1500 سی سی سے زائد گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع

0 8 084

تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے حکومت آٹو انڈسٹری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اپنی آٹو فنانس پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے کچھ تبدیلیاں کیں۔ ان نئے ضوابط کے تحت نئی اور استعمال شدہ درآمد شدہ گاڑیوں کے فنانس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جس کے بارے میں آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں اور اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ 1500 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کی قیمتیں جلد ہی بڑھ جائیں گی اور اس کی وجہ نیچے بیان کی گئی تجاویز ہیں۔

نئی تجاویز

وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے یہ تجاویز حکومت کو بھیجی گئی ہیں۔ اگر ان تجاویز کو قبول کیا جاتا ہے تو 1500 سی سی سے زیادہ کی گاڑیوں اور SUVs کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ وزارت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کو موجودہ 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت حکومت نے FED 5 فیصد کر دی تھی۔

تاہم وزارت نے کہا کہ CKD مینوفیکچرنگ پر عائد FED موجودہ مالی بحران کی وجہ سے محدود وقت کے لیے بڑھایا جائے گا۔

دریں اثنا ، انڈسٹری کی طرف سے دیگر تجاویز یہ ہیں:

  • 50KWH سے زیادہ بیٹری والی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) عائد کی جائے گی اور اس تجویز کی وجہ کسٹم ڈیوٹی (CD) میں کمی کی وجہ سے اعلی درجے کی الیکٹرک وہیکلز کے CBU یونٹس کی درآمد ہے۔
  • ہائبرڈ وہیکلز (CBU) جو کہ 1501 سی سی سے 1800 سی سی تک کا انجن رکھتی ہیں، پرRD  15 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کیا جائے گا۔ اور اس تجویز کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ یہ اضافہ CBU گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرے گا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہتری آئے گی۔
  • پٹرول گاڑیوں کے CBU یونٹس کی درآمد پر آر ڈی کو 15 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کیا جائے گا۔ اور وجہ ہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔
  • 1501 سی سی سے 1800 سی سی CBU گاڑیوں پرعائد FED 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کی جائے

Proposals by Ministry of Industries

واضح رہے کہ یہ محض تجاویز ہیں۔ تاہم قوی امکانات پائے جاتے ہیں کہ ان کو حکومت کی طرف منظور کیا جائے گا۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ حکومت موجودہ تجارتی خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ یہ نئی تجاویز 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کو نشانہ نہیں بنا رہی ہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.