اسموگ کا خطرہ – لاہور میں ہزاروں گاڑیوں کو جرمانے

0 927

لاہور سٹی ٹریفک پولیس نے شہر میں فضائی آلودگی پھیلانے والی 31,292 گاڑیوں پر جرمانے لگائے ہیں۔ پولیس کے مطابق اسموگ کا سبب بننے والے ڈرائیورز کو 70 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کے چالان جاری کیے گئے ہیں۔ پولیس نے پچھلے کچھ ہفتوں سے شہر میں ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

‏CTO لاہور سید حماد عابد کہا کہ اس خصوصی مہم کے تحت پولیس 223 سے زیادہ گاڑیوں کو 2 ہزار روپے کے چالان جاری کر چکی ہے۔ «پولیس نے 53 گاڑیاں ضبط بھی کی ہیں۔»

آفیشل نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اور شعور اجاگر کرنے کی مہم کی وجہ سے شہر میں اسموگ کے اثرات کم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ «لوگوں کو  سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہے، اس کے علاوہ ااسموگ کی وجہ سے ناک اور گلے کی بیماریوں کا خطرہ ہے۔»

CTO نے مزید کہا کہ صاف ماحول ایک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ «گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اسموگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔»

لاہور میں اسموگ کا خطرہ:

لاہور دنیا میں اسموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں سے ایک ہے۔ کم از کم پچھلے 6-7 سالوں سے یہ مسئلہ ہر سال ہو رہا ہے، جس سے صحت کے سنگين مسائل جنم لے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈيکس 302 سے 442 کے درمیان رہے گا، جو لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔

ڈاکٹروں نے عوام کو تجویز کیا ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے  ماسکس اور چشموں کا استعمال کریں۔ اسموگ بنیادی طور پر اینٹوں کے عام بھٹوں، گاڑیوں، کارخانوں، گرد اور فصلوں کی باقیات جلانے کے لیے لگائی جانے والی آگ کے ملاپ سے ہوتی ہے۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی نے لاہور میں ایک ‘اسموگ کنٹرول رُوم’ بنایا ہے۔ یہ قدم آلودگی کی مسلسل مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کنٹرول روم لاہور اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی ایئر کوالٹی چیک کرتا رہے گا۔

ایک ٹوئٹ میں وزير اعظم کے خصوصی مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ ریئل ٹائم تھرمل مانیٹرنگ اور اسموگ کنٹرول اقدامات کی رپورٹنگ شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزيد کہا کہ کنٹرول روم فصلوں کی باقیات جلانے، ٹرانسپورٹ، صنعتوں اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والے دھوئیں کو روکنے کے لیے اقدامات کی نگرانی بھی کرے گا۔

مزید ویوز، نیوز اور ریویوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.