پاما کی جانب سے مقامی آٹو اسٹینڈرڈز تشکیل دینے کی مخالفت

1 785

پاکستان کے آٹو سیکٹر میں کئی نئے ادارے آ چکے ہیں اور اب مقابلے کی فضاء قائم کرنے اور شعبے کو بین الاقوامی رحجانات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نئی پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کو پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ ایسے آٹو معیارات بنائے کہ جن کی پوری صنعت پیروی کرے۔ 

اس پر پاکستان آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) نے کہا ہے کہ صنعت کے لیے نئے معیارات مرتب کرنے کے بجائے حکومت کو موجودہ بین الاقوامی معیارات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں متعارف کروانا چاہیے۔ 

نئے معیارات مرتب کرنے کے لیے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA)، پاکستان آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA)، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی (MoST)، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ آف پاکستان (EDB) اور پاکستان آٹوموبائلز ڈیلرز ایسوسی ایشن (PADA) کے نمائندگان کا فواد چوہدری کی زیرِ قیادت اجلاس ہوا۔ جس میں فواد چوہدری نے ملک میں بننے والی گاڑیاں کے گھٹیا معیار پر اظہارِ خیال کیا۔ 

«ملک میں گاڑیوں کی کوالٹی اور سیفٹی پر کوئی روک ٹوک نہیں کیونکہ معیارات کی پیروی ہی نہیں کی جا رہی۔» 

انہوں نے مزید زور دیا کہ پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کی کوالٹی اور اسٹینڈرڈ کو چیک کرنے کے لیے قواعد لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ مینوفیکچررز، صارفین اور ماہرین سمیت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے PSQCA کو گاڑیوں کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے معیارات اور ضوابط تیار کرنے چاہئیں۔ PSQCA دیگر ملکوں کے بین الاقوامی اور علاقائی اسٹینڈرڈز پر تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے ایسے معیارات مرتب کر سکتا ہے۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ: 

«ایک مرتبہ یہ معیارات تیار ہوکر نافذ ہو جائیں تو یہ نہ صرف پاکستان میں بننے والی والی گھٹیا معیار کی گاڑیوں کا خاتمہ کر دیں گے بلکہ یہ ملک میں درآمد ہونے والی گاڑیوں کی بھی کڑی نگرانی کو یقینی بنائیں گے۔» 

اس لیے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور گاڑیاں بنانے والے اداروں کے درمیان تناؤ ہے۔ فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا مشن ایک جدید ٹیسٹنگ سہولت قائم کرنا ہے۔ یہ نجی شعبے کے تعاون سے بنائی جائے گی۔ یہ ٹیسٹنگ سہولت یقینی بنائے گی کہ بنائی جانے والی اور درآمد شدہ گاڑیاں مقامی صارفین کے لیے محفوظ ہیں۔ 

انہوں نے آٹو انڈسٹری سے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان میں گاڑیوں کے لیے آٹو لیب بنانے کی خاطر حکومت کی مدد کرے اور انہوں نے اسے ایک قومی مقصد قرار دیا۔ PAMA کے مطابق نئے معیارات اور ضوابط پہلے سے مشکلات کے شکار آٹو سیکٹر کے لیے اضافی بوجھ ثابت ہوں گے۔ PAMA ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ: 

«پاکستان کے لیے یورپی اسٹینڈرڈ ‘WP29’ کو اختیار کرنا ناگزیر ہے کیونکہ بین الاقوامی قواعد/ضوابط کو تسلیم کیے بغیر یہ مقامی معیارات اطمینان کی حالیہ سطح کا خاتمہ کر دیں گے اور تکنیکی و معاشی لحاظ سے ناقابلِ عمل ہوں گے۔ اس کے علاوہ مقامی معیارات کی تشکیل برآمد کی صلاحیت کو بھی روک دے گی جبکہ (پرزوں کی درآمد کی وجہ سے) درآمدی بل کو بہت بڑھا دے گی۔» 

PAMA کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان WP29 معیارات کو اختیار کرتا ہے تو وہ آٹو سیکٹر کی عالمی شناخت حاصل کرے گا۔ PAMA یورپی معیارات کے مطابق PSQCA کو اپنی ٹیسٹ سہولیات کو بہتر بنانے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ البتہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) پہلے ہی WP29 معیارات کو قبول کرنے پر کام کر چکا ہے اور اس معاملے پر کابینہ سے بات کر چکا ہے۔ 

ایسی ہی دلچسپ تحاریر کے لیے آتے رہیے اور اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ 

Google App Store App Store
تبصرے