کار ساز اداروں سے صارفین کی شکایات، CCP کی کھلی سماعت میں جوابات


کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) نے 12 اپریل 2018ء (جمعرات) کو آٹوموٹیو انڈسٹری کی مسابقت اور صارفی مسائل کے حوالے سے ایک کھلی سماعت منعقد کی۔ سماعت میں تمام اسٹیک ہولڈرز موجود تھے اور پاک ویلز ڈاٹ کام بھی صارفین کی نمائندگی کے لیے موجود تھا۔

سماعت کے آغاز میں صارفین سے اپنے خدشات بیان کرنے کو کہا گیا، کئی صارفین نے سماعتی کمیٹی کے روبرو، جس کی قیادت ودیعہ خلیل چیئرپرسن CCP کر رہی تھیں، کہا کہ گاڑیاں بنانے والے مقامی ادارے اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے۔ انہوں نے جدت کی کمی اور قیمتوں میں جلد اضافے جیسے اقدامات پر مقامی آٹو میکرز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انڈس موٹر کمپنی (IMC)، ہونڈا پاکستان اور پاک سوزوکی کے نمائندگان بھی کھلی سماعت میں موجود تھے۔ سی ای او IMC علی اصغر جمالی نے گاڑیاں بنانے والے مقامی اداروں کی نمائندگی کی اور صارفین اور دیگر آٹوموٹیو اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال تھا کہ گاڑیاں بنانے والے مقامی ادارے مارکیٹ سے پریمیئم کے خاتمے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ جمالی صاحب نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ حکومت نے اس ضمن میں ایک قدم بھی نہيں اٹھایا اور مقامی اداروں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو بھی نظر انداز کیا۔ اس لیے آٹو میکرز اپنے بل بوتے پر اس گھٹیا حرکت کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

IMC نے اپنی متعدد گاڑیوں کی بکنگز منسوخ کیں اور پریمیئم کو روکنے کے لیے اپنی دو ڈیلرشپس منسوخ کیں، جمالی نے بتایا۔ حکومت کو پیش کردہ تجاویز میں گاڑیوں کی فروخت اور ٹرانسفر ٹیکس وغیرہ کے لیے ریٹیل میکانزم بنانا شامل تھا۔

مزید برآں شرکاء میں سے ایک نے گاڑیوں کی فراہمی میں تاخیر اور ان کے ناقص معیار کے بارے میں سوال کیا۔ جس کے جواب میں علی اصغر جمالی نے کہا کہ گاڑیاں بنانے والے تمام ادارے اپنے بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ تکنیکی مدد کے معاہدوں (TAA) کے تحت کام کرتے ہیں اور یقینی بناتے ہیں کہ معیارات پر پورا اترا جائے۔ نئی آٹو پالیسی 2016-21ء کے تحت اگر آٹو میکرز دو مہینے کے اندر گاڑی فراہم کرنے میں ناکام رہے تو جرمانے کے طور پر KIBOR +2 فیصد دینے کی ضرورت ہوگی۔ سی ای او انڈس موٹر کمپنی نے کہا کہ صنعت جرمانوں کی صورت میں 1.5 ارب روپے ادا کرچکی ہے۔

واضح رہے کہ گاڑیاں بنانے والے ادارے اپنے صارفین کو ڈلیوری کے لیے 5 سے 6 مہینے کا وقت دیتے ہیں۔ گاڑیاں بنانے والے باآسانی جرمانے سے بچ سکتے ہیں کیونکہ وہ وہی آرڈر دیتے ہیں جو دو مہینے کے عرصے میں فراہم کر سکیں اور گاڑیوں کی حد سے زیادہ بکنگ سے اجتناب کریں۔ ہر گاڑی بنانے والا ادارہ جانتا ہے کہ ان کے کارخانوں میں کتنی گاڑیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ گاڑیاں بنانے والے اپنی گنجائش سے زیادہ آرڈرز کیوں بک کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں گاڑیوں کی فراہمی کے اوقات میں تاخیر ہوتی ہے اور مزید جرمانے پڑتے ہیں۔

جمالی صاحب کے مطابق IMC اپنی گنجائش کو بڑھانے کے لیے 40 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر چکا ہے تاکہ وہ فراہمی کے وقت کو کم کر سکے اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کر سکے؛ مزید برآں سوزوکی 63 ملین ڈالرز خرچ کر چکا ہے اور 460 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو بلاشبہ ایک زبردست قدم ہے۔ ہونڈا پاکستان بھی صنعت میں 35 ملین ڈالرز خرچ کرکے ملک میں اپنے آپریشنز کو پھیلارہا ہے۔

اجلاس میں جمالی صاحب کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ مقامی صنعت نے 60 فیصد لوکلائزیشن حاصل کرلی ہے۔ البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقامی پرزہ جات کے لیے خام مال اب بھی درآمد کیا جاتا ہے۔

قیمتوں میں اچانک اضافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سی ای او IMC نے کہا کہ گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ روپے کی قدر میں کمی، فولاد کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کی بندش وغیرہ کی وجہ سے بڑھی ہے۔ مختصر وقت میں روپے کی قیمت لگ بھگ 10 فیصد گری ہے، البتہ دوسری جانب گاڑیوں کی قیمت میں 4 فیصد ہی اضافہ ہوا ہے۔

اس بارے میں اپنی رائے نیچے تبصرے میں دیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top