نئی آٹو پالیسی (‏2022-26) میں گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی – رپورٹ

0 20 984

2022 پاکستان کی آٹوموٹو انڈسٹری کے لیے ایک نمایاں سال بننے جا رہا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے کہ جون 2021 میں موجودہ آٹو ڈیولمپنٹ پالیسی ‏2016-21 ختم ہونے جا رہی ہے۔ اس لیے حکومتِ پاکستان اگلے 5 سال یعنی 2022 سے 2026 کے لیے نئی آٹو پالیسی ترتیب دینا شروع ہو گئی ہے۔

خبروں کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے اشارے مل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت آٹو انڈسٹری میں گاڑیوں کی ایکسپورٹس کو فروغ دینے کے لیے اقدامات تجویز کر رہی ہے۔

موجودہ پالیسی (‏2016-21) کا خلاصہ

پاکستان کی پہلی آٹو پالیسی 2016 میں متعارف کروائی گئی تھی۔ اس پالیسی کے تحت کئی انٹرنیشنل آٹو مینوفیکچررز سےنے گرین فیلڈ اسٹیٹس حاصل کیے اور ملک میں اپنی پیداواری گنجائش پیدا کی۔ نتیجتاً پاکستان نے لوکل مارکیٹ میں کئی ورلڈ کلاس آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیز کا خیر مقدم کیا۔ ہیونڈائی-نشاط، یونائیٹڈ موٹرز، کِیا موٹرز اور DFSK ان میں سے چند ہیں۔

نئی آٹو پالیسی (‏2022-26) کے لیے اشارے

وزارت صنعت و پیداوار پاکستان کے ذرائع کے مطابق نئی ADP میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی متعارف کروائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منصوبہ ہر مڈل کلاس پاکستانی کے لیے گاڑی خریدنا ممکن بنانا ہے۔ اس کے لیے حکومت ملک میں چھوٹی گاڑیوں کے لیے 10 لاکھ روپے کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اور اگر واقعی ایسا ہوا تو عوام کو چھوٹی گاڑیوں کی لاگت پر 4 سے 5 لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا۔

نئی ADP کا ایک اور ہدف لوکل آٹومینوفیکچررز کی اجارہ داری کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اس وقت امپورٹڈ گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد ٹیکس اور ڈیوٹیز ہیں۔ اس لیے حکومت امپورٹڈ گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹیز گھٹانے اور امپورٹڈ CBU یونٹس کے لیے ٹیکسز کم کرنے پر کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

موجودہ پالیسی (‏2016-21) کی آخری تاریخ 30 جون ہے۔ نئی پالیسی (‏2022-26) اگلے ہی دن یعنی یکم جولائی 2021 سے جگہ لے لے گی۔

حکومت نئی آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی (ADP) کا حتمی مسودہ مارچ تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جب ایسا ہوگا تو ہمیں دیکھیں گے کہ یہ خبریں کس حد تک درست ہیں۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.