حکومتِ پنجاب نے گاڑیوں کے لیے اسمارٹ کارڈ جاری کردیے


ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول (ET&NC) نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی (PITB) کے تعاون سے صوبے بھر میں نئے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے طور پر اسمارٹ کارڈ جاری کردیے۔

اتھارٹی نے یہ قدم صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اٹھایا ہے۔ ایکسائز ڈپارٹمنٹ پنجاب کے ایک ترجمان نے PakWheels.com سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کو اسمارٹ کارڈ جاری کرنے کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن موصول ہو چکا ہے، گاڑیوں کے مالکان اب ایکسائز دفتر آکر 530 روپے میں کارڈ بنوا سکتے ہیں۔

البتہ گاڑیوں کے لیے اسمارٹ کارڈ رکھنا ضروری نہیں، مالکان اب بھی پرانی رجسٹریشن بکس پر اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کارڈ خراب ہو جائے تو یہ دوبارہ بھی جاری کیا جا سکتا ہے جبکہ کارڈ پر ڈپلی کیٹ بھی نہیں لکھا ہوگا۔ علاوہ نئے آٹومیٹڈ کارڈ میں نیئر فیلڈ کمیونی کیشن (NFC) چپ بھی ہوگی جو کارڈ کی تفصیلات کی تصدیق میں مدد دیتی ہے اور ٹوکن ٹیکس کی آخری تاریخ ظاہر کرتی ہے۔

اسمارٹ کارڈ کے لیے درکار دستاویزات مندرجہ ذیل ہیں:

  1. گاڑی کے کاغذات
  2. اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ
  3. رجسٹریشن بُک

نیا اسمارٹ کارڈ گاڑی کے مالک کا نام، موبائل فون نمبر، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا چیسس نمبر، انجن نمبر، مالک کا پتہ، گاڑی کی قسم، بنانے والے ادارے، نشستوں کی گنجائش، ہارس پاور، رنگ، وزن کی گنجائش، بنانے کا سال اور ٹوکن ٹیکس کے حوالے سے معلومات رکھتا ہے۔

اسمارٹ کارڈ کا اجراء ماضی میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر تین سے چار مرتبہ معطل ہوا تھا۔ واضح رہے کہ کارڈ کا منصوبہ گزشتہ حکومتِ پنجاب نے شروع کیا تھا اور اُس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس کا آغاز کیا تھا۔

اس سنگِ میل کو عبور کرنے پر ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے زور دیا کہ حکومت اس کے ذریعے گاڑیوں کی رجسٹریشن کو ڈجیٹائز کر رہی ہے، یہ بڑی اور نازک رجسٹریشن بک کو سنبھالنے کے جھنجھٹ سے چھٹکارا دلائے گا کہ جو جلد ہی خراب ہو جاتی ہے اور اسے اٹھانا اور سنبھالنا بھی دشوار ہے۔

کارڈز ہائی ٹیک مشینوں کے ذریعے بنائے جا رہے ہیں، ذیل میں دیکھیں:

ابتدائی مرحلے میں 7 سے 8 ہزار کارڈز روزانہ بنائے جائیں گے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس گنجائش کو بڑھایا جائے گا۔ ہماری طرف سے اتنا ہی، اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top