پنجاب اسمارٹ رجسٹریشن وہیکل کارڈ کا بحران ختم ہو گیا!

5 592

حکومتِ پنجاب نے صوبے میں اسمارٹ رجسٹریشن وہیکل کارڈ کا بحران ختم کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت اگلے 45 دنوں میں 7 لاکھ رُکے ہوئے کارڈز تیار کر دے گی۔

رپورٹس نے مزید بتایا کہ اس مقصد کے لیے ‏ڈی جی ایکسائز بلڈنگ میں ایک نیا پلانٹ بنایا گیا ہے۔ کارڈز کے لیے خام مال بھی امریکا سے لاہور پہنچ چکا ہے۔

صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب حافظ ممتاز اور دیگر عہدیداروں نے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے سائٹ کا دورہ کیا۔

نان-کمپنی ڈیلرز سکیورٹی فیس:

ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم (DRVS) کے تحت حکومت نان-کمپنی ڈيلرز کے لیے سکیورٹی فیس میں 100 فیصد کمی کرے گی۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت جلد ہی اس پالیسی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

بنایا گیا پلانٹ پہلے مرحلے میں 1.4 ملین موٹر وہیکل اسمارٹ کارڈز پرنٹ اور تیار کرے گا۔

اسمارٹ کارڈ کا اجراء:

اس سے پہلے پاک ویلز نے بتایا تھا کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن  پنجاب تقریباً ایک سال سے صارفین کو اسمارٹ کارڈز اور وہیکل رجسٹریشن نمبر پلیٹیں فراہم کرنے میں ناکام   ہو گیا ہے۔

پنجاب میں تقریباً 2 ملین اسمارٹ کارڈز اور 7 ملین سے زیادہ رجسٹریشن پلیٹوں کا شارٹ فال پیدا ہو گیا تھا۔ عوام کو سفر کے دوران سخت مسائل کا سامنا تھا کیونکہ پولیس بغیر رجسٹریشن پلیٹ اور اسمارٹ کارڈ کی گاڑیوں کو ضبط کر رہی ہے۔

کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس:

پچھلے مہینے حکومتِ پنجاب نے نئی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹوں کے دو سال پرانے بحران کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پلیٹوں کے لیے نیشنل ریڈيو ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن (NRTC) کے لیے بولی کھولی گئی تھی۔

ٹینڈر کے تحت نئی نمبر پلیٹ کی قیمت پرانی نمبر پلیٹ جتنی ہی رہے گی۔رپورٹ نے بتایا کہ «کار، بس اور ٹرک کی پلیٹ 1027 روپے میں بنے گی جبکہ موٹر سائیکل اور رکشہ کی نمبر پلیٹ صرف 710 روپے کی ہوگی۔»

اسمارٹ کارڈ کیا ہے؟

ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول (ET&NC) نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے تعاون سے 2018 میں صوبے بھر میں نئے رجسٹریشن سرٹیفکیشن کی حیثیت سے اسمارٹ کارڈ لانچ کیا۔

اسمارٹ کارڈ کے لیے ان ڈاکیومنٹس کی ضرورت ہے:

  • گاڑی کے ڈاکیومنٹس
  • اصل ‏CNIC
  • رجسٹریشن بُک

 

Google App Store App Store
تبصرے