حکومت نے سوات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے حلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا

feature

مقامی حکومت نے پاک فوج کے ساتھ مل کر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے نمٹنے کے لیے سوات اور مالا کنڈ ڈویژن میں گاڑیوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ایک بار کسی گاڑی کی تشخیصی رپورٹ جاری ہوگئی تو اس متعلقہ گاڑی کو ایک تفصیلی انسپیکشن کے لیے قانون نافز کرنے والے اداروں کے ماہرین اور نمائندوں کے پاس بجھوایا جائے گا۔

اس مہم کا آغاز کرنے کے لیے پاکستان آرمی کے بریگیڈیئر ظفر اقبال اور ڈی آئی جی اختر حیات دونوں موجود تھے۔ دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس مہم کا پہلا قدم پورے سوات شہر میں موجود تمام گاڑیوں کی جانچ کرنا ہے۔ دونوں انتظامی شخصیات نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ ایک ٹرائل مہم ہے جس سے ردعمل اور نتائج کا اندازہ لگایا جائے گا۔ جب ایک بار مناسب منصوبہ تیار ہوجائے گا تو اس مہم کو صوبہ کے دوسرے اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔

اس موقع پر موجود میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر ظفر اقبال نے کہا

’اس  مہم کا مقصد گاڑی کی اس کے مالک کے ساتھ وابستگی کو قائم رکھنا ہے جس سے قانون نافز کرنے والے ادارے پورے صوبے میں چلنے والی تمام گاڑیوں کا ٹریک رکھ سکیں گے۔ ابھی چونکہ یہ پروجیکٹ ابتدائی مراحل میں ہے اس وجہ سے اسے ابھی بابو زئی تحصیل سوات میں چلایا جا رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں اس پائلٹ پروجیکٹ کو مزید بہتر بنا کر ماٹا، کابل، اور خوازاخیلا تک بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ کی بنیادوں پر 200 سے زائد گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور منظوری دی جارہی ہے۔

اس ساری مہم کا مقصد تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے مالکان کا اعلان کر کے انہیں ٹریس ایبل اور صاف نظام میں لانا ہے۔اس پروجیکٹ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی اختر حیات کا کہنا تھا کہ  ّاس سے نہ صرف قانون نافز کرنے والوں کو قانون کی بالا دستی رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے گاڑیوں کا چھیننا، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔ٗ

یہ عمل پورے پاکستان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور انہیں ٹیکس نیٹ ورک میں لانے کی طرف پہلا قدم ہوسکتا ہے لیکن ماہرین نے پیشن گوئی کی کہ اس کے لیے ابھی ایک بہت لمبا اور کٹھن سفر طے کرنا باقی ہے۔ ابھی پہلے مرحلے میں اس مہم کا مقصد سیکیورٹی معاملات کے لیے ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو ان کے مالکان کے ساتھ جوڑنا ہے۔

Top