رینو کا پاکستان میں گاڑیاں بنانے کا فیصلہ قابلِ ستائش ہے، شاہ محمود قریشی


وزیرِ خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے فرانسیسی ادارے رینو (رینالٹ) کی جانب سے مُلک میں گاڑیاں بنانے کے قدم کو سراہا ہے۔

ادارے نے گزشتہ سال نومبر میں پاکستان میں گاڑیاں بنانے کے لیے الفُطیم کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔ الفطیم رینو، پاکستان اسمبلی اور مینوفیکچرنگ پلانٹ کے لیے فیصل آباد میں زمین حاصل کر چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈیزائن اور پری-انجینیئرنگ کا کام جاری ہے اور تکمیل کے بعد یہ مینوفیکچرنگ پلانٹ آغاز کردے گا۔ یہ جوائنٹ وینچر سالانہ 50,000 گاڑیاں بنانے کا عہد کرتا ہےاور مقامی صنعت میں 140 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

مزید برآں، شاہ محمود قریشی نے فرانسیسی سفیر مارک بیریتی کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ دیگر فرانسیسی اداروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور یہاں آنا چاہیے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے دو طرفہ بہاؤ پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

مزید یہ کہ 7 نومبر 2018ء کو گاڑیاں بنانے والے معروف ادارے فوکس ویگن AG نے پاکستان میں کمرشل گاڑیاں بنانے کے لیے پریمیئر موٹرز لمیٹڈ (PML) کے ساتھ حتمی قانونی معاہدے پر دستخط کیے۔ فریقین کے مابین معاہدہ کراچی میں CKD اسمبلی کے لیے لائسنسنگ معاہدے کی بنیاد پر ہے۔

فوکس ویگن ملک میں ایماروک، ٹرانسپورٹر T-6، کیڈی اور اسکوڈا گاڑیاں اسمبل کرے گا۔ ابتدائی طور پر ایماروک اور T-6 کے 28,000 یونٹس بنائے جائیں گے اور دوسرے و تیسرے پیداواری مرحلے میں کمپنی پاکستان میں کیڈی اور اسکوڈا گاڑیاں بنائے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top