سردیاں آ رہی ہیں! اور سندھ میں سی این جی نہیں ہوگی

0 932

سردیاں آ رہی ہیں اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) نے کہا ہے کہ سندھ بھر کے تمام سی این جی اسٹیشنز آئندہ سیزن میں بند رہیں گے۔ SSGC کے حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ادارے نے 15 اکتوبر سے اسٹیشنز کی بندش کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ » صوبے میں صرف LNG سپلائی کرنے والے پمپس ہی کھلے رہیں گے۔»

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ادارے نے اتنا بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھایا ہو۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے مزید کہا ہے کہ پمپس چار مہینے بعد فروری 2021ء میں کھلیں گے۔

سی این جی اسٹیشنز کے مالکان کا ردعمل:

اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک سی این جی اسٹیشن کے مالک نے کہا کہ اتھارٹیز مقامی طور پر دستیاب گیس کی جگہ پمپس کو LNG گیس پر منتقل کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ «سندھ صوبہ جو قدرتی گیس میں خود انحصار ہے، اب امپورٹڈ گیس چلائے گا۔»

میڈیا پر آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ SSGC سندھ میں 700 میں سے 108 اسٹیشنز کو LNG پر منتقل کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں 150-200mmcfd گیس کی کمی کی وجہ سے SSGC نے اس موسمِ سرما میں سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ صنعتوں اور ديگر شعبوں کو بھی آئندہ مہینوں میں گیس کی کمی کا سامنا ہوگا۔

اس کے علاوہ کچھ پمپ مالکان کا ماننا ہے کہ حکومتِ سندھ گیس کی کُل پیداوار میں اپنا حصہ منوانے میں بدستور ناکام ہوئی ہے۔ صرف سندھ ہی پاکستان کی کُل 3.8bcf گیس کا تقریباً 70 فیصد پیدا کرتا ہے، لیکن سندھ اور بلوچستان دونوں کو کُل ملا کر 1bcf دیا جاتا ہے، جو کہ 30 فیصد سے بھی کم حصہ ہے۔ مالکان کے خیال میں LNG کی قیمتیں میں بھی ممکنہ اضافہ ہوگا، بالکل 2014ء کی  طرح۔ ان کا ماننا ہے کہ اس صورت میں ان سے کوئی گیس نہیں خریدے گا اور ان کی سرمایہ کاری مکمل طور پر نقصان میں جائے گی۔

‏‏SSGC کے فیصلے پر آپ کی رائے کیا ہے، اپنے خیالات نیچے کمنٹس سیکشن میں دیجیے۔

آٹوموبائل انڈسٹری کے حوالے سے مزید نیوز، ویوز اور ریویوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.