لاہور ہائی کورٹ نے واٹر ری سائیکلنگ سسٹم نہ رکھنے والے سروس اسٹیشن معطل کردیے

0 210

جمعرات 28 نومبر2018ء کو لاہور ہائی کورٹ نے ان تمام سروس اسٹیشنوں کی معطلی کا حکم جاری کیا کہ جو مناسب ری سائیکلنگ سسٹم کے بغیر کام کر رہے ہیں۔

پانی بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی خاطر سول سوسائٹی نیٹ ورک کے ایک رکن عبد اللہ ملک نے ایک درخواست دائر کی تھی۔ درخواست کے بعد ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی امیہن عمران، مینیجنگ ڈائریکٹر واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (WASA) سید زاہد عزیز اور دیگر عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے۔ جناب زاہد نے ایک جامع رپورٹ پیش کی کہ جس میں ان اقدامات پر روشنی ڈالی گئی کہ جن کے ذریعے پانی کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔

سماعت کے دوران LHC نے بتایا کہ ایک چھوٹی گاڑی پر اوسطاً 200 لیٹر اور بڑی کار پر 300 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ اکتوبر 2018ء میں واسا نے واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ لگانے کے لیے ایک ماہ کے نوٹس کے ساتھ لاہور میں سروس اسٹیشنوں کو معطل کردیا تھا۔ واسا کے مطابق سروس اسٹیشنوں کی جانب سے 70 فیصد پانی ری سائیکل کرنا ہوگا بصورتِ دیگر وہ کام نہیں کر پائیں گے۔

لاہور میں کئی غیر رجسٹرڈ سروس اسٹیشن بھی کام کر رہے ہیں، اور صرف 150 ایسے اسٹیشن ہیں جو واسا سے رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ ان سروس اسٹیشنوں کی جانب سے روزانہ استعمال ہونے والے پانی کی مقدار کی نگرانی کے لیے بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

نہ حکومت اور نہ کوئی ادارہ آبی وسائل کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے جب تک کہ عوام خود اپنے رویے کو تبدیل نہ کرے۔ اس لیے جب اپنی گاڑی گھر پر دھوئیں تو یا تو بالٹی کا استعمال کریں یا پھر آٹومیٹک بند ہونے والے نوزل کا حامل hose خریدیں۔

اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے، نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.