استثنا کے باوجود پشاور میں ہیلمٹ نہ پہننے پر سکھ نوجوان کا چالان

0 60

سکھ برادری کے ایک رکن من میت سنگھ کو موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ نہ پہننے پر پشاور کے علاقے ڈبگری میں 100 روپے کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

خیبر پختونخوا میں سکھ برادری کو موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ کے استعمال سے استثنا حاصل ہے۔ 2018ء میں پشاور پولیس نے سکھ کمیونٹی کو اپنی مذہبی شناخت پگڑی کی وجہ سے ہیلمٹ سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔

اس کے باوجود من میت کا چالان صوبائی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

لیکن پشاور سٹی کے SSP ٹریفک کاشف ذوالفقار نے من میت کا چالان کرنے اولے پولیس افسر کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس عہدیدار کو علم نہیں تھا کہ قانوناً سکھ برادری ہیلمٹ سے مستثنیٰ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا محکمہ پشاور میں رہنے والی تمام مذہبی برادریوں کا احترام کرتا ہےاور کرے گا اور اس حوالے سے تمام ٹریفک وارڈنز کو تحریری احکامات جاری کردیے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

خیبر پختونخوا میں 60,000 سکھ مقیم ہیں۔ ان میں سے 15,000 صوبائی دارالحکومت پشاور میں رہتے ہیں جو صوبے میں مقیم سکھ آبادی کا چوتھائی حصہ ہیں۔ اس لیے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو یقینی بنانا چاہیے کہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔

ایسی ہی اور آٹوموٹو انڈسٹری کی دیگر خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.