جیپ ریلی میں بد انتظامی، شرکاء ٹی ڈی سی پی سے مایوس

534

پندرہویں چولستان جیپ ریلی کے تین شرکاء نے ایونٹ میں مبینہ بد انتظامی کی شکایت کی ہے، جس کی خبر ڈان نے دی ہے۔

اس بدانتظامی کا نتیجہ غیر معیاری سہولیات کی صورت میں نکلا کہ جس نے جیپ ریلی کے جوش وجذبے کو متاثر کیا۔ یہ تین شرکاء چولستان جیپ ریلی کے سینئر اراکین ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ مشہور ایونٹس میں ایسی بد انتظامی چولستان کے علاقے میں سیاحت کو متاثر کرے گی۔ 

انہوں نے نے ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (TDCP) کو اتنے بڑے ایونٹ میں غفلت  برتنے اور بھرپور توجہ نہ دینے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ جیپ ریلی میں شریک عوام کو ایونٹ کے آغاز سے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مقابلے میں شریک ان افراد کو رجسٹریشن کے لیے لمبی قطاروں میں انتظار کرنا پڑا۔ یہ افراد لاہور سے قاسم سدی، کراچی سے نعمان سر انجام اور بہاولپور سے محمود ماجد چوہدری ہیں۔ 

سینئر شرکاء کا خیال تھا کہ ان کی رجسٹریشن دستاویزات جمع کروانے کے ساتھ پہلے ہی ہو چکی ہیں۔ بد انتظامی کا نتیجہ ریلی میں کم حاضری کی صورت میں نکلا۔ یہی وجہ ہے کہ ریلی وقت سے پہلے شروع ہوئی اور بیشتر ڈرائیور دھند کی وجہ سے اپنے ٹریک مکمل نہ کر سکے۔ ان ڈرائیوروں کو اپنی باری اگلی صبح ملی جس نے ان کے لیے مسائل کھڑے کر دیے۔ نتیجتاً پری پیڈ کیٹیگری کی فلیگ-آف تقریب تاخیر کا شکار ہوئی اور ایونٹ اپنی کشش کھو بیٹھا۔ 

ریلی کے دوران کئی مواقع پر مختلف جانور اور تماشائی ٹریک پر گھومتے پائے گئے۔ یہ نہ صرف ڈرائیوروں اور تماشائیوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس سے ایونٹ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ کئی ڈرائیوروں کی کارکردگی  بھی اس وجہ سے متاثر ہوئی۔ 

ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP) نے تاریخی جام گڑھ قلعے پر رنگین پوسٹرز اور پینافلیکس لگا کر اس کی شکل و صورت بھی خراب کی۔  تاریخی یادگار پہلے ہی شکستہ حالت میں ہے اور خطرے کی زد میں ہے۔ سینئر شرکاء نے محکمہ آثارِ قدیمہ سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ 

شرکاء نے TDCP پر زور دیا کہ وہ جیتنے والوں کے لیے انعامی رقم میں بھی اضافہ کرے۔ یہ کام غیر ضروری اخراجات کم کرکے اور اس مقصد کے لیے دی گئی رقم اور ایونٹ کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرکے کیا جا سکتاہے۔ تقریبِ رونمائی، جو لاہور میں ہوئی تھی، پر کافی فنڈز ضائع کیے گئے کہ جنہیں کہیں اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

قبل ازیں، شرکاء نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس بد انتظامی سے پر TDCP کے خلاف کارروائی کریں۔ 

مندرجہ ذیل تصویر ظاہر کرتی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس معاملے پر فوری تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کیونکہ تاکہ کھیلوں کے ایونٹس کو متعلقہ حکام کی جانب سے معقول توجہ ملے اور بد انتظامی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ کھیلوں کے ایونٹس سیاحت اور حکومت کے لیے آمدنی کے حصول میں مددگار ہیں۔ اس کے علاوہ کھیلوں کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے ایونٹس کا اہتمام بہت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔

مزید خبروں اور ایسی ہی معلومات حاصل کرنے کے لیے آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے