کارسازوں کا سٹیٹ بینک کے سی کے ڈی کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن کے فیصلے پر ردعمل

big108

کارسازوں نے سٹیٹ بینک کے مکمل ناکڈ ڈاؤن کٹ کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن لاگو کرنے کے معاملے پر تنقیدی ردعمل کا اظہار کیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف اکانومسٹ کو لکھے گئے خط میں پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے 100 فیصد کیش مارجن کی شرط عائد کرنے کے لیے مختصر مدت کی سرمایہ کاری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خط میں کہا گیا کہ ’ایک انڈسٹری کو مخصوص ریگولیٹری اقدام میں ایسی بنیادوں پر شامل کرنا غیر منصفانہ ہے‘۔ آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے دعوی کیا کہ اسیمبلرز پوری رقم ایڈوانس میں نہیں لیتے۔ پاما کا مزید کہنا تھا کہ اسیمبلرز آٹو پالیسی 2016-21 کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑی کی بکنگ رقم کے ایک حصے کے تحت کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ تین لوکل اسیمبلرز دو ماہ کی حد میں گاڑیوں کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعوی کیا کہ صارفین کو دوماہ سے زیادہ دیری کی صورت میں کراچی انڈیکس ریٹ کے ساتھ 2 فیصد اضافی پے منٹ مارک اپ کی صورت میں فائدہ دیا جاتا ہے۔

پاما نے یہ بحث کی کہ سٹیٹ بینک کی اس نئی شرط کو لاگو کرنے سے مقامی اسیمبلرز کے کاروبار کا خرچہ بڑھ جائے گا اور اس سے آخر کار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے والوں کو فائدہ ہو گا۔ آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوی ایشن نے سٹیٹ بینک سے یہ مطالبہ کیا کہ سی کے ڈی کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن کی شرط کو ختم کیا جائے۔ اس کے برعکس آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیرمین ایچ ایم شہزاد کا کہنا تھا کہ کار اسیمبلرز لوگوں سے ایڈوانس رقم وصول کرتے ہیں اور گاڑیاں بتائی گئی تاریخ سے بہت بعد میں فراہم کی جاتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ساری مایوس کن صورتحال کا کوئی بھی فائدہ لوکل انڈسٹری صارفین کو فراہم نہیں کرتی۔

Top