گاڑی سے متعلق 8 اہم باتیں – انہیں بالکل نظر انداز نہ کریں!

4 815

اس مضمون میں ہم اپنے قارئین کے لیے وہ اہم ترین معلومات بیان کریں گے جو ایک ڈرائیور کے لیے جاننا ازحد ضروری ہے۔ ہر ڈرائیور کو یہ بات بخوبی سمجھنی چاہیے کہ گاڑی دراصل ایک مشین ہے اور دیگر چیزوں کی طرح اس کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔ اپنی گاڑی کا خیال رکھ کر نہ صرف آپ اس کو لمبے عرصے تک قابل استعمال رکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی جیب پر پڑنے والے اضافی بوجھ سے بھی چھٹکارا پا سکتے ہیں جو فیول وغیرہ کے خرچ کی صورت میں پڑتا ہے۔

انجن اسٹارٹ کرنے کے بعد انتظار کریں

انجن اسٹارٹ کرنے کے فوری بعد گاڑی چلانا شروع نہ کریں بلکہ 15 سے 20 سیکنڈ تک انتظار کریں۔ اتنے وقت میں انجن آئل ان تمام ضروری پرزوں تک اور جگہوں میں پہنچ جائے گا کہ جہاں اسے ہونا چاہیے۔ سردی کے موسم میں انجن کو تھوڑا مزید وقت دیں اور اسٹارٹ کرنے کے 30 سے 40 سیکنڈ بعد گاڑی چلانا شروع کریں۔ کہتے ہیں نا، صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے – اسی طرح یہ تھوڑا سا انتظار گاڑی کے انجن کو بہتر کام کرنے اور اس کے پرزوں کو لمبے عرصے تک استعمال کے قابل بنائے رکھتا ہے۔

اسی طرح نارمل ٹمپریچر تک پہنچنے سے پہلے گاڑی کو غیر ضروری ریس دینے سے بھی اجتناب کریں کیوں کہ اس سے انجن اور اس کے پرزوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسا صرف اسی وقت کریں کہ جب آپ کو کوئی ایمرجنسی لاحق ہو۔

گاڑی کا اونرز مینوئل ضرور پڑھیں

اونرز مینوئل میں ایسی بہت سی باتیں لکھی ہوتی ہیں کہ جو عام طور پر لوگ نہیں جانتے۔ بالخصوص کئی ایسے فیچرز کا استعمال لکھا ہوا مل جاتا ہے جن کے بارے میں پہلے علم نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی گاڑی کا اونرز مینوئل لازمی پڑھیں۔ اس سے پتہ چلنے والی ایک اہم بات وہ مائلیج ہے جس کے بعد انجن آئل تبدیل کرلینا چاہیے۔ بہت سے لوگ اونرز مینوئل چھوڑ کر مکینک کے کہنے پر آئل تبدیل کرواتے ہیں جس کی وجہ سے یا تو یہ کام جلدی ہوجاتا ہے یا پھر اس میں بہت دیر ہوجاتی ہے۔ دونوں ہی صورت میں مکینک کا تو کچھ نہیں جاتا، گاڑی کا مالک ہی نقصان اٹھاتا ہے۔

گاڑی میں صحیح گریڈ کا فیول ڈلوائیں

اونرز مینوئل میں درج ایک اور اہم نکتہ فیول گریڈ سے متعلق ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ گاڑی میں کس گریڈ کا فیول ڈلوانا چاہیے۔ چونکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ہمارے ملک میں فیول کا معیار بہت زیادہ اچھا نہیں ہے اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہائی-اوکٹین فیول ڈلوانا گاڑی کے لیے اچھا ہے۔ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ ٹربو چارجڈ گاڑیوں میں تو یہ فیول ٹھیک رہتا ہے مگر عام نیچرلی اسپریٹڈ انجن والی گاڑیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اونرز مینوئل کے مطابق گاڑی میں فیول ڈلوائیں تاکہ وہ آپ کی توقعات پر پورا اتر سکے۔

صفائی میں تیز کیمیکل استعمال نہ کریں

بہت زیادہ تیز کیمیکل کا استعمال آپ کی گاڑی کو نقصان پہنچا سکتا ہے چاہے اسے باہر سے چمکانے کے لیے استعمال کیا جائے یا پھر اندر سے صفائی کے لیے۔ اس لیے تجویز کیا جاتا ہے کہ ڈیش بورڈ وغیرہ کو صاف کرنے کے لیے تیز کیمیکل استعمال نہ کریں کیوں کہ ان سے ہونے والا نقصان کافی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ تیز کیمیکل گاڑی کے حصوں پر ایسے دھبے اور نقش چھوڑ سکتا ہے کہ جو اس حصے کو بالکل خراب کر کے گاڑی کی وقعت کھودینے کی وجہ بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے گاڑی کی باڈی چمکانے کے لیے تیز کیمیکل لگایا تو اس سے گاڑی کا رنگ اتر سکتا ہے جس سے اس کی قیمت گھٹ سکتی ہے۔ اور اگر آپ نے رنگ ٹھیک کروانے کے لیے ری-پینٹ کروایا تو مصیبت اور بھی بڑھ سکتی ہے۔

اس لیے بہتر ہے کہ اس بارے میں اچھی طرح معلوم کر کے ہی کوئی کیمیکل استعمال کریں۔ نیز کوشش کریں کہ گاڑی دھونے کے لیے معیاری برینڈ استعمال کریں جن سے نقصان کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔

اسپیئر ویل چیک کرتے رہیں

گاڑی کا اسپیئر ویل تھوڑے وقت کے ساتھ چیک کرتے رہنا چاہیے۔ ایسا خاص طور پر اس وقت ضرور کریں کہ جب آپ لمبے سفر کے لیے شہر سے باہر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس طرح آپ سفر کے دوران خود کو اور اپنے خاندان کو کسی بھی مشکل صورتحال سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن لمبے سفر کا ارادہ نہ بھی ہو تو اسپیئر ویل کو مہینے میں ایک بار ضرور چیک کریں اور تسلی کرلیں کہ یہ ٹھیک حالت میں ہے۔

اپنی گاڑی کو چیک کرتے رہیں

گاڑی میں کئی چیزیں ایسی ہیں جنہیں چیک کرتے رہنا ضروری ہے۔ ان میں گاڑی کی کارکردگی، اس کی مجموعی حالت، انجن آئل کا لیول اور رنگ، کولنٹ کا لیول، ونڈ شیلڈ وائپر میں پانی، ہیڈلائٹس، ٹیل لائیٹس، انڈیکیٹر اور ٹائر پریشان بہت اہم ہیں۔ ان چیزوں پر نظر رکھ کر آپ گاڑی کی مجموعی حالت چیک کر سکتے ہیں اور کسی بڑے مسئلے سے بچ سکتے ہیں۔

ہفتے میں کسی بھی ایک دن صبح سویرے گاڑی چلانے سے بونٹ کھول کر ان چیزوں کا معائنہ کرلیں۔ یہ ایک اچھی عادت ہے جو کہ آپ کو ذہنی سکون اور گاڑی کو لمبی زندگی دے سکتی ہے۔

پریشانی میں ڈرائیونگ نہ کریں

یہ تجویز خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو تیز رفتار ہائی وے پر گاڑی چلاتے ہیں۔ عمومی طور پر سب ہی کو اس پر عمل کرنا چاہیے اور پریشانی یا تھکن کی صورت میں گاڑی چلانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ذہن الجھا ہوا ہو یا پوری طرح حاضر نہ ہو تو حادثات کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ آپ مکمل توجہ اور بغیر کسی تناؤ کے گاڑی چلائیں۔ خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔

ٹائر ٹریڈ اور پریشر پر نظر رکھیں

ٹائر ٹریڈ اگر 20 فیصد رہ جائے تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ گاڑی کے بریکس بروقت گاڑی کو نہ روک پائیں۔ ایسی صورت میں گاڑی کسی حادثے کا شکار ہو کر جانی اور مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹائر ٹریڈ کم ہوجانے کی صورت میں فوری طور پر ٹائر بدل لیے جائیں۔

ٹائر پریشر بھی ایک اہم عنصر ہے جسے مہینے میں کم از کم ایک یا دو بار چیک کر لینا چاہیے۔ ٹائر پریشر کے بارے میں معلومات بونٹ کے نیچے یا گاڑی کے بی-پلر پر درج مل جاتی ہیں۔ کوشش کریں کہ اسی کے مطابق ٹائر پریشر رکھیں اور اسے کم یا زیادہ نہ ہونے دیں۔ درست پریشر پر گاڑی چلانے سے فیول کا خرچہ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

ایسی ہی مزید مفید معلومات کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہے اور ہم تک اپنے تبصرے بھی بھیجتے رہیے۔

Google App Store App Store
تبصرے