مختلف اقسام کی ٹرانسمیشنز کو سمجھیں

2 383

یہ تحریر اُن مختلف قسم کے گیئر باکسز کے بارے میں ہے جو آجکل کاروں میں آ رہے ہیں۔ عام طور پر پانچ قسم کے گیئر باکسز ہوتے ہیں جو آپ کو پاکستان میں دستیاب کاروں میں ملیں گے۔ ان میں مینوئل ٹرانسمیشن، آٹومیٹک ٹرانسمیشن، آٹومیٹک-مینوئل ٹرانسمیشن (AMT)، CVT اور DSG (DCT)۔ گاڑی خریدنے سے پہلے آپ کو ان تمام ٹرانسمیشنز کے بارے میں ایک اندازہ ہونا چاہیے تاکہ آپ سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکیں۔ انجن کی پیدا کی گئی طاقت کو پہیوں تک لانے کے لیے گاڑی کو گیئر باکس کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

مینوئل ٹرانسمیشن 

اس تحری میں جن پانچ گیئر باکسز کی بات کی جا رہی ہے ان میں سب سے سادہ گیئر باکس مینوئل ٹرانسمیشن ہے۔ ایک مینوئل ٹرانسمیشن میں چار، پانچ یا چھ گیئرز ہو سکتے ہیں۔ گیئر تبدیل کرنے کے لیے آپ کو کلچ پیڈل اور گیئر لیور استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مینوئل ٹرانسمیشن دیگر ٹرانسمیشنز کے مقابلے میں  عام طور پر ایندھن بچت میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ 

اس کے علاوہ اس ٹرانسمیشن کی قیمت اور وزن بھی دوسری ٹرانسمیشنز سے کم ہوتا ہے۔ اس کی دیکھ بھال پر آنے والی لاگت بھی مناسب ہوتی ہے اور گیئر آئل تقریباً 80,000 کلومیٹرز کے بعد تبدیل ہوتا ہے۔ مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ ڈرائیونگ تھکا دینے والی ہوتی ہے، لیکن مینوئل ٹرانسمیشن کے پرزے خریدنا سستا پڑتا ہے۔ 

آٹومیٹک ٹرانسمیشن

آٹومیٹک ٹرانسمیشن گیئرز کو خودکار طور پر تبدیل کرنے کے لیے ایک ہائیڈرولک سسٹم کا استعمال کرتی ہے۔ آٹومیٹک ٹرانسمیشن میں کوئی کلچ نہیں ہوتا۔ کلچ کے بجائے ایک ٹارک کنوَرٹر ہوتا ہے جو آٹومیٹک ٹرانسمیشن میں کلچ کا کام کرتا ہے۔ مینوئل ٹرانسمیشن کے مقابلے میں آٹومیٹک ٹرانسمیشن رکھنے والی گاڑی ڈرائیو میں زیادہ آرام دہ ہوتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔ آٹومیٹک ٹرانسمیشن ایندھن بچت کے لحاظ سے اتنی مؤثر نہیں ہوتی اور مینوئل ٹرانسمیشن کے مقابلے میں زیادہ وزنی بھی ہوتی ہے۔ اس گیئر باکس کو تقریباً 40,000 کلومیٹرز کے بعد آئل تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے پرزے مہنگے ہوتے ہیں، اور اس کی عام دیکھ بھال بھی مینوئل ٹرانسمیشن کے مقابلے میں جیب پر بھاری پڑتی ہے۔ 

آٹومیٹڈ-مینوئل ٹرانسمیشن (AMT) 

اس ٹرانسمیشن میں دو مَوڈز ہوتے ہیں – ایک ڈرائیو موڈ اور ایک مینوئل موڈ۔ ڈرائیو موڈ میں ٹرانسمیشن آٹومیٹک ہوتی ہے۔ مینوئل موڈ میں ڈرائیور کو خود گیئر تبدیل کرنا پڑتے ہیں؛ البتہ اس گاڑی میں حقیقی مینوئل ٹرانسمیشن کی طرح کلچ نہیں ہوتا۔ سادہ آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے مقابلے میں اس گیئر باکس کی ایندھن بچت اچھی ہوتی ہے۔ AMT کے ساتھ آنے والی گاڑی کی ڈرائیو نسبتاً آسان ہوتی  ہے۔ اس ٹرانسمیشن کا وزن آٹومیٹک ٹرانسمیشن سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس ٹرانسمیشن کے لیے آئل چینج ہر 40,000 کلومیٹرز کے بعد کرنا پڑتا ہے۔ AMT میں وقتاً فوقتاً گیئر پھنسنے کے مسئلے ہوتے ہیں۔ 

ان ٹرانسمیشنز کے بارے میں مزید معلومات اس وڈیو میں دیکھیں:

کنٹی نیوسلی ویری ایبل ٹرانسمیشن (CVT) 

CVT کو شفٹ لیس ٹرانسمیشن بھی کہا جاتا ہے، اور اس وجہ سے گیئرز کی تبدیلی ہموار ہوتی ہے اور یہ آرام دہ سفر فراہم کرتی ہے۔ سمپل آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے مقابلے میں CVT میں سفر زیادہ ہموار ہوتا ہے۔ CVT آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے مقابلے میں وزن میں ہلکی ہوتی ہے۔  CVT ایندھن کے حوالے سے آٹومیٹک ٹرانسمیشن سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ CVT کا آئل 40,000 کلومیٹرز کے بعد لازماً تبدیل ہونا چاہیے، اور عام آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے لیے استعمال ہونے والا تیل ہرگز CVT میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ CVT دھواں بھی کم چھوڑتی ہے کیونکہ یہ گاڑی کی اسپیڈ رینج کو زیادہ بہتر انداز میں کنٹرول کرتی ہے۔ 

ڈوئل-کلچ ٹرانسمیشن  (DCT) 

ڈوئل-کلچ ٹرانسمیشن (DCT) میں دو طرح کے کلچ ہوتے ہیں۔ اس میں طاق یا جفت گیئرز کے لیے دو مختلف گیئرز ہیں۔ یہ ٹرانسمیشن مینوئل ٹرانسمیشن سے زیادہ ملتی جلتی ہے۔ DCT میں کلچز آزادانہ چلانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ DCT کی ایندھن بچت کسی بھی CVT سے بہتر ہوتی ہے۔ DCT سے پیدا ہونے والی رفتار آٹومیٹک ٹرانسمیشن سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ 

ہماری طرف سے اتنا ہی، اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ 

Google App Store App Store
تبصرے