M2 موٹروے سالٹ رینج، ڈرائیونگ کے لیے خطرناک


جو مسافر تواتر سے M2 موٹروے کے ذریعے اسلام آباد اور لاہور کے درمیان سفر کرتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ کلرکہار سے آگے سالٹ رینج پر ڈرائیونگ کرنا کس قدر خطرناک ہے۔ شاید آپ کی نظروں سے وہ ویڈیو گزری ہو گی جس میں ایک بہادر ڈرائیور اپنے ٹرالر کو روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے مگر تمام تر کوشش کے باوجود ناکام ہو جانے کے بعد اسے ٹرالر سے باہر کود کر اپنی جان بچانی پڑتی۔ وہ واقعہ اسی سالٹ رینج کا ہے۔

موٹروے پر آپ اسلام آباد سے لاہور کی جانب جا رہے ہوں تو کلرکہار انٹر چینج آتا ہے، یہیں سے موٹروے کا وہ ٹکڑا شروع ہوتا ہے جسے سالٹ رینج کہتے ہیں۔ یہ 10کلو مٹر پر محیط ہے اور 7 فیصد ڈھلوان پر مشتمل ہے۔ تارکول سے بنا یہ ٹکڑا موٹروے کے خطرناک ترین حصوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے اس حصے پر بہت سی سیکڑوں جانیں بھی جا چکی ہیں۔ اسکول بچوں کی بس کو پیش آنے والے حادثہ سب سے تکلیف دہ تھا جس میں 40 بچے زندگی ہار گئے تھے۔

موٹروے پولیس کے مطابق 1997 میں افتتاح سے اب تک اس مخصوص حصے میں تقریباً 350 حادثات ہو چکے ہیں جن میں 200 کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کی بڑی وجہ ایک تو مسلسل ڈھلوان کا ہونا ہے اور دوسرا خطرناک موڑ ہے۔ اگر آپ حصے پر ڈرائیونگ کرتے ہوئے ذرا سا بھی غیر محتاط ہوئے اور توجہ ادھر ادھر ہوئی تو آپ شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

بد قسمتی سے ہمارے لوگ سائنسی قوانین کو مکمل نظر انداز کر کے زیادہ تر قسمت پر انحصار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے ڈرائیو ہیں اس لیے ڈھلوان اور موڑ دونوں خطروں کو با آسانی پار کر جائیں گے۔ مگر جب حالات سازگار نہ ہوں تو بڑی تباہی یقینی ہو جاتی ہے اور یہی امر جانی نقصان کی وجہ بنتا ہے۔

M2 جنوب کی جانب 231 پوائنٹ سے باقاعدہ ڈھلوان کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی احتیاطی تدابیر پر مشتمل بورڈز کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو گاڑی کے بریکس کی جانچ کرنے اور رفتار کم رکھنے کی تنبیہ کی جاتی ہے، اور پھر گیئر کو کم کرنے کا کہا جاتا ہے تاکہ بوقت ضرورت انجن کو فوری طور پر بند کیا جا سکے۔ اگر آپ کے پاس بس یا کوچ جیسی بڑی گاڑی ہے تو زیادہ احتیاط کریں کیونکہ اچانک بریک لگانے سے اسٹیئرنگ غیر متوازی ہو کر بے قابو بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بڑی گاڑیوں کے لیے لازم ہے کہ ڈھلوان پر جانے سے قبل گاڑی روک کر بریک کو ٹھنڈا کر لیں اور اس کے بعد ہی مزید آگے بڑھیں۔ اس کے علاوہ اس حصے میں اوپر سے پتھروں کے گرنے کا بھی خطرہ رہتا ہے اور ڈرائیوروں کو اس خطرے سے باخبر کرنے کے لیے بھی بورڈ نصب ہیں۔ ہر موڑ پر ٹریفک نشان موجود ہیں جو رفتار اور سمت کا تعین کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

سالٹ رینج وہی علاقہ ہے جہاں 90 فیصد حادثات گاڑی کا بریک فیل ہو جانا جانے کی وجہ سے رونما ہوتا ہیں۔ M2 (جنوب) پوائنٹ 229 وہ خونی مقام ہے جہاں سب سے زیادہ حادثے رونما ہوئے اور 200 کے قریب قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ سب سے بھیانک حادثہ 26 ستمبر 2011ء کو اسکول بس کے ساتھ پیش آیا جس میں 40 بچے شہید ہوئے۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے ملک میں سوگ بن کر پھیل گئی ہے۔ اس حادثے کا سبب بھی بس کا بریک فیل ہو جانا ہی تھا۔m2sr6

پوائنٹ 229 کے علاوہ مزید دو پوائنٹس 224 اور 230 کا شمار بھی خطرناک علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس لیے آپ کو ان علاقوں میں کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔ بریکس مکمل طور پر ساتھ نہ دے رہے ہوں یا فیل ہو جائیں تو سب سے پہلے خود کو پرسکون رکھیں اور گھبرانے سے پرہیز کریں۔ اس کے بعد اطراف میں موجود رکاوٹوں یا سڑک کے درمیان بنائی گئی دیوار سے گاڑی کو رگڑنا شروع کر دیں تاکہ اس کی رفتار کم ہو سکے۔ سالٹ رینج میں 10کلومیٹر کے علاقے کے اندر تین ایسی ہنگامی چڑھائیاں آتی ہیں جہاں چڑھنے کے فورا بعد ڈھلوان شروع ہو جاتی ہے اور جب بھی یہ ہنگامی چڑھائی آ جائے تو سب سے محفوظ سمت پر رکھیں اور اس رفتار سے آگے بڑھیں کہ چڑھائی بھی ممکن ہو سکے اور بعدازں ڈھلوان سے قبل رفتار کم بھی کی جا سکے یا رکنا پڑے تو گاڑی کو روکا جا سکے۔ موٹروے پر محفوظ زون کی تعداد بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

M2 (جنوب) پر 222 سے 231 پوائنٹس تک کو ‘موٹروے کا ریڈ زون’ کہا جاتا ہے۔ مقررہ معیار کے مطابق بریک کی جانچ اور ڈرائیونگ طریقہ کار کو اہمیت دینے سے آپ اپنی اور مسافروں کی زندگیوں کو محفوظ بناتے ہیں اور انسانی غلطی کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔m2sr2

2005ئ میں حکومت نے سالٹ رینج پر بائی پاس بنانے کا منصوبہ بنایا تھا مگر وہ بیوروکریٹک پیچیدگیوں اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کی نظر ہو گیا۔ تاہم 2006ئ میں سالٹ رینج کے خطرناک علاقے کو اپ گریڈ ضرور کر دیا گیا تاکہ حادثات کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ ساتھ ہی جلی حروف میں لکھے روشن انتباہی بورڈ اور واضح نظر آنے والی سڑک لائن کو بھی مزید واضح بنایا گیا تاکہ ڈرائیور صاحبان انہیں بخوبی دیکھ سکیں۔

ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے ہمیشہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئں۔ سب سے پہلے اور اہم، تیز رفتاری کی سوچ کو ترک کر دیں۔ سالٹ رینج پر غیر ضروری طور پر دوسروں سے آگے نکلنے کے لیے اوور ٹیک کرنے کے خبط کو کنٹرول کریں۔ سفر پر نکلنے سے پہلے گاڑی کی بریکس اور ٹا‏ئر کی حالت چیک کر لیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ کتنی رفتار سنبھال سکتے ہیں۔ سالٹ رینج پر ڈھلوان پر جانے سے پہلے انتباہی بورڈز کو بغور پڑھ لیں۔ فوراً بریک لگانے سے پہلے پیچھے آنے والی ٹریفک کا اندازہ لگا لیں تاکہ تصادم سے بچا جا سکے۔ نیم خوابی یا چکرانے کی کیفیت میں ڈرائیونگ نہ کریں اور موٹروے کی احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک طرف ہو جائیں۔ اگر آپ وزنی گاڑی چلا رہے ہیں تو زیادہ ہوشیار رہیں اور رفتار کو کنٹرول سے باہر نہ جانے دیں۔ یاد رکھیے، احتیاط ندامت سے بہتر ہے!

Warning Signs


Writing about cars and stuff.

Top