آٹو سیکٹر کے لیے «نیشنل اسٹینڈرڈ» زیرِ غور – وہ سب آپ جاننا چاہتے ہیں!

4 051

پاکستان ٹوڈے نے بتایا ہے کہ ملکی آٹو انڈسٹری میں معیار بندی کو یقینی بنانے کے لیے قدم نہ اٹھانے اور اپنا کردار ادا نہ کرنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اپنے ایک محکمے کی مدد سے کاروں کے ٹیسٹ کے لیے ایک منظور شدہ «نیشنل اسٹینڈرڈ» مرتب کرنے کافیصلہ کر لیا ہے۔ 

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کی جانب سے کار انڈسٹری کے لیے ایک نیشنل اسٹینڈرڈ بنانے کے قواعد کی منظوری کے تقریباً 16 ماہ بعد وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اب شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس اہم معاملے پر کام کیا جائے، کیونکہ ملک میں بننے والی گاڑیوں کے معیار کی جانچ اور کس پر عملدرآمد کے لیے کوئی انتظامیہ موجود ہی نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سب کچھ کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کن حفاظتی معیارات کو اپناتی ہیں۔ چاہے یہ معاملہ کتنا ہی غیر اہم کیوں نہ لگے لیکن درحقیقت یہ بہت خطرناک ہے۔

حالیہ رپورٹوں کے مطابق ملک میں مصنوعات کے قواعد و ضمانت اور ان کی بناوٹ کی ضمانت دینے والا مرکزی سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی متعلقہ شاخ نے کبھی پرائیوٹ گاڑیوں کے معیارات تیار نہیں کیے۔ اس لیے جب بھی خریدار مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑی خریدتے ہیں تو وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ 

علاوہ ازیں مقامی کاروں کے خریدار کئی سالوں سے ان گاڑیوں کے خراب معیار کی شکایت کر رہے ہیں؛ لیکن حکومت نے کبھی اس مسئلے سے نمٹنے پر دھیان نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایئر بیگز اور ABS جیسے معیارات منظور کرنے میں بھی 20 سال لگے۔ 

سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں زور دیا کہ انہوں نے ملک میں تمام اہم کار کمپنیوں کے نمائندے رکھنے والی انجمن پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA)کے ساتھ 26 فروری کو ایک کانفرنس کی تاکہ کاروں کے ‘نیشنل اسٹینڈرڈ’ کے معاملات پر غور کیا جائے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ نیشنل اسسمنٹ پروگرام جیسے عالمی معیارات یورو NCAP اور گلوبل ENCAP جیسے دنیا بھر میں موجود ہیں اور ہر فروخت ہونے والے کار ماڈل کی پائیداری، تحفظ اور معیار کو چیک کرتے ہیں۔ پھر ہر گاڑی کو 1 سے لے کر 5 اسٹار تک اسکور دیا جاتا ہے کہ وہ اس ٹیسٹ میں کتنی اچھی کارکردگی دکھا پائی۔

اس ٹیسٹ میں مسافر کی حفاظت، راہ گیر کی حفاظت اور تصادم کی صورت میں بچاؤ جیسے پہلو بھی شامل ہیں۔ اس کے نتائج آن لائن شیئر کیے جاتے ہیں تاکہ صارفین دیکھ پائیں۔ یوں گاڑیوں کی پائیداری عوام کے سامنے لائی جاتی ہے اور اگر وہ ٹیسٹ میں فیل ہو جاتی ہے تو وہ کبھی فروخت نہیں ہو سکتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پڑوسی ملک نے کئی سالوں سے بھارت نیو وہیکل سیفٹی اسسٹمنٹ پروگرام نافذ کر رکھا ہے، جبکہ ہم 2020ء میں ابھی آغاز ہی کیا ہے۔ بہرحال، دیر آید درست آید۔ 

Google App Store App Store
تبصرے