مالی سال ‏2019-20ء‎‎ میں گاڑیوں کی فروخت میں 40 سے 60 فیصد کمی کا خدشہ


گاڑیوں کی فروخت میں کمی کا رحجان مالی سال ‏2019-20ء‎ میں جاری رہنے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں 1,50,000 افراد بے روزگار ہوں گے۔ 

گاڑیوں پر اضافی ٹیکسز کی بھاری شرح لاگو ہونے کی وجہ سے آٹو انڈسٹری منہ  کے بل گر گئی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی تمام اقسام کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) بھی لگائی ہے، جس میں انجن کے لحاظ سے تین شرح لاگو ہیں: 2.5 فیصد، 5 فیصد اور 7.5 فیصد۔ حکومت کی جانب سے خام مال پر بھی ایڈوانسڈ کسٹمز ڈیوٹی (ACD) نامی ایک اور ڈیوٹی 5 فیصد کی شرح سے لگائی گئی جس نے آٹو انڈسٹری کو بری طرح متاثر کیا۔ مینوفیکچرنگ کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے، یوں ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گھٹتی ہوئی قدر نے آٹو مینوفیکچررز کو قیمتیں بڑھانے پر مجبور کیا۔ نتیجتاً صارفین کی قوتِ خرید میں بہت کمی آئی اور گاڑیوں کی فروخت بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی۔ کم ہوتے ہوئے آرڈرز کی وجہ سے کمپنیوں کے پاس تیار گاڑیوں کا ذخیرہ جمع ہونے لگا اور وہ اپنی پیداوار روکنے پر مجبور ہوگئیں۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے دوران بھی یہ زوال جاری رہے گا جس کا نتیجہ ایک سال کے عرصے میں 1,50,000 افراد کی بے روزگاری کی صورت میں نکلے گا۔ 

آٹو انڈسٹری فروخت کو 2021ء تک 0.3 ملین اور 2022ء تک 0.5 ملین کے ہدف تک پہنچانا چاہتی تھی لیکن موجودہ اقتصادی صورت حال میں یہ ہدف بہت بہت دُور کی کوڑی لگتا ہے۔ کاروبار کرنے کی لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ کی وجہ سے گزشتہ چند مہینوں میں کاروں اور LCVs کی فروخت میں مقابلتاً  بہت کمی آئی ہے۔ مارکیٹ سے واقف حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ چند مہینوں کا مسئلہ نہیں بلکہ آئندہ دنوں میں مارکیٹ مزید زوال کا شکار ہوگی۔ موجودہ آٹو مینوفیکچررز کم فروخت کی وجہ سے اپنے مینوفیکچرنگ کے منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ نئے ادارے بھی ملک کی مسلسل ابتر ہوتی ہوئی معاشی صورت حال کی وجہ سے غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ یہ اقتصادی بحران ہی کا نتیجہ ہے کہ جس کی وجہ سے ہونڈا اٹلس اور ٹویوٹا انڈس جیسے بڑے ادارے بھی اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہوئے۔ 

ہونڈا اٹلس نے حال ہی میں اپنا پروڈکشن پلانٹ 10 دن کے لیے بند کیا تھا کیونکہ اس کے پاس 2000 گاڑیوں کا ذخیرہ جمع ہو چکا تھا۔ اسی طرح ٹویوٹا انڈس نے بھی ہر ہفتے دو دن اپنی پروڈکشن بند رکھنے کا فیصلہ کیا، یعنی ایک مہینے میں 8 دن۔ پاک سوزوکی واحد جاپانی آٹو مینوفیکچرر ہے جو موجودہ صورتحال سے متاثر نہیں دکھائی دیتا کیونکہ اس نے اعلان کیا کہ کمپنی اپنی پیداوار میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ پاک سوزوکی کے بکنگ آرڈرز میں ابھی تک کمی نہیں ہوئی، جس سے لگتا ہے کہ کمپنی کی گاڑیوں کی فروخت اپنی سطح پر برقرار ہے۔ بہرحال، وقت آئے گا کہ پاک سوزوکی بھی اپنی پیداوار بند کرنے اور ملازمین کو نکالنے پر مجبور ہوگا۔ 

پاکستان میں آٹو پارٹس بنانے والے بڑے ناموں میں سے ایک الماس حیدر کا کہنا ہے کہ کاروں کی فروخت میں کمی ملک کی آٹو انڈسٹری کو سخت چیلنج دے رہی ہے۔ ان کے مطابق صنعت کو روپے کی قدر میں اتنی گراوٹ کی توقع نہ تھی۔ اب آج صنعت پریشان حال ہے کیونکہ مینوفیکچرنگ کی لاگت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ 

ادھر حکومت کو معقول اقدامات اٹھانے چاہئیں اور بجٹ ‏2019-20ء‎ میں لگائے گئے تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز واپس لینی چاہئیں۔ حکومت کا ٹیکس کلیکشن بڑھانے کا ہدف کاروں کی گھٹتی ہوئی فروخت کے حالات میں کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ مزید یہ کہ آٹوموبائل پالیسیوں کو طویل عرصے کے لیے تسلسل کے ساتھ لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ اور نئے ادارے اپنی پیداوار  کو اُسی حساب سے ترتیب دے سکیں۔ ہیچ بیکس کے مقابلے میں 1300cc اور اس سے زیادہ کی گاڑیوں کی فروخت میں زیادہ کمی دکھائی دی ہے جس نے آٹو انڈسٹری کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً آٹو پارٹس بنانے والوں نے بھی اپنے کام کے دِن کم کردیے ہیں اور اِس وقت جو معمولی سی طلب ہے، اسے پورا کرنے کے لیے ایک ہی شفٹ میں کام کر رہے ہیں۔ یہ سب آٹو انڈسٹری کے لیے اچھے اشارے نہیں ہیں اور حکومت کو جلد از جلد اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ آٹو انڈسٹری ٹیکس کلیکشن میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس لیے اسے ایسے ماحول میں پھلنے پھولنے کا موقع دینا چاہیے جہاں اسے تحریک و ترغیب ملے۔ 

ملک میں گاڑیوں کی کم ہوتی فروخت پر آپ کی کیا رائے ہے؟ ہمیں ضرور آگاہ کیجیے۔ آٹوموبائل انڈسٹری سے متعلق تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top