9 آئل کمپنیوں نے پٹرول کی ذخیرہ اندوزی کی، جون میں اربوں روپے بنائے: ایف آئی اے

0 5 109

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ابو بکر خدا بخش کی زیر قیادت پانچ رکنی انکوائری کمیشن نے جون 2020ء میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے حوالے سے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی ایس او اور شیل کے سوا 9 آئل مارکیٹ کمپنیوں (OMCs) نے ایندھن کی ذخیرہ اندوزی کی اور اس بحران کے دوران اربوں روپے کمائے۔

رپورٹ کے مطابق ان OMCs نے جان بوجھ کر پٹرولیم مصنوعات کی پٹرول پمپوں کو سپلائی روکی، اس کے باوجود کہ ان کے پاس کافی ذخیرہ موجود تھا۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ان OMCs نے تیل کے بحران کے دوران 6 سے 8 ارب روپے کمائے۔ کمیشن نے کہا کہ «ان آئل کمپنیوں نے یکم سے 26 جون تک کاروباری معمول سمجھتے ہوئے ہر غیر قانونی کام کیا۔»

رپورٹ نے کہا کہ حکومت نے 31 مئی کو پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی اور اسے 74.52 روپے فی لیٹر تک لائی۔ نتیجتاً ان OMCs کو جون میں کھلی فروخت کے ساتھ اپنے ذخیرے میں کمی دیکھنا پڑتی، اس لیے انہوں نے تمام قوانین اور معمول کے اقدامات کے برعکس سپلائی کم کر دی۔

آئل کمپنیوں کے علاوہ اوگرا اور پٹرولیم ڈویژن کا کردار:

رپورٹ نے بحران کے دوران آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت پٹرولیم کی کئی ناکامیوں سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ «بحران کے دوران اوگرا ایک غیر فعال ادارے کی حیثیت سے صورت حال سے لاتعلق سا رہا۔» اس میں مزید کہا گیا کہ اوگرا نے 9 OMCs کو شوکاز نوٹسز ضرور جاری کیے اور ان پر کل 50 ملین روپے کا جرمانہ بھی لگایا۔ لیکن یہ نوٹسز حقیقی قانونی اقدامات کے بجائے اوگرا کی دفاعی مہم کا حصہ تھے۔

کمیشن نے 2002ء سے اوگرا کی بارہا ناکامیوں کا حوالہ بھی دیا، جس میں OMCs کو مخصوص طریقہ کار کے بغیر لائسنس جاری کرنا شامل ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ آئل انڈسٹری کہیں بہتر ہوتی اگر اوگرا نہ ہوتا۔ اس نے چھ مہینے کے اندر پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے اوگرا کے خاتمے کی تجویز پیش کی۔

ڈی جی آئل، پٹرولیم ڈویژن افسران کے خلاف کارروائی:

کمیشن نے موجودہ ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع الرحمٰن کے خلاف ادارہ جاتی/پینل کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ «گریڈ-20 کے افسر کے پاس ڈی جی آئل کے عہدے سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے، اور اس سے MoEPD میں سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔»

کمیشن نے پٹرولیم ڈویژن میں عمران علی ابڑو اور دیگر افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی تجویز دی ہے۔ مبینہ طور پرعمران ابڑو پٹرولیم ڈویژن کے سرغنہ ہیں اور اپنے اعلیٰ افسران کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ رپورٹ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ عمران ابڑو نے 25 مارچ 2020ء کو نام نہاد ‘امپورٹ بین لیٹر’ پر دستخط بھی کیے تھے۔

مزید نیوز، ویوز اور ریویوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.