے، کوئی اکانمی کو پسند کرتا ہے جبکہ دوسرے پرفارمنس کو ترجیح دیتے ہیں۔

حکومت انجن displacement کی بنیاد پر آٹوموبائل ٹیکس لیتی ہے؛ اس لیے پاکستان جیسے ایک ترقی پذیر ملک میں ٹیکسیشن کی وجہ سے عام طور پر کم انجن displacement رکھنے والی گاڑیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

پاور اور وزن کے تناسب کا حساب لگانا:

اگر آپ گاڑی کے پاور اور وزن کے تناسب (power to weight ratio) کا حساب لگانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو کار کے ہارس پاور کو اس کے کُل وزن سے تقسیم کرنا ہوگا۔ اگر جواب زیادہ آئے تو آپ کی کار زبردست پرفارمنس رکھتی ہے۔ پاور اور وزن کے تناسب کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے اہم فیکٹرز بھی ہیں، جو گاڑی کی قابلیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔

ان فیکٹرز میں شامل ہیں کہ آپ کار کس طرح ڈرائیو کرتے ہیں، ٹائر پریشر، فیول کی کوالٹی اور گاڑی کی maintenance وغیرہ کیسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیول کی کھپت کا تعلق صرف انجن کے سائز پر نہیں ہو سکتا۔

حالانکہ ہمارے پاس اپنی گاڑی کے حوالے سے مارکیٹ میں کم آپشنز ہیں، لیکن ہمیشہ اپنی پسند کی گاڑی خریدیں۔ ایسی کار جو خریداری کے آپ کے معیارات پر پوری اترتی ہو، دوسرے کیا خرید رہے ہیں اس طرف نہ دیکھیں۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ 1000cc کار ایک 1300cc کار سے زیادہ ایندھن بچاتی ہے، کو اپنی اس رائے کو بدلنا ہوگا۔

غلط فہمی کی وجہ:

ایک غلط فہمی یہ ہے کہ مینوفیکچرر ضروری معلومات نہیں دیتا۔ اس تفصیل میں پاور اور وزن کا تناسب، گاڑی کا کُل وزن وغیرہ شامل ہیں۔ اس لیے ایندھن بچت کے لیے انجن پر توجہ دینے کے بجائے دوسرے فیکٹرز کو بھی دیکھیں جیسا کہ ٹارک/ہارس پاور۔

اگر آپ کوئی کار خرید رہے ہیں تو یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ بڑے انجن دباؤ میں یا زیادہ لوڈ پر بھی بہتر انجن پرفارمنس دیتے ہیں۔

Recommended For You: 

14 Ways To Improve Your Car’s Fuel Efficiency

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.