CTP راولپنڈی کی جانب سے کمپیوٹرائزڈ ٹریفک سائن ٹیسٹنگ سسٹم کا اجراء

0 440

موجودہ ڈرائیونگ لائسنس عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے سٹی ٹریفک پولیس (CTP) راولپنڈی کی جانب سے کمپیوٹرائزڈ ٹریفک سائن ٹیسٹنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ ٹریفک سائن ٹیسٹنگ سسٹم لائٹ ٹریفک وہیکلز (LTV) اور ہیوی ٹریفک وہیکلز (HTV) کے ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کرنے کے لیے نافذ کیا جائے گا۔ نئے سسٹم کے بارے میں سوال پر چیف ٹریفک آفیسر (CTO) راولپنڈی محمد بن اشرف نے واضح کیا کہ نیا کمپیوٹرائزڈ نظام لائسنس دینے کے عمل کو زیادہ شفاف بنائے گا۔ ماضی میں لائسنس بغیر کسی معقول امتحان کے دیے جاتے تھے جس کی وجہ سے کئی ڈرائیورز روڈ سائنز اور اس قانون کا بنیادی علم بھی نہیں رکھتے تھے۔ بلاشبہ یہ ملک میں حادثات کی تعداد میں اضافے کا اہم سبب ہے۔ نیا سسٹم لائسنس جاری کرنے کے عمل سے بہتری آنا متوقع ہے۔

اس نئے جاری کردہ سسٹم میں چیف ٹریفک آفیسر (CTO) موٹر وہیکل ایگزامنر (MVE) کے تعاون سے تمام LTV اور HTV لائسنسز کے لیے روڈ سائنز کے حوالے سے ایک کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ کریں گے۔ مزید برآں محکمہ عوام کی آسانی کے لیے ضروری اقدامات بھی اٹھا رہا ہے۔ ان میں سے ایک ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز کے مرکزی داخلے کے ساتھ انفارمیشن ڈیسک کا قیام ہے۔ لائسنس جاری کرنے کے عمل کے حوالے سے تمام اہم معلومات اور سوالات کا جواب انفارمیشن ڈیسک پر موجود افسر دے گا تاکہ لائسنس کے لیے درخواست دینے سے قبل تمام معاملات واضح ہو جائیں۔

کسی بھی لائسنس یافتہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹریفک کے اشاروں اور قواعد کی بنیادی معلومات رکھتا ہو۔ اسی لیے کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹنگ سٹم میں ٹریفک کے سب سے زیادہ عام قوانین اور سڑکوں پر لگائے گئے اشاروں کے بارے میں آگہی کو شامل کیا جائے گا۔ CTO نے آگاہ کیا کہ نومتعارف شدہ نظام کے انتہائی قابل ماہرین کی ٹیم رکھتا ہے اور انہیں نظام کی بہتری کے لیے میرٹ اور شفافیت پر کوئی سودا نہ کرنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ محکمے کا بنیادی ہدف ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے سفارش اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ہمارے ملک کے ڈرائیونگ لائسنس کی حیثیت ہونی چاہیے اور اسے صرف انہی افراد کو جاری کیا جانا چاہیے جو ٹریفک قوانین کی بنیادی سوجھ بوجھ کے ساتھ گاڑی کو چلانے کے قابل ہوں۔ سٹی ٹریفک پولیس (CTP) راولپنڈی اس پورے عمل کے دوران عوام کو آسانیاں فراہم کرنے سے وابستہ ہے۔

پاکستان میں جہاں لائسنس کسی فرد کی ڈرائیونگ مہارت کو جانچے بغیر دے دیے جاتے ہیں، ہمیشہ ایسے شفاف نظام کی ضرورت رہی ہے کہ جو ٹریفک کے بنیادی قوانین سے لاعلم کسی بھی ڈرائیونگ کو لائسنس جاری کرنے کے امکانات کا خاتمہ کرے۔ اگر یہ نظام کمپیوٹرائزڈ نظام درست کام کرتا ہے تو ہم مستقبل میں سڑک پر حادثات کی شرح میں بہت کمی دیکھیں گے۔

اس لیے اگر آپ ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دینے جا رہے ہیں تو اس سے پہلے ٹریفک قوانین کے بارے میں پڑھ لیں۔ ہماری طرف سے اتنا ہی۔ مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.