پاکستان میں تیل کی اسمگلنگ کرنے والے 609 پٹرول پمپس سِیل کر دیے گئے

0 845

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں 609 غیر قانونی پٹرول پمپس کو سِیل کر دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے یہ اینٹی-اسمگلنگ آپریشن گزشتہ جمعے کو کیا۔ پاکستان کسٹمز نے غیر قانونی پٹرول پمپوں سے 45 لاکھ لیٹر پٹرول اور ڈیزل تحویل میں لیا اور 16 جنوری 2022ء تک انہیں سِیل کر دیا۔

ایوانِ وزیر اعظم (PMO) نے پٹرول پمپ مالکان کو اگلے 7 دنوں میں درست دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو کسٹمز ایکٹ کے تحت اپنے پٹرول پمپس اور دیگر املاک کھو بیٹھیں گے۔

تیل کی اسمگلنگ کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کی مہم

اِس مہینے کے آغاز پر وزیر اعظم عمران خان نے ایک اینٹی-اسمگلنگ مہم شروع کی تھی۔ PMO کے منظور شدہ ایکشن پلان کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کسٹمز نے ایک انکوائری کمیشن ترتیب دیا، جس نے تین صوبوں میں اسمگل شدہ ایرانی پٹرول کی فروخت کی تصدیق کی۔

انکوائری کمیشن نے ملک بھر میں 2,347 غیر قانونی پٹرول پمپوں کی نشاندہی کی۔ ان میں سے 1,565 پنجاب میں؛ 436 خیبر پختونخوا میں اور 346 سندھ میں ہیں۔ اس لیے پاکستان کسٹمز نے 15 جنوری کو قدم اٹھاتے ہوئے 609 پٹرول پمپس کو سال بھر کے لیے سِیل کر دیا۔

‏PMO کہتا ہے کہ یہ اینٹی-اسمگلنگ مہم پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ کے غیر قانونی کاروبار کو ختم کرنے کے لیے جاری رہے گی۔ اور امید ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدامات ان اسمگلرز کی جانب سے ٹیکس سے بچنے کی کوششوں کو ناکام بنا دے گی۔ لیکن غیر قانونی مقامات کو سِیل کرنا ہی کافی نہیں۔ حکومت کو پاک-ایران سرحد پر بھی سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ تیل کی اسمگلنگ کے مسئلے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

پاکستان میں آئل اسمگلنگ کے حوالے سے وزیر اعظم کی مہم کے بارے میں آپ کے خیالات کیا ہیں؟ آپ کے خیال میں اس کے خلاف کس طرح کے اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں؟

آٹو انڈسٹری کی مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.