پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے کا امکان


روپے کی گھٹتی ہوئی قدر ایک مرتبہ پھر پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

چند ہفتے قبل نگران حکومت نے سال میں پہلی بار پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تھی تاکہ صارفین کو سہولت دی جا سکے جو افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے ویسے ہی پریشان تھے۔ البتہ ذرائع ابلاغ کے ایک ایک مقامی کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گھٹتی ہوئی قدر کی وجہ سے حکومت یکم اگست 2018ء سے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ کر سکتی ہے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک صنعتی ماہر نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اس ممکنہ اضافہ کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیے اور کہا کہ پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ممکن ہے کیونکہ روپے اور ڈالر کی قیمت تبادلہ ممکنہ طور پر 130 روپے تک جا سکتی ہے۔

نگران حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر جولائی کے پہلے ہفتے میں پیٹرول کی قیمتوں میں 4.26 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی۔

مزید برآں، سپریم کورٹ نے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سو موٹو لیا تھا اور حکام پر زور دیا تھا کہ وہ ممکنہ حد تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائیں۔ حکام کو پیٹرول اور ڈیزل پر لیے جانے والے ٹیکسز کے حوالے سے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا جو عدالت میں پیش کی جا چکی ہیں۔

دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس رپورٹ کے جمع ہونے کے بعد کیا قدم اٹھاتی ہے۔

پیٹرولیئم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں یہ ہیں:

نئی قیمتیں پرانی قیمتیں فرق
پیٹرول 95.24 روپے 99.50 روپے 4.26 روپے
ہائی-اسپیڈ ڈیزل 112.94 روپے 119.31 روپے 6.37 روپے
مٹی کا تیل 83.96 روپے 87.70 روپے 3.74 روپے
لائٹ-اسپیڈ ڈیزل 75.37 روپے 80.91 روپے 5.54 روپے

تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top