حکومت نے گھٹتی ہوئی طلب کی وجہ سے تیل کی درآمدات پر پابندی لگا دی

2 976

حکومتِ پاکستان نے گھٹتی ہوئی طلب اور اپنے اخراجات میں کمی کے لیے یکم اپریل 2020ء سے تیل کی درآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ملک بھر میں تمام پٹرول پمپوں پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رہے گی۔ کروناوائرس کی وجہ سے عوام لاک ڈاؤن میں ہے اس لیے سڑکوں پر ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ کم ہے، ساتھ ہی ملک میں کارخانے بھی بند ہو رہے ہیں – یہ وجوہات ملک میں ایندھن کی کھپت میں کمی کا سبب بن رہی ہیں اور انہی کی وجہ سے حکومت نے خام تیل درآمد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

تیل صاف کرنے کے مقامی کارخانوں کے پاس اپنے گوداموں میں پٹرولیم مصنوعات کی کافی مقدار محفوظ ہے جس سے وہ ملک کی ایندھن کی طلب کو پورا کر سکتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ حال ہی میں عوام کو کروناوائرس سے بچانے کے لیے سفری پابندیوں کو سخت کرتے ہوئے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) نے موٹروے پر تمام اقسام کے ٹریفک کو بند کر دیا ہے سوائےایک استثنیٰ کے۔ چند دن پہلے حکومت نے آئل پروڈکٹس کی مصنوعات کی قیمتیں بھی کم کی ہیں۔ اس سے پہلے پٹرول 111.59 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 122.25 روپے فی لیٹر تھا۔ قیمتوں میں کمی کے بعد آپ کو پٹرول تقریباً 96.58 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 107.25 روپے فی لیٹر ملے گا۔ 

اس کے ساتھ ساتھ مٹی کے تیل اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتیں بھی بالترتیب 77.45 ور 62.51 روپے فی لیٹر ہیں۔ 

حکومت کی جانب سے تیل کی درآمد پر پابندی کے علاوہ مقامی آٹومینوفیکچررز نے بھی ملک میں اپنے آپریشنز معطل کر دیے ہیں۔ ذیل میں وہ تمام بڑے آٹو مینوفیکچررز ہیں جنہوں نے اپنے آپریشنز معطل کر دیے  ہیں: 

  • انڈس موٹر کمپنی (IMC) 
  • پاک سوزوکی موٹر کمپنی (PSMC) 
  • ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ 
  • الحاج فا موٹرز
  • JW فورلینڈ 
  • ماسٹر موٹرز 
  • ہیونڈائی نشاط موٹرز 
  • کِیا موٹرز 
  • ریگل آٹوموبائلز 
  • یونائیٹڈ آٹو انڈسٹریز  

ہماری طرف سے اتنا ہی، اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ گھر پر رہیے، محفوظ رہیے۔ 

Google App Store App Store
تبصرے