ٹویوٹا اور بی وائی ڈی نے بیٹری الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے لیے اتحاد کر لیا

6 143

بین الاقوامی آٹو انڈسٹری کے دو بڑے ناموں نے بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر تحقیق اور اُن کی تیاری کے لیے ایک جوائنٹ وینچر تشکیل دے دیا ہے۔ اس جوائنٹ وینچر کا نتیجہ ایک نئی کمپنی کے قیام کی صورت میں نکلا ہے کہ جسے BYD ٹویوٹا EV ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئی کمپنی کی رجسٹریشن بھی مکمل ہو چکی ہے یعنی آپریشنز کا آغاز جلد ہی ہونے والا ہے۔ 

اس جوائنٹ وینچر کے مطابق آپریشنز کی شروعات مئی 2020ء سے ہوگی۔ BYD نے جرمنی سے تعلق رکھنے والے Daimler جیسے دوسرے آٹو مینوفیکچررز کے ساتھ بھی جوائنٹ وینچرز کر رکھے ہیں۔ 

چیف ایگزیکٹو آفیسر BYD سے تعلق رکھنے والے Zhao Binggen ہیں اور ٹویوٹا کی جانب سے اِس نئی کمپنی کے چیئرمین Hirohisa Kishi ہیں۔ اس نئی کمپنی میں کُل چھ ڈائریکٹرز (تین ٹویوٹا اور تین BYD سے) اور دو آڈیٹرز (ایک ٹویوٹا اور ایک BYD سے) ہیں۔ ہیڈ آفس چینی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر شین ژین کے ضلع پنگ شان میں ہے۔ 

BYD ٹویوٹا EV ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کا بنیادی مقصد بیٹری الیکٹرک گاڑیاں کی تیاری ہے۔ اس میں ان گاڑیوں کے پلیٹ فارمز اور پرزوں کی تیاری بھی شامل ہے۔ BYD اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن دونوں جوائنٹ وینچر کمپنی میں 50 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ اس نئے جوائنٹ وینچر میں کُل 300 ملازمین کام کریں گے۔ 

چیئرمین BYD ٹویوٹا EV ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے کہا کہ :

«BYD اور ٹویوٹا ایک ہی چھت تلے مل کر کام کر رہی ہیں، جس کا مقصد ایسی BEVs بنانا ہے جو کارکردگی میں اعلیٰ ہوں اور دونوں کمپنیوں کی طاقت اور دوستانہ مسابقت کے ذریعے چین میں صارفین کی ضروریات پوری کریں۔» 

اسی حوالے سے چیف ایگزیکٹو آفیسر Zhao Binggen نے کہا کہ: 

«اس جوائنٹ وینچر کی توجہ چین اور جاپان دونوں کی ٹیکنالوجی اور معلومات کے ذریعے بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر تحقیق اور ان کی تعمیر پر رہے گی۔ ہمارا وژن مستقبل کے صارفین کی ترجیحات کے مطابق گاڑیوں کی تیاری اور انسان اور فطرت کے لیے ایک بہتر ماحول تخلیق کرنا ہے۔» 

ان دونوں بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جوائنٹ وینچر دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں آرام دہ، صارف دوست، انٹیلی جنٹ اور محفوظ الیکٹرک گاڑیاں بنانا شامل ہوگا۔ یہ کام اعلیٰ معیار کی جدید ٹیکنالوجی بنانے میں سرمایہ کاری کے ذریعے کیا جائے گا۔ البتہ دوسرے معروف آٹو مینوفیکچررز کے ساتھ ٹویوٹا کا تقابل کریں تو یہ EV ٹیکنالوجی قبول کرنے میں ذرا پیچھے پیچھے رہا ہے۔ یہ ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے معاملے میں پیش پیش تھا کہ جب اس نے پرائیس لانچ کی۔ 

اس جوائنٹ وینچر کا ایک اور ہدف دنیا بھر میں اور خاص طور پر چین میں فضائی آلودگی کو کم کرنا ہے۔ عام کاروں کے روایتی ایندھن سے چلنے والے انجن بہت فضائی آلودگی پھیلاتے ہیں اور فضا کے معیار کو خراب کرنے کا ای کاہم سبب ہیں۔ بیٹری الیکٹرک گاڑیاں (BEVs) ہمیں ماحول کو بہتر بنانے اور اسے رہنے کے قابل بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ پاکستان میں EV پالیسی کے کئی اہداف ہیں جن میں تیل کی کھپت اورفضائی آلودگی میں کمی لانا بھی شامل ہیں۔ 

کم خرچ گاڑیاں بنانے کے لیے BYD جیسے چینی اداروں کے ساتھ دنیا بھر کے آٹومیکرز کا اشتراک مارکیٹ میں مسابقت کا ماحول برقرار رکھے گا۔ چین اب ایک بڑی ٹیکنالوجی طاقت بن چکا ہے، خاص طور پر سستی الیکٹرک گاڑیوں کے معاملے میں۔

مزید دلچسپ آٹوموٹو خبروں کے لیے آتے رہیے اور اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ 

Google App Store App Store
تبصرے