کِیا اسپورٹیج بمقابلہ سوزوکی وِٹارا – خصوصیات کا تقابل

kia sportage vs suzuki vitara ft

کِیا پاکستان نے اپنی کارنیول MPV اور فرنٹیئر پک اپ جاری کرکے زبردست جوش و خروش پیدا کیا۔ دونوں گاڑیاں اب برائے فروخت ہیں لیکن اس کے علاوہ اسپورٹیج، ریو اور پکانٹو جیسی کِیا کی گاڑیاں ہیں جن پر عوام کی نگاہیں ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے کارنیول اور فرنٹیئر کو ملنے والی توجہ بھی چھین لی۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں گاڑیاں فروخت کے لیے نہیں ہیں – کم از کم اس وقت تو نہیں۔

کِیا کا کہنا ہے کہ وہ یہ گاڑیاں صرف دیکھنے اور عوامی ردعمل کا اندازہ لگانے کے لیے لایا۔ یہ گاڑیاں یہاں لوگوں کو دکھانے کے لیے ہیں کہ کِیا پاکستان کیا کچھ پیش کر سکتا ہے۔ یہ بھی بحث طلب بات ہے کہ کِیا پاکستان جیسی مارکیٹ میں آگے بڑھنے کا یہ صحیح طریقہ ہے یا نہیں۔ لیکن ان میں سے ایک گاڑی کِیا اسپورٹیج ہے۔ کِیا پاکستان نے اب بھی تصدیق نہیں کی کہ وہ پاکستان میں اسپورٹیج جاری کرے گا یا نہیں۔ اور اگر کرتا ہے تو اس کی قیمت کتنی ہوگی۔

2019-kia-sportage-crossover-1

کِیا اسپورٹیج ایک چھوٹی SUV (اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل) ہے جو پہلی بار 1993ء میں جاری کی گئی تھی۔ یہ مزدا پک اپ ٹرک پلیٹ فارم پر مبنی تھی۔ دوسری جنریشن کی اسپورٹیج 2005ء میں لانچ ہوئی تھی جبکہ تیسری جنریشن کی اسپورٹیج کی پیداوار 2010ء سے 2015ء تک رہی۔ ابھی جو تصاویر آپ دیکھ رہے ہوں گے وہ چوتھی اور جدید ترین جنریشن کی کِیا اسپورٹیج کی ہیں کہ جو 2015ء میں جاری کی گئی اور اب بھی اس کی پیداوار جاری ہے۔

گو کہ یہ چھوٹی SUV ہے، لیکن اس کے مختلف بالواسطہ مقابل ہیں جس میں ہونڈا ویزل اور ٹویوٹا CH-R فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس کی براہ راست واحد مقابل گاڑی سوزوکی وِٹارا ہے۔ وٹارا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سوزوکی کی پیش کردہ چھوٹی SUV ہے اور پاکستان میں دسمبر 2016ء میں پاک سوزوکی کی جانب سے متعارف کروائی گئی۔

دونوں گاڑیوں کی بنیادی خصوصیات یہ ہیں:

کِیا اسپورٹیج سوزوکی وِٹارا GLX
انجن اِنلائن-4 اِنلائن-4
ڈسپلیسمنٹ cc 1998 cm3 1586 cm3
والوز 16 16
بورxاسٹروک نامعلوم 78.0×83.0
ٹرانسمیشن 6-اسپیڈ آٹومیٹک CVT
پیمائش (لمبائیxچوڑائیxاونچائی) 4480 x 1855 x 1645 mm 4175 x 1775 x 1610 mm
ویل بیس 2670 mm 2500 mm
زمین سے اونچائی 172 mm 185 mm
وزن 1768 kg 1185 kg
طاقت 155 BHP @ 6200 RPM 118 BHP @6000 RPM
ٹارک 197 Nm @ 4000 RPM 156 Nm @ 4400 RPM
ڈرائیوٹرین AWD 2WD/ALLGRIP(4WD)
فیول سسٹم ملٹی پوائنٹ فیول انجیکشن ملٹی پوائنٹ فیول انجیکشن
ایندھن پیٹرول پیٹرول
بریکس (F+R) وینٹی لیٹڈ ڈسکس + ڈسکس وینٹی لیٹڈ ڈسکس + ڈسکس
ABS+EBD 0 0
ایئربیگز 0 0
ٹائر سائز 245/45 R19 215/55 R17
فیول ٹینک گنجائش 45 لیٹرز 47 لیٹرز

کیونکہ کِیا اپنی اسپورٹیج کی تفصیلات کے بارے میں سختی سے زبان بند رکھے ہوئے ہیں، اور یہ خصوصیات مختلف آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں، اور امکان ہے کہ پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کردہ ماڈل کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔

ایکسٹیریئر

جہاں تک دونوں SUVs کے انداز کا تعلق ہے تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وِٹارا چوکور شکل میں سیدھی لکیروں کے ساتھ ہے، دوسری جانب کِیا اسپورٹیج زیادہ جدید اور ہموار صورت کے ساتھ موجود ہے۔ اسپورٹیج نفس کونوں اور کناروں کے ساتھ زیادہ ہموار صورت رکھتی ہے۔ کون سی گاڑیاں زیادہ بہتر نظر آتی ہے اس کا انحصار تو دیکھنے والے پر ہے، اس لیے یہ بات کرنے کا فائدہ نہیں کہ کون سی گاڑی دیکھنے میں زیادہ بہتر لگتی ہے۔ کیونکہ دونوں CBUs ہیں اس لیے ان کی بناوٹ کا معیار کافی اچھا ہے۔

KIA Sportage

KIA Sportage

suzuki-vitara-white

vitara-featured

انٹیریئر

اسی طرح دونوں گاڑیوں کے انٹیریئر کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ دونوں گاڑیاں جدید سہولیات پیش کرتی ہیں، جیسا کہ پاور اسٹیئرنگ، بغیر چابی کے داخل ہونے کی سہولت، جدید ڈجیٹل کلسٹر، پیڈل شفٹرز، ایئر کنڈیشننگ، ڈرائیونگ موڈز، کروز کنٹرول، سیٹ ایڈجسٹمنٹس، سن روف اور بہت کچھ۔ سوزوکی وِٹارا نے اپنی گاڑی کے دو ویریئنٹس پیش کیے ہیں: GL+ اور GLX کہ جس میں اول الذکر بنیادی ویریئنٹ ہے اور آخر الذکر بہترین ماڈل ہے۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ کِیا پاکستان میں اسپورٹیج کے کتنے ویریئنٹس جاری کرے گا۔

Suzuki Vitara Interior

Suzuki Vitara Interior and Seats

Kia-Sportage-interior

کیونکہ دونوں SUVs ہیں اس لیے آپ کو بلاشبہ وہیل سلیکشن اور ڈرائیو موڈز بھی ملیں گے۔

قیمت

سوزوکی وِٹارا کی قیمتیں یہ ہیں:

سوزوکی وِٹارا GL+ 34,90,000 پاکستانی روپے
سوزوکی وِٹارا GLX 37,90,000 پاکستانی روپے

ابھی تک کوئی تصدیق شدہ خبر نہیں ہے کہ کِیا اسپورٹیج کی قیمت کیا ہوگی۔ لوگ تو اپنی رائے دے رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ کِیا لکی موٹرز نے اس ضمن میں کوئی اشارہ بھی نہیں کیا۔ جو عام رائے ہے وہ 30 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک کے درمیان ہے لیکن جب تک کِیا گاڑیاں لانچ نہ کرے، یقینی بات کوئی نہیں جانتا۔ پھر لوگوں کو امید تھی کہ یہ کارنیول کے فوراً بعد لانچ ہوگی لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ محتاط اندازے کے مطابق کِیا 2019ء تک میں نئی گاڑی لانچ کر سکتا ہے۔


Top