ایپل کی برقی گاڑیوں کا منصوبہ ٹیسلا کا کوڑا دان ہے: ایلون مُسک

0 34

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جہاں کار ساز ادارے برقی گاڑیوں کے منصوبے میں سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں وہیں ٹیکنالوجی شعبے کے بڑے نام بھی اس زمرے میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے بھرپور محنت صرف کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل کے بعد امریکی ادارے ایپل (Apple) نے بھی اپنی برقی گاڑی پیش کرنے کی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے دیگر بڑے اور نامور اداروں کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے شروع کردیں ہیں۔ اس سلسلے میں ایپل نے مرسڈیز بینز، فائیٹ، A123 سسٹمز کے بے شمار ملازمین کو ایپل میں ملازمتیں ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑیاں بنانے والوں میں ایک بڑے نام ٹیسلا سے منسلک بہت سے انجینئرز کو بھی ایپل نے خرید لیا ہے۔ ایپل کے اس اقدام کے بعد بہت سے ادارے شدید خار کھائے بیٹھے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کے درمیان مسابقت مزید بڑھتی جا رہی ہے۔

ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ایلون مُسک نے ایک جرمن اخبار سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایپل کو تضحیک کا نشانہ بنایا۔ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایپل کی برقی گاڑی بنانے کی کوششوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں جنہیں ہم نے نکال باہر کیا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اور میرے دوست ایپل کے منصوبے کو ٹیسلا کا کوڑے دان سمجھتے ہیں کیوں کہ وہ لوگ جو ٹیسلا کے لیے کوئی کام نہ کرسکے انہیں ایپل نے رکھ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ

کیا آپ نے ایپل کی گھڑی دیکھی ہے؟ وہ واقعی بہت اچھی پیش رفت ہے لیکن گاڑیوں کا معاملہ فون اور گھڑیوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کے لیے آپ ایسا نہیں کرسکتے کہ کسی ادارے کے پاس جائیں اور کہیں کہ مجھے ایسی گاڑی بنا کر دے دو۔ لیکن ایپل کے لیے گاڑی ایک ایسی چیز ہے جسے پیش کر کے وہ انفرادیت حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک نئے قلم یا بڑے سے آئی پیڈ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

بہرحال، ایلون مُسک کو جرمنی اس لیے نہیں بلایا گیا تھا کہ وہ ایپل کا مذاق اڑائیں بلکہ انہیں جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں گاڑیوں کے مستقبل بالخصوص برقی گاڑیوں کے حوالے سے بات کرنا تھی۔ اس دوران انہوں نے ووکس ویگن کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہ کیا اور اپنی گفتگو میں ڈیزل گیٹ اسکینڈل کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ووکس ویگن کے حالیہ ڈیزل گیٹ اسکینڈل میں کیا ہوا۔ ادارے نے اپنی ترقی کے لیے ایک ایسا سافٹویئر بنایا جس سے دھوکہ دیا جا سکے۔ میرا خیال ہے کہ جب ووکس ویگن جیسے ادارے دانستہ طور پر حکومتوں کو دھوکا دینے کے لیے سافٹویئر تیار کرنا لگے تو یہ معاملہ بہت سنجیدہ نوعیت کا بن جاتا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

ووکس ویگن اسکینڈل کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے ٹیسلا کے سربراہ نے کہا کہ اب پیٹرول اور گیسولین پر چلنے والی گاڑیاں اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہیں اور اب اس شعبے کا مستقبل برقی گاڑیوں سے ہی منسلک ہے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.