گاڑی کی فیول اکانومی بہتر بنانے کے 14 طریقے

7 726

دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے اور اب لوگ اس بارے میں بہت زیادہ غور کرنے لگے ہیں کہ انہیں اپنے پیسے کہاں خرچ کرنے ہیں اور کہاں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیول کم خرچ کرنے والی گاڑیوں کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ نیچرلی-اسائریٹڈ انجن کے مقابلے میں الیکٹرک، ہائبرڈ اور ٹربوچارجڈ گاڑیوں کی فروخت میں تیزی سے لگایا جاسکتا ہے۔ بہرحال، کچھ ایسے بھی طریقے موجود ہیں جو عام گاڑیوں کو بھی فیول کم خرچ کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کے پیسوں کی بچت ممکن ہے بلکہ دنیا سے آلودگی میں کمی کی کوششوں کو بھی مدد ملتی ہے۔

ٹائر پریشر

گاڑی کے ٹائر میں ہوا یعنی پریشر کو چیک کرتے رہنا چاہیے اور انہیں درکار پریشر کے مطابق رکھنا چاہیے۔ ٹائروں میں کم پریشر کی وجہ سے انجن کو انہیں گھمانے کے لیے زیادہ قوت لگانا پڑتی ہے جس سے فیول بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پریشر کی کمی سے ٹائر فلیٹ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اس کی گولائی میں کمی آجانے کی وجہ سے گھومتے ہوئے مشکل پیش آتی ہے۔ اسی طرح گھسے ہوئے ٹائر بھی گاڑی میں فیول زیادہ خرچ ہونے کی وجہ بنتے ہیں۔

کروز کنٹرول

 اگر آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں تو گاڑی میں دستیاب کروز کنٹرول کو ضروری استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف فیول کی بچت ہوتی ہے بلکہ پریشانی اور تناؤ بھی کم ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہائی وے پر کروز کنٹرول کی مدد سے 6 فیصد فیول بچایا جاسکتا ہے۔

بیٹری کیبل اور اوکسیجن سنسرز

آلٹرنیٹر کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اگر بیٹری کیبل خراب ہوں یا گھس جائیں۔ یوں یہ بھی فیول زیادہ خرچ ہونے کی وجہ بنتی ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی انجن چیک کریں، بیٹری کیبلز کو بھی صاف کریں۔ ماڈرن گاڑیوں میں اوکسیجن سینسرز بھی ہوتے ہیں جو غیر معیاری فیول کی وجہ سے جام ہوسکتے ہیں اور اس لیے فیول زیادہ خرچ ہونے لگتا ہے۔ اوکسیجن سینسرز دراصل ایگزاسٹ سسٹم کا حصہ ہیں اور ایک مرتبہ گھس جانے کے بعد انہیں تبدیل کرلینا ضروری ہے۔

گیئر اور انجن کو بند کرنا

اگر آپ بہت زیادہ وقت اسٹارٹ گاڑی کو کھڑا رکھتے ہیں تو اس سے بھی فیول اکانومی متاثر ہوتی ہے۔ اگر آپ گاڑی کو ایک منٹ سے زیادہ دیر تک کھڑا رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ انجن بند کردیں۔ ماڈرن گاڑیوں میں ایسی ٹیکنالوجیز شامل ہیں جو گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کم فیول خرچ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ انجن کو غیر ضروری اور بار بار ریس نہ دیں۔ صرف گاڑی چلانے سے کچھ دیر پہلے انجن کو چلتا چھوڑ دیں تاکہ وہ گرم ہوجائے اور آئل پریشر بھی بن جائے۔ انجن کو مناسب وقت دیئے بغیر ایک جھٹکے سے آگے کے گیئر دینا بھی فیول زیادہ خرچ ہونے کی وجہ ہے۔ اسی طرح کم گیئر پر گاڑی کو زیادہ دیر تک چلانے اور ریس دینے سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ گاڑی کا ڈرائیور انسٹرومنٹ کلسٹر گیئر بدلنے کا اشارہ دیتا ہے۔ اس طرح گاڑی رفتار کے مطابق درست گیئر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ائیر فلٹر اور انجن کا چیک اپ

گاڑی کے انجن کا چیک اپ باقاعدگی سے کروائیں اور دیے گئے یوزر مینوئل میں درج تاریخوں پر نظر رکھیں۔ اگر آپ دور رس فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں مثلاً فیول میں بچت تو یہ بہت ضروری ہے۔ اس طرح انجن پر بڑے خرچے سے بھی بچ جائیں گے اور اسے لمبے عرصے تک استعمال کر پائیں گے۔

کم وزن

جب بھی لمبے سفر پر جانے کا ارادہ ہو، صرف وہی چیز اپنے ساتھ رکھیں جس کی اشد ضرورت ہو اور ایسی چیزیں نہ رکھیں جو ضروری نہ ہوں۔ غیر ضروری چیزوں کو گاڑی سے نکال دیں اس طرح اس کا وزن کم ہوجائے گا۔ اور گاڑی کا وزن جتنا کم ہوگا اتنی ہی بہتر فیول اکانومی حاصل ہوگی۔ اضافی وزن کی وجہ سے فیول زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی کو صاف ستھرے راستوں پر ہی چلائیں کیوں کہ خراب راستوں پر گاڑی کی رفتار بار بار کم یا زیادہ کرنے سے بھی فیول زیادہ خرچ ہوتا ہے۔

فیول اوکٹین

گاڑی کے ساتھ دیے گئے یوزر مینوئل سے درست فیول اوکٹین لازمی دیکھیں کیوں کہ غلط گریڈ کا فیول بھی خراب کارکردگی کی وجہ بن سکتا ہے۔ انجن کو دیکھتے ہوئے اوکٹین ریٹنگ دی جاتی ہے اس لیے اس پر توجہ ضرور دینی چاہیے۔ اس کے علاوہ جتنے زیادہ اوکٹین والا فیول ہوگا، عام طور پر قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس لیے آپ کو غیر ضروری مہنگا فیول خریدنے کی ضرورت نہیں بس یوزر مینوئل کے مطابق ہی عمل کریں اور بہتر فیول اکانومی پائیں۔

انجن آئل گریڈ

گاڑی کے فیول کی طرح انجن آئل گریڈ کا درست ہونا بھی اہم ہے۔ اس کے لیے بھی یوزر مینوئل دیکھیں کہ کونسے گریڈ کا انجن آئل تجویز کیا گیا ہے۔ یاد رکھیے کہ آئل جتنا زیادہ گاڑھا ہوگا، اتنا ہی زیادہ انجن کو پمپ کرنے میں مشکل ہوگی۔

مکینکی ڈریگ

اپنے پیر کو آرام دینے کے لیے اسے بریک پیڈل پر نہ رکھیں۔ کچھ ایسا انجانے میں بھی کر بیٹھتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ بریک پیڈل پر ہلکا سا دباؤ بھی بریک پیڈل کے ذریعے گاڑی کے مکینکی پرزوں پر دباؤ کی وجہ بن سکتا ہے۔ اسی دباؤ کو مکینکی ڈریگ کہتے ہیں۔ اس ڈریگ کو کم کرنے لیے گاڑی زیادہ فیول خرچ کرتی ہے۔ مکینکی ڈریگ کی وجہ سے دیگر پرزوں کے گھسنے اور خراب ہونے کا بھی خدشہ ہوسکتا ہے۔

 چیسز اور سسپنشن

اگر گاڑی کے چیسز اور سسپنشن کی الائنمنٹ خراب ہو تو بھی گاڑی کی فیول اکانولی متاثر ہو سکتی ہے۔ مڑا ہوا ایکسل، پہیے، ٹوٹے ہوئے اسپرنگز اور گھسے ہوئے شاکس کی وجہ سے بھی انجن پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ صورتحال گاڑی میں سفر کرنے والوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

انجن اسٹارٹ/اسٹاپ

ماڈرن گاڑیوں میں انجن اسٹارٹ اور بند ہونے کی سہولت دی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد خاص طور پر شہری علاقوں میں فیول کی بچت ممکن بنانا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ٹریفک سگنل پر رکتے ہیں تو انجن خودبخود بند ہوجاتا ہے اور جیسے ہی آپ ریس دیتے ہیں، ویسے ہی انجن پھر سے اسٹارٹ ہوجاتا ہے۔ اس طرح شہر میں گھومتے پھرتے آپ کا بہت سا فیول بچ جاتا ہے۔

گریوٹی کا استعمال

اونچائی سے نیچے اترتے ہوئے جتنا جلدی ممکن ہو، ریس پر سے پیر ہٹا دیں اور گریوٹی کو اپنا کام کرنے دیں۔ جب گاڑی خود ہی نیچے کی طرف جا رہی ہو تو اس کی رفتار بڑھانے کا فائدہ نہیں کیوں کہ پھر بریک بھی استعمال کرنا پڑے گا۔ گریوٹی پر انحصار سے فیول اکانومی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ائیر کنڈیشننگ

اے سی یعنی ائیر کنڈیشننگ کا استعمال صرف ضرورت کے وقت کریں۔ اس کے علاوہ دھوپ میں زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے گرم ہوجانے والی گاڑی میں نہ بیٹھیں اور کھڑکیاں وغیرہ کھول کر پہلے اس کی گرم ہوا باہر نکلنے دیں۔ اس کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر اے سی چلانے سے انجن پر کم زور پڑے گا اور وہ کم فیول خرچ کرے گا۔

سفر طے کریں

پہلے سے یہ بات طے کرلیں کہ کہاں کہاں یا کس جگہ کے لیے سفر کرنا ہے۔ پہلے سے یہ طے کرلینا کہ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے اور راستے میں کتنے ٹریفک سگنل اور رش ملے گا۔ اس کے لیے بہتر ہے کہ فون پر سیٹلائیٹ نیوی گیشن یا پھر میپس سے فائدہ اٹھایا جائے اور ممکن ہو تو ایسا راستہ لیا جائے جس میں کم جگہ رکنا پڑے۔

Google App Store App Store
تبصرے