دسمبر 2017ء سے اب تک کاروں کی قیمتوں میں 54 فیصد اضافہ ہو چکا ہے – خود دیکھ لیں!

2 379

پچھلے دو سالوں کے دوران کاروں کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہے۔بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک طرف، اوپر سے حکومت نے بھی متعدد ٹیکس اور ڈیوٹیاں لگا دِیں جیسا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی۔ 

البتہ پچھلے چھ ماہ میں مقامی کرنسی نے ڈالر کے مقابلے میں کافی استحکام حاصل کیا ہے لیکن آٹو مینوفیکچررز اس کے باوجود اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں بلاوجہ مسلسل اضافہ کیے جا رہے ہیں۔ فی الحال قیمتوں میں اس نامناسب اضافے پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کاروں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کا نتیجہ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے گزشتہ سات مہینوں میں کاروں کی فروخت میں غیر معمولی کمی کی صورت میں بھی نکلا ہے۔ 

کم طلب اور نہ فروخت ہونے والی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی انوینٹوریز کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال نے ملک میں گاڑیاں بنانے والے بڑے اداروں کو اپنے پیداواری پلانٹ کئی ماہ کے لیے بند رکھنے پر مجبور کر دیا۔ اس تحریر میں ہم نے دسمبر 2017ء سے فروری 2020ء تک کاروں کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کاتقابل کیا ہے۔ آئیے ملک میں کام کرنے والے مختلف جاپانی اداروں کی کاروں کی قیمتوں کا جائزہ لیں۔ 

پاک سوزوکی: 

پاک سوزوکی کی کاروں کی فروخت میں سب سے نمایاں انٹری-لیول ہیچ بیک شعبے میں اس کی نئی گاڑی آلٹو ہے۔ پچھلے سال جون میں لانچ ہونے کے بعد سے سوزوکی آلٹو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہی ہے اور ویگن آر کے لیے زہرِ قاتل ثابت  ہوئی ہے۔ ویگن آر کے صارفین کی بڑی تعداد کم قیمت اور جیب پر ہلکی ہونے کی وجہ سے آلٹو کی جانب منتقل ہو گئی۔ پچھلے سال آٹو مینوفیکچرر کے دوسرے تمام ماڈلز فروخت معاملے میں جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔ 

دوسری جانب پاک سوزوکی کی گاڑیوں کی قیمت میں دسمبر 2017ء سے اب تک زبردست اضافہ ہوا ہے۔ صرف دو سال کے عرصے میں ویگن آر نے اپنے VXL ویرینٹ کی قیمت میں تقریباً 55 فیصد اور VXR ویرینٹ میں 52 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ دیکھا ہے۔ اسی طرح کلٹس کی قیمت میں بیس ویرینٹ کے لیے 39 فیصد سے زیادہ اور VXL اور AGS ویرینٹس میں بالترتیب 34 اور 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

واضح رہے کہ سوزوکی مہران اس چارٹ میں شامل نہیں ہے کیونکہ کمپنی کا یہ مشہورِ زمانہ ماڈل گزشتہ سال کے اوائل میں بند کر دیا گیا تھا۔ دوسرے ماڈلز میں بولان اور راوی کی قیمتوں میں بالترتیب 46 اور 49 فیصد اضافہ ہوا۔ سوزوکی سوئفٹ بھی مینوئل ورژن کے لیے 50 فیصد اور آٹومیٹک ویرینٹ کے لیے 46 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئی ہے۔ 

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کمپنی نے جنوری اور فروری 2020ء کے دوران کُل 7 غیر پیداواری ایام (NPDs) کا مشاہدہ کیا ہے۔ قیمتوں کا تقابل نیچے دیے گئے ٹیبل میں دیکھیں:

ٹویوٹا انڈس: 

ٹویوٹا انڈس کی فروخت کا زیادہ تر انحصار اپنے کرولا ماڈل پر ہوتا ہے اور اس کی فروخت پچھلے سال میں واقعی متاثر ہوئی ہے۔ اسی دوران کمپنی نے سیلز بڑھانے کے لیے مختلف تشہیری مہمات بھی چلائیں اور نئی ٹویوٹا یارِس کو جلد متعارف کروانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کرولا لائن اَپ کے 1.3-لیٹر ویرینٹس کے خاتمے پر بھی نظریں جما رکھی ہیں۔ کرولا ماڈل کی قیمتیں دسمبر 2017ء سے اب تک 48 فیصد تک بڑھیں۔ اسی طرح فورچیونر کی قیمت میں بھی صرف دو سال کے دوران 48 فیصد اضافہ ہوا۔ 

دوسری جانب ٹویوٹا ہائی لکس ریوو کی قیمت میں کمپنی کے دوسرے ماڈلز جتنا اضافہ نہیں ہوا۔ ٹویوٹا ہائی لکس ریوو 2017ء کے اختتام کے مقابلے میں 36 فیصد مہنگی ہے۔ آٹومیکر نے مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چھ مہینوں کے دوران کئی غیر پیداواری ایام (NPDs) کا بھی سامنا کیا۔ تفصیلات کے لیے نیچے دیاگیا چارٹ دیکھیں:

ہونڈا اٹلس: 

ہونڈا اٹلس کے لیے موجودہ مالی سال اب تک ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے کیونکہ سال کے آغاز سے ہی اس کی فروخت منہ کے بل گر گئی۔ ہونڈا سٹی کے مختلف ویرینٹس کی قیمتوں میں دسمبر 2017ء سے اب تک 45 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ہونڈا سوِک کے دونوں ویرینٹس کی قیمتوں میں بھی اِس عرصے میں 51 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ دوسری طرف ہونڈا BR-V نے کمپنی کے دوسرے ماڈلز جتنا اضافہ تو نہیں پایا۔ البتہ اس کی قیمت دو سال میں 41 فیصد تک بڑھی ہے۔ 

یاد رکھیں کہ ہونڈا اٹلس نے مالی سال ‏2019-20ء‎ میں ریکارڈ سب سے زیادہ غیر پیداواری ایام (NPDs) کا سامنا کیا ہے؛ البتہ آٹومیکر نے جنوری 2020ء کے آغاز کے بعد سے کسی شٹ ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا۔

الحاج فا: 

الحاج فا ملک میں اپنے چند ماڈلز کے ساتھ پاکستان کے آٹو سیکٹر میں کافی عرصہ گزار چکا ہے۔ اس کی مڈ-لیول ہیچ بیک فا V2 VCT-I کی قیمت میں اس عرصے کے دوران 47 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب فا X-PV بھی دسمبر 2017ء کے مقابلے میں اب 39 فیصد زیادہ مہنگی ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا حکومت مستقبل میں اس پورے عمل کو ضابطے میں لائے گی؟ ہمیں نیچے اپنی رائے دیں اور گاڑیوں کے بارے میں مزید خبروں کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

Google App Store App Store
تبصرے