عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں بڑی کمی، کیا حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائے گی؟

2 353

دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے کروناوائرس کی وجہ سے بہت افراتفری پھیل گئی ہے اور اسی وجہ سے چند دنوں میں ہی تیل کی قیمتوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ لیکن کیا حکومتِ پاکستان اس صورت حال کا فائدہ اٹھا سکتی ہے؟ 

تفصیلات کے مطابق چین سے نکلنے والے اس خطرناک وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے تیل کی بین الاقوامی قیمتیں بہت تیزی سے کم ہوئی ہیں۔ 

طلب میں بڑی کمی کی وجہ سے عالمی مارکیٹیں سخت مشکل کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ 1991ء کے بعد تیل کی قیمتوں میں آنے والی سب سے بڑی کمی ہے کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب نے پٹرولیم کی قیمتیں کافی حد تک گرا دی ہیں، یوں دنیا کے دوسرے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک روس کے ساتھ قیمت کے معاملے پر گویا جنگ چھڑ گئی ہے۔ دونوں ممالک کروناوائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی سُست روی کے دوران قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی تیل کی پیداوار کو گھٹانے کے معاہدے تک نہیں پہنچے۔ 

خام تیل کی قیمت 14.25 روپے فی بیرل تک گری ہے یعنی فروری 2020ء کے بعد سے اب تک اس میں 31.5 فیصد کمی آ چکی ہے۔ اس وقت فی بیرل قیمت 31.02 ڈالرز ہے اور یہ بلاشبہ فیصد کے لحاظ سے 1991ء کے بعد سے تیل کی قیمت میں آنے والی سب سے بڑی کمی ہے۔ لیکن پاکستانی صارفین کو خام تیل کی قیمت میں اس کمی کوئی غرض نہیں کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں آنے والی کمی کا شاید ہی کوئی فائدہ اُن تک پہنچتا ہے۔ 

تو کیا اس وقت حالات سازگار ہیں؟ کیا ہم پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے والے ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں! 

ملک میں سب سے زیادہ تیزی سے ابھرتے ہوئے بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر آنے والی کمی سے پاکستان کے میکرو-اکنامک اشاریوں کو فائدہ ملے گا۔ گو کہ اس سے آئل کمپنیز بُری طرح متاثر ہوں گی لیکن صارفین متوقع طور پر صورت حال سے فائدہ اٹھائیں گے۔ 

ٹاپ لائن سکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمت ملک کی تقریباً 26 فیصد درآمدات پر اثر انداز ہوتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ تیل کی گھٹتی ہوئی قیمتوں سے پاکستان کے آئل اِمپورٹ بل میں تقریباً 4 ارب ڈالرز کی کمی آئے گی۔ 

اس کے علاوہ برآمدات اور ترسیلِ زر میں بھی مجموعی طور پر 1 سے 2 ارب ڈالرز کی کمی آئے گی۔ اس صورت حال میں پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں 2.2 سے 2.8 ارب ڈالرز کی بہتری متوقع ہے۔ حکومت پاکستان کو اس وقت بہت بڑے اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے اور قیمتوں میں آنے والی یہ کمی کم از کم ایک یا دو IMF جائزوں سے باآسانی نکل جانے میں مدد دے سکتی ہے۔ حکومت کی نظریں اس عالمی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گردشی قروں کو گھٹانے پر ہو سکتی ہیں۔ 

اس کے اثرات عوام تک پہنچانے کا نتیجہ کاروباری اور صنعتی شعبے کے توانائی اخراجات میں کمی کی صورت میں نکلے گا۔ البتہ ایسا بہت حد تک ناممکن ہے کہ حکومت تیل کی گھٹتی ہوئی قیمتوں کے اثرات عوام تک پہنچنے دے۔ بہرحال، اس سے افراطِ زر کی شرح کو تقریباً 1.5 فیصد تک گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے کہ جو فروری 2020ء کے دوران 12.4 فیصد کی شرح پر کھڑی تھی۔ 

افراطِ زر میں کمی نسبتاً سستی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گی جس سے کاروباروں کو زیادہ سرمایہ حاصل کرکے توسیع میں مدد ملے گی۔ 

اس وقت حکومت کو افراطِ زر کو گھٹانے اور اسی دوران ٹیکس کے ذریعے ریونیو کا ہدف پورا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ 6 ارب ڈالرز کے 39 مہینوں پر مشتمل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کو پورا کیا جا سکے۔ 

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی کی وجہ سے حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر کی معمولی کمی کی ہے۔ حکومت نے جزوی طور پر تو اس کمی کے ثمرات عوام تک پہنچائے ہیں لیکن باقی حصہ اپنا ریونیو بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ 

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ کمی کے حوالے سے آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا حکومت صارفین کو فائدہ پہنچانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کرے گی۔ 

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے اور آٹوموبائل انڈسٹری کی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیے۔ 

Google App Store App Store
تبصرے