اکتوبر کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں

0 197

فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ اب ایک ماہ کے بعد بجائے ہر 15 دن میں قیمتوں پر نظرثانی کرتی ہے۔

ایک بیان  میں وزارت نے کہا کہ اکتوبر کے مہینے کے لیے ہائی-اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت بدستور 104.06 روپے فی لیٹر رہے گی، پٹرول کی 103.97 روپے، مٹی کے تیل کی 65.29 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی 62.86 روپے۔

پٹرول کی قیمتوں میں پچھلے ہفتے کی گئی تبدیلی:

گزشتہ ہفتے حکومتِ پاکستان نے 15 اکتوبر تک کے لیے پٹرول کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ البتہ ہائی-اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.40 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی۔

اس سے پہلے میڈیا نے بتایا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) نے وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کو ایک سمری بھیجی تھی کہ پٹرول کی قیمت میں 3 سے 4 روپے کی کمی کی جائے۔ اوگرا نے اس سمری میں کہا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ اس لیے پاکستان میں پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے لیے یہ سمری بھیجی گئي ہے۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے ستمبر 2020ء میں پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائی تھیں۔ وزير اعظم عمران خان نے اوگرا کی سمری مسترد کر دی تھی۔ آخری بار پٹرول کی قیمتیں اگست 2020ء میں بڑھائی گئی تھیں۔

حکومت پٹرول کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ کی پرانی قیمتوں کی بنیاد پر کرتی ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ قیمتیں ملک میں امپورٹ ہونے والے خام تیل کے ریٹ کو دیکھ کر طے کی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے جو پٹرول آپ آج استعمال کر رہے ہیں وہ تقریباً 45 دن پہلے خام حالت میں امپورٹ کیا گیا تھا۔

پٹرول کی قیمت اور لیوی:

اس سے پہلے جب پٹرول 74.5 روپے فی لیٹر تھا، حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر ریکارڈ پٹرولیم لیوی (PL) لگانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت نے PL میں 20.3 فیصد کا اضافہ کیا تھا اور 19.73 روپے سے بڑھا کر 23.76 روپے فی لیٹر کر دی تھی۔ اس کے علاوہ ہائی-اسپیڈ ڈیزل پر 25.05سے بڑھا کر 30 روپے فی لیٹر کی گئی۔ ساتھ ساتھ مٹی کے تیل اور ہائی-اسپیڈ ڈیزل پر PL بالترتیب 18.02 اور 11.18 روپے کی گئی۔

مزید نیوز، ویوز اور ریویوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.