کِیا سٹونک لوکل مارکیٹ میں جلد لانچ کی جائے گی

0 7 936

کراس اوور/ سپورٹس وہیکلز اس وقت مارکیٹ میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ تمام آٹو کمپنیز جدید اور بہترین SUVs لا رہی ہیں لیکن مارکیٹ میں اب بھی کافی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح کورین برانڈ کِیا کی بات کی جائے تو یہ کمپنی سمال کومپیکٹ کراس اوور سے لے کر بڑی SUVs آفر کر رہی ہے۔

کِیا سٹونک

کِیا کے مطابق، سٹانک لفظ Speedy اور Tonicسے نکلا ہے۔ کِیا سٹانک ایک چھوٹی کراس اوور جو سپورٹیج سے دو درجے کم ہے۔ حالیہ کِیا سٹونک فرست جنریشن ماڈل ہے۔ یہ گاڑی ستمبر 2017 میں متعارف کروائی گئی تھی۔ اس کا فیس لفٹ ماڈل اکتوبر 2020 میں آیا تھا۔

اسٹونک کو ابتدائی طور پر یورپی مارکیٹ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے KIA یورپ نے KIA کوریا نے مل کر ڈیزائن اور تیار کیا۔ 2017 میں سٹونک کی کامیابی کے بعد کِیا سٹونک کو شہری صارفین کیلئے انٹری لیول کراس اوور کے طور پر سامنے لائی۔

سٹونک جنوبی کوریا اور چین میں تیار کی جاتی ہے اور اسے مختلف ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان غالبا تیسرا ملک ہو گا جو اس کار کو مقامی مارکیٹ کے لیے تیار کرے گا۔

پیمائش

اگر آپ کو یاد ہے تو کِیا نے کچھ سال قبل مارکیٹ ریسرچ کے لیے Rio ہیچ بیک کے کچھ یونٹس درآمد کیے تھے۔

سٹونک 4140 ملی میٹر لمبی، 1760 ملی میٹر چوڑی اور1520 ملی میٹر اونچی ہے۔ اس کی وہیل بیس 2580 ملی میٹر ہے۔ ایم جی زیڈ ایس مجموعی طور پر لمبا اور وسیع ہے لیکن اسٹونک کی طرح ایک ہی سائز کا وہیل بیس ہے۔ MG ZS مجموعی طور پر لمبی اور چوڑی گاڑی ہے لیکن اس کی وہیل اسٹونک جتنی ہی ہے۔

انجن

سٹونک میں مارکیٹ کے لحاظ سے انجن کی کئی آپشنز دی گئی ہیں۔

  • 1400 سی سی MPI نیچرلی ایسپائریٹڈ انجن جو 100 ہارس پاور اور 133Nm ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
  • 1200 سی سی نیچرلی ایسپائریٹڈ انجن (82 ہارس پاور)
  • 1000 سی سی ٹربو GDI 3 سلنڈر انجن (100 ہارس پاور)
  • 48V مائلڈ ہائبڑڈ ویرینٹ کے ساتھ 1000 سی سی T-GDI انجن
  • 1600 سی سی ڈیزل انجن (108 ہارس پاور)

میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں 6 سپیڈ آٹومیٹک ٹرانسمشن والا 1400 سی سی MPI نیچرلی ایسپائریٹڈ انجن والا ویریںٹ دیکھنے کو ملے گا۔ اس کے علاوہ کِیا 6 سپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن والا بیس ویرینٹ بھی متعارف کروا سکتا ہے۔

ایکسٹیرئیر

پاکستان میں کِیا سٹونک کا فیس لفٹ ماڈل دیکھنے کو ملے گا جس کے ڈیزائن میں سائیڈ سکرٹس، روف ریلز، بڑے وہیلز وغیرہ جیسے عناصر دیکھنے کو ملیں گے جو کہ گاڑی کو ایک کومپیکٹ باڈی والی ایس یو وی کی شکل دیں گے۔ یہاں آپ کو کِیا کی روایتی ٹائگر نوز گرِل بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

سٹونک شہری زندگی کو مد ںطر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ پاکستانی سڑکوں پر نظر آنے والی کِیا سٹونک کے کوَر پر“SUV for the City” چھپا ہوا نظر آتا ہے۔

پاکستانی سڑکوں پر نظر آںے والی کِیا سٹونک میں 4 سٹرپ horizontal LED DRLs نظر آتی ہیں۔ امکان ہے کہ اس بیس ویرینٹ میں DRLs کے ساتھ پروجیکٹر ہیلوجن ہیڈ لیمپس اور آٹو آن/آف کا آپشن بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ راؤنڈ فوگ ہیلوجن لیمپس، سائیڈ ویو مررز پر سگنل انڈی کیٹر اور باڈی کے رنگ سے ملتے جلتے ڈور ہینڈلز بھی لیں گے۔

گاڑی کی پچھلی سائیڈ کی بات کی جائے تو یہاں ہیڈ لائٹ جیسی ہی بڑی ٹیل لائٹس دی گئی ہیں۔ فرنٹ ڈفیوز اور رئیر بمپر پر سٹین سلور کلیڈنگ دیکھنے کو ملے گی۔ اس کے علاوہ گاڑی میں رئیر ہائی سٹاپ بریک لیمپ، رئیر سپائلر، واشر کے ساتھ رئیر سکرین وائپر، شارک فِن انٹینا اور ڈی فوگر جیسے سٹینڈرڈ فیچر دئیے گئے ہیں۔ گاڑی میں 16 انچ کے وہیلز اور ایک سٹیل سپئیر ویل دیا گیا ہے۔

انٹیرئیر

سٹونک کے انٹیرئیر کی بات کی جائے تو اس کا انٹیرئیر موجودہ جنریشن کی SUVs کی طرح اس کا انٹیرئیر شاندار نہیں ہے کیونکہ یہ چار سال پرانی گاڑی ہے۔ یہاں آپ کو ہر طرف ہارڈ پلاسٹک نظر آئے گا لیکن مجھے امید ہے کہ اس کا معیار کِیا کی دیگر لوکل پراڈکٹس کی طرح بہتر ہوگا۔

اگرچہ یہ ایک چھوٹی گاڑی ہے لیکن اس کی فرنٹ سیٹس کافی کھلی ہیں لیکن پچھلی سیٹس پر تین افراد کیلئے کم پڑ سکتی ہیں البتہ دو افراد کے ساتھ ایک بچہ آسانی سے بیٹھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیش بورڈ پر افقی ( (horizontal لکیریں نظر آئیں گی جو اس کو چوڑی شکل دیتی ہیں۔ ڈیش بورڈ ڈرائیور سیٹ کی جانب مڑا ہوا ہے۔ یہاں آپ کو ایپل کار پلے اور اینڈرائیڈ آٹو کے ساتھ 6 سپیکرز والا 8 انچ کا انفوٹینمںٹ سسٹم بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

گاڑی کا ملٹی فنکشننگ سٹیرنگ وہیل سپیورٹیج میں دئیے گئے سٹیرنگ وہیل جیسا نظر آتا ہے۔ یہاں 4.2 انچ کا روایتی MID ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے۔ پاورسائیڈ ویومررز (جو ممکنہ طور پر ہیٹڈ ہو سکتے ہیں)، وینیٹی مرر، میپ لائٹس، پاور ونڈوز سٹینڈرڈ فیچرز طور پر دئیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی میں 3 USB پورٹس بھی موجود ہیں جن میں سے ایک 12V چارجنگ ساکٹ فرنٹ پر جبکہ بقیہ دو سنٹرل کنسول پر دی گئی ہیں۔

گاڑی میں فیبرک سیٹس دی گئی ہیں جبکہ ڈرائیور سیٹ 6 وے مینوئی ایڈجسٹڈ ہے۔ پچھلی سیٹس میں فولڈنگ کا آپشن بھی موجود ہے جس کے ذریعے آسانی سے 1155 لیٹر کارگو سپیس پیدا کی جا سکتی ہے۔ فیول ٹینک پچھلی سیٹس  کے نیچے دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی کے دروازوں میں بھی سٹوریج کیلئے کافی سپیس دی گئی ہے جبکہ سنٹرل کنسول آگے اور پیچھے سلائیڈ کر سکتا ہے۔ رئیر ہیچ مینوئل ہے جس میں آٹو ٹیل گیٹ کا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ کروز کنٹرول کے علاوہ کی لیس انٹری کے ساتھ پُش اسٹارٹ بٹن کا فیچر بھی دیا گیا۔ اوورسیز ماڈل میں ہیٹڈ سیٹس اور سٹیرنگ وہیل جیسے فیچرز دیکھنے کو ملتے ہین لیکن لوکل مارکیٹ میں آںے والی کِیا سٹونک میں یہ فیچرز نہیں دئیے جائیں گے۔

گاڑی میں دو قسم کا کلائمیٹ کنٹرول سسٹم دیا گیا ہے۔ دونوں سنگل زون ہیں، جن میں سے ایک ڈیجیٹل کنٹرول کے ساتھ آٹومیٹک ہے جبکہ دوسرے میں  مینوئل کنٹرول دیا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان میں آنے والی سٹونک میں آٹومیٹک سسٹم دیا جائے گا۔ دونوں سسٹمز کی تصاویر نیچے دی گئی ہیں۔

سیفٹی

کومپیکٹ وہیکلز میں تمام سیفٹی فیچرز دینا آٹو کمپنیز کیلئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ یورپین NCAP کریش ٹیسٹ میں سٹونک کا سکور 3 تھا۔ فیس لفٹ ماڈل میں کِیا نے ایکٹیو سیفٹی فیچرز متعارف کروائے ہیں جس سے اس کا سکور 4 ہو گیا ہے۔

اوورسیز ماڈل میں چھ ائیر بیگز دئیے گئے لیکن لوکل مارکیٹ میں آںے والی کِیا سٹونک میں 2 فرنٹ ائیر بیگز دئیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی میں آپ کو ISOFIX چائلڈ سیٹ اینکرز، سیٹ بیلٹس، ٹریکشن کنٹرول، ہِل سٹارٹ اسسٹ، سٹیبلٹی کنٹرول، ABS اور بیک اپ کیمرہ جیسے سیفٹی فیچرز بھی دئیے گئے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ کمپنی سٹونک میں سٹیبلٹی کنٹرول جیسے فیچر کو نظر انداز نہیں کرے گی جیسا کہ سپورٹیج ایلفا میں کیا گیا ہے۔ اوورسیز ماڈلز میں بھی لین کیپنگ اسسٹ، لین فالونگ اسسٹ، ڈرائیور اٹینشن الرٹ، ایکٹیو سیفٹی فیچرز اور آٹونومَس ایمرجنسی بریکنگ جیسے فیچرز بھی دئیے گئے ہیں جو لوکل ماڈل میں نہیں دئیے جائیں گے۔

لانچ اور قیمت

اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان میں کِیا سٹونک کی لانچنگ قریب ہے۔ مقامی طور پر تیار کی جانے والی سٹونک کے یونٹس ڈسپلے اور ٹیسٹ ڈرائیو کے لیے ڈیلر شپ پر پہنچانے کیلئے تیار ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس ست متعلق باقاعدہ اعلان بھی کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سٹونک کی آفیشل لانچنگ اکتوبر کے اوائل میں عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

گاڑی کی قیمت کافی غیر واضح ہے کیوں کہ کچھ لوگ اس کو سی سیگمنٹ سیڈانز کرولا، ایلانٹرا اور سوِک کے برابر رکھ رہے ہیں۔ چونکہ سٹونک ایک بی سیگمنٹ انٹری لیول ماڈل ہے اسی لیے سٹونک اور اسکی قیمت کا موازنہ سی سیگمنٹ گاڑیوں سے نہیں ہونا چاہیے۔

اس سے قبل کِیا لکی موٹرز سی- سیگمنٹ گاڑیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اسپورٹیج لائی۔ کمپنی بی سیگمنٹ کراس اوور سٹونک لا کر ایک بار پھر وہی کر رہی ہے لیکن اس بار کِیا لکی موٹرز نے چھوٹے لیول کی سیڈانز یارس، سٹی اور ایلسون کو ٹارگٹ کیا ہے۔ یقینا، یہ گاڑی ان سیڈانز کی سیل پر اثر انداز ہوگی۔ ممکن ہے کہ کرولا خریدنے والے صارفین بھی کم پیسے خرچ کرتے ہوئے سٹونک خرید لیں۔

مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں کِیا سٹونک کے 3 ویرینٹس لائے جائیں گے جن کی قیمت 35 لاکھ سے کم ہی ہو گی۔ امید ہے کہ سٹونک کے بیس ماڈل کی قیمت 30 لاکھ، مِڈ لیول کی قیمت 32 لاکھ جبکہ ٹاپ ویرینٹ کی قیمت 35 لاکھ ہوگی۔ یاد رہے کہ یہ آفیشل قیمتیں نہیں بلکہ محض میرا ایک اندازہ ہے۔

سٹونک کی قیمت 35 لاکھ سے کم ہونے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ لکی موٹرز ایک اور بی سیگمنٹ کراس اوور پیجو 2008 لوکل مارکیٹ میں متعارف کروانے جا رہی ہے۔ لکی موٹرز دو ماڈلز کے ذریعے 30 لاکھ سے 43 لاکھ کی قیمت کی گاڑیوں کو ٹف ٹائم دے گی۔ سٹونک کی قیمت 30 سے 25 لاکھ جبکہ پیجو 2008 کی قیمت 35 سے 40 لاکھ ہوگی۔

Join Pakwheels exclusive Fan-Club & Discussion Thread  for KIA STONIC 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.