نان-فائلرز پر پابندی کے اثرات اور پاک سوزوکی کا اگلا قدم

0 83

نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی کے خاتمے سے قبل اس پالیسی نے پاک سوزوکی کی پیداوار اور فروخت کو 32 فیصد تک کم کردیا جو رواں سال اپنی لائن اپ میں نئی مقامی طور پر اسمبل شدہ آلٹو لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی کو کئی حلقوں نے سراہا کہ ان کے خیال میں یہ قدم زیادہ افراد کو ٹیکس دائرے میں لائے گا اور انہیں اپنے ریٹرنز فائل کرنے پر مجبور کرے گا۔ اس وقت پاکستان میں صرف 1.4 ملین افراد جو اپنے ٹیکس ریٹرنز فائل کرتے ہیں، جو بہت ہی خطرناک صورت حال ہے۔ گزشتہ حکومت نے پچھلے سال نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کردی تھی اس امید کے ساتھ کہ لوگ فائلر بننے پر مجبور ہوں گے۔ عوام کی جانب سے اس کے مثبت ردعمل کے بجائے ملک میں آٹوموبائل صنعت کی فروخت میں بری کمی آغی، جس کا مطلب ہے لوگ اپنے ٹیکس ریٹرنز فائلز کرنے کو تیار نہیں ہیں اور مارکیٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں پر ہی راضی ہیں۔ چھوٹی گاڑیاں پاکستان میں ہمیشہ پیداوار اور فروخت میں آگےرہی ہیں۔ یہ شعبہ بڑے پیمانے پر پاک سوزوکی کی گاڑیوں پر مشتمل ہے کہ جس کی پیداوار اور فروخت نان-فائلرز پر پابندی کی وجہ سے 32 فیصد کم ہوئی۔ مینوفیکچرر اس فیصلے سے خوش نہیں کہ جو پورے آٹو سیکٹر کے لیے رکاوٹ ثابت ہوا۔

پاک سوزوکی کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ نان-فائلرز پر ٹیکس کی شرح بڑھانے چاہیے بجائے اس کے کہ ان پر پابندی لگا دی جائے۔ اس طرح اقتصادی سرگرمیاں رواں رہیں گی اور اسی دوران حکومت نان-فائلرز سے ملنے والے اضافی ٹیکس سے اچھی آمدنی حاصل کرے گی۔ مزید برآں، نان-فائلرز کو گاڑیاں خریدنے سے روک کر انہیں باقی اشیاء خریدنے کے لیے کھلا چھوڑ دینا بھی اچھا نہیں۔ واضح رہے کہ یہ بیانات وزیر خزانہ کی جانب سے 23 جنور ی2019ء کو منی بجٹ پیش کرنے سے پہلے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی گاڑیوں کے صارفین نان-فائلر اور فائلر کے معاملات سے آگاہ بھی نہیں۔ پاکستان میں آبادی کی بڑی تعداد مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے جو چھوٹی گاڑیاں خریدنے کا رحجان رکھتے ہیں اور نان-فائلرز پر پابندی نے آٹوموبائل صنعت کو زوال کا نشانہ بنایا بجائے اس کے کہ لوگوں کو ٹیکس دائرے میں لا کر آتی۔

اب جبکہ اضافی ٹیکس کی ادائیگی کے ساتھ نان-فائلرز پر سے پابندی ہٹا دی گئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ زیادہ لوگوں کا رحجان 1300cc تک کی نئی کاڑی خریدنے کے لیے اضافی پنالٹی ادا کرنے کے بجائے فائلر بننے کی جانب زیادہ ہے۔ آٹوموبائل انڈسٹری کی فروخت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ متوقع ہے یوں گاڑیوں کی پیداوار کے لیے افرادی قوت کی بڑھتی طلب کے ساتھ ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ البتہ سیڈان کے شعبے میں 1300cc سے زیادہ انجن گنجائش رکھنے والے گاڑیوں کے لیے نئی ٹیکس پالیسی میں کوئی اچھی خبر نہیں کیونکہ نان-فائلرز اب بھی ان گاڑیوں کی خریداری نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب 1800cc سے زیادہ کی لگژری گاڑیوں پر امپورٹ ڈیوٹی بھی بڑھا کر 20 سے 25 فیصد کر دی گئی ہے جو مقامی سطح پر گاڑیاں بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

موجودہ صورت حال میں مہران کی جگہ نئی 8ویں جنریشن کی سوزوکی آلٹو متعارف کروانے کا پاک سوزوکی کا منصوبہ زیادہ موزوں لگتا ہے۔ اپنے شعبے میں دو دہائیوں تک کی اجارہ داری کے بعد گزشتہ چند سالوں میں طلب میں کمی کے باعث مہران بالآخر ختم کردی جائے گی۔ پاکستان آٹو پارٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے اعداد و شمار کے مطابق مہران کی پیدوار جولائی تا دسمبر 2017-18ء میں 23,489 سے گھٹ کر 2018-19ء کے اسی عرصے میں 22,298 رہ گئی۔

نئی سوزوکی آلٹو R06A 3-سلینڈر 660cc انجن سے لیس ہے جس کی پیداوار متوقع طور پر مارچ اور اپریل 2019ء میں شروع ہوگی۔ یہ گاڑی کہ جس کا شدت سے انتظار کیا جار ہا ہے حال ہی میں متعارف کروائی گئی یونائیٹڈ براوو کی براہِ راست مقابل ہوگی۔ پاک سوزوکی نے آلٹو کی پیداوار کے لیے نئی مینوفیکچرنگ لائن ترتیب دینے کی خاطر موجودہ پلانٹ میں تقریباً 17 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی آلٹو کی قیمت تقریباً 9 لاکھ روپے ہوگی جو یونائیٹڈ براوو کی قیمت کے بہت قریب ہے۔ مزید یہ کہ نان-فائلرز پر عائد پابندی ہٹ جانا پاک سوزوکی کے لیے سکھ کا سانس ہوگا کیونکہ وہ مارکیٹ میں نئی آلٹو پیش کرنے جا رہا ہے۔

دوسری جانب مقامی آٹوموبائل انڈسٹری کو سنجیدگی سے اپنی گاڑیوں کے تعمیراتی معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے کہ انہی کی وجہ سے ملک میں گاڑیوں کی درآمد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ صورت حال میں گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، تمام مینوفیکچررز کے معیارات پر پورا اترنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ ان کی عدم موجودگی سے لوگوں کی درآمد شدہ گاڑیوں میں دلچسپی برقرار رہے گا اور نتیجتاً ملک کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ پاکستان میں صنعت کے فروغ اور اچھا ریونیو اکٹھا کرکے موجودہ خسارے کو کم کرنے کے لیے مقامی آٹوموبائل انڈسٹری پر ممکنہ خریداروں کا اعتماد بحال ہونا ضروری ہے۔

اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ہمیں ضرور آگاہ کیجیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.